امریکی سپریم کورٹ کا تاریخ ساز فیصلہ

تاثیر 21 فروری ۲۰۲۶:- ایس -ایم- حسن

امریکہ کی سپریم کورٹ نے حال ہی میں صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی ٹیرف پالیسی کو غیر قانونی قرار دے کر اسے منسوخ کر دیا ہے۔ اس فیصلے سے ٹرمپ کی معاشی پالیسی کو شدید دھچکا لگا ہے۔یہ معاشی پالیسی ان کی خارجہ اور اقتصادی حکمت عملی کا مرکزی ستون تھی۔حالانکہ  ٹرمپ نے ا س فیصلے کو’’مضحکہ خیز‘‘ قرار دیتے ہوئے ججوں پر شدید تنقید کی ہے۔ ساتھ ہی کہا ہے کہ یہ ملک کے لئے ’’شرمناک‘‘ ہے۔ ٹرمپ کایہ ردعمل امریکہ سمیت پوری دنیا میں موضوع بحث بنا ہوا ہے۔امریکی میڈیا اور دانشور طبقہ اسے جمہوری اداروں پر حملے کے طور پر دیکھ رہا ہے۔
  وال سٹریٹ جرنل نے اپنے اداریے میں ٹرمپ کے ردعمل کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔ جرنل کا کہنا ہے کہ ٹرمپ نے ججوں پر ذاتی حملہ کر کے اپنا قد چھوٹا کیا ہے۔ انہیں سپریم کورٹ سے معافی مانگنی چاہئے۔ جرنل نے ٹرمپ کے بیانات کو’’انتہائی سخت‘‘ قراردیتے ہوئے کہا ہے کہ ممکنہ طور پر یہ ججوں کیخلاف تشدد کا باعث بن سکتے ہیں۔ اس اداریہ میں واضح طور پر یہ کہا گیا ہے کہ ٹرمپ اور ان کی پالیسیاں قانون سے بالاتر نہیں ہیں۔ عالمی سطح کی مشہور پرائیویٹ امریکی کمپنی ’’ بلومبرگ ایل پی‘‘نے اس فیصلے کے معاشی اثرات پر روشنی ڈالی ہے۔ساتھ ہی یہ بھی کہا ہے کہ اب 170 ارب ڈالر کے ریفنڈ کی لڑائی شروع ہو سکتی ہے۔اگر ایسا ہوتا ہے تو ظاہر ہے یہ صورتحال ٹرمپ کی جارحانہ پالیسی کے خلاف ہے۔’’ نیویارک ٹائمز‘‘ نے سپریم کورٹ کے فیصلے کو ’’تاریخ ساز‘‘  قرار دیاہے۔ساتھ ہی یہ تبصرہ کیا ہے کہ اقتصادی، آئینی اور سیاسی طور پر اس کے وسیع اثرات مرتب ہوں گے۔ ٹائمز کا موقف ہے کہ سپریم کورٹ نے اپنی آزادی کا مظاہرہ کیا ہے۔یہ ٹرمپ کی دوسری ٹرم کے لئے شدید نقصاندہ ہے۔
امریکہ کا دانشور طبقہ ٹرمپ کی تنقید کو جمہوریت کی روح کے خلاف مانتا ہے۔اس کا کہنا ہے کہ ٹرمپ کی پالیسی کا مقصد تجارت کو منصفانہ بنانا تھا، جو بعض ملکوں کےلئے درست بھی ہو سکتا ہے۔ تاہم، اس کا طریقہ کار غیر آئینی تھا۔حالانکہ ٹرمپ نے فوری طور پر 10 فیصد کی نئی گلوبل ٹیرف کا اعلان کرکے متکبرانہ انداز میں یہ اعلان کیا ہے کہ وہ اپنی پالیسی کو جاری رکھیں گے۔ یہ نئی ٹیرف ممکنہ طور پر عالمی معیشت کو مزید غیر یقینی حالات میں ڈالےگی۔تاہم، سپریم کورٹ کا فیصلہ گویا ایک سنگ میل ہے ۔اسے صدر کی من مانی پر ایک مضبوط لگام کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔بھارت کے تناظر میں بھی سپریم کورٹ کا یہ فیصلہ امید افزا ہے۔
  دریں اثناٹرمپ نےپی ایم نریندر مودی کو ’’عظیم لیڈر اور دانشمند شخص‘‘ قرار دیا ہے ۔ساتھ ہی یہ کہا ہے کہ دونوں ملکوں کے درمیان اب ’’فئیر ڈیل‘‘ ہو چکی ہے۔ ٹرمپ کے اس بیان کو بھارت کی سفارتی کامیابی کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔ظاہر ہے،بھارت جو امریکہ کے ساتھ متوازن تجارت کو برقرار رکھنے میں کامیاب رہا ہے، امریکہ کا اہم تجارتی پارٹنر ہے، ٹرمپ کی پرانی ٹیرف سے متاثر ضرورر ہوا تھا، خاص طور پر اسٹیل اور ایلومینیم پر نافذ ٹیرف کے معاملے میں۔مگر اب یہ فیصلہ بھارتی برآمدات کو فروغ دے سکتا ہے، کیونکہ ٹیرف کی منسوخی سے امریکی مارکیٹ میں بھارتی مصنوعات کی قیمت کم ہوگی۔ بھارت کی معیشت، جو تیزی سے ابھر رہی ہے، اس سے فائدہ اٹھا سکتی ہے۔ مثال کے طور پر، آئی ٹی، فارماسیوٹیکل اور ٹیکسٹائل سیکٹرز میں بھارتی کمپنیاں مزید مواقع حاصل کر سکتی ہیں۔ حالانکہ 10 فیصد والی نئی ٹیرف سے بھارت کو بھی چیلنج کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے، لیکن مودی حکومت کی سفارتی حکمت عملی سےاس کو بھی نمٹا جا سکتا ہے۔
بھارت نے ہمیشہ آزاد تجارت کی حمایت کی ہے اور امریکہ کے ساتھ متوازن معاہدوں پر زور دیا ہے۔ چنانچہ مانا جا رہا ہے کہ یہ فیصلہ عالمی تجارت کو مزید شفاف بنائے گا۔اس سے بھارت جیسے ترقی پذیر ملکوںکیلئے فائدہ مند ہوگا۔ایسے میں بھارت کو چاہیے کہ اس موقع سے فائدہ اٹھاتے ہوئے امریکہ کے ساتھ مزید معاشی شراکت داری کو مضبوط کرے، جو دونوں ملکوں کی ترقی کے لئے ضروری ہے۔دوسری جانب سپریم کورٹ کا مذکورہ فیصلہ جمہوریت کے بھی حق میں ہے۔اس نے دنیا کو یہ پیغام دیا ہے کہ قانون کی حکمرانی سب سے بالاتر ہے۔  کوئی بھی انفرادی طاقت جمہوری اداروں کو کمزور نہیں کر سکتی ہے۔ بھارت کے لئے یہ ایک اچھا موقع ہے کہ وہ اپنی معاشی پوزیشن کو مزید مستحکم کرے اور عالمی تجارت میں اپنا کردار ادا کرے۔ اگر بھارت اپنی جمہوری اقدار اور سفارتی صلاحیتوں کو برقرار رکھے، تو یہ چیلنجز مواقع میں تبدیل ہو سکتے ہیں۔
********