مصنوعی ذہانت کے دور میں تحقیقی اخلاقیات کامسئلہ نازک ہو گیاہے:- پروفیسر محمد اسد ملک۔

تاثیر 6 فروری ۲۰۲۶:- ایس -ایم- حسن

ارریہ :- ( مشتاق احمد صدیقی ) مصنوعی ذہانت کے اس دور میں تحقیقی اخلاقیات کامسئلہ پیچیدہ اور نازک ہوگیاہے۔محقق اگر پہلے سے کوئی مفروضہ قائم کرلے اور اسی کو ثابت کرنے کے لئے سارا زور صرف کرے تو صورت حال مزیدالجھ جاتی ہے۔محقق کی ذمہ داری ہے کہ وہ اپنی پیشرو تحقیقات کاتجزیہ کرے ۔علمی دنیامیں سرقے کامسئلہ کئی سطح پر بحث طلب ہے۔چنانچہ قانون نے بھی اس کے لیے سزامتعین کی ہے۔سرقہ ہوبہو بھی ہوسکتا ہے ،بنیادی خیالات کی نقل بھی ہوسکتا ہے ،حادثاتی طورپربھی ایک دوسرے کی تحقیق سے مماثل ہوسکتاہے لیکن سرقے کی ایک نوعیت خود اپنی تحریروں کی نقل بھی ہے۔ سرقے کاایک سبب کاہلی اور دوسراسبب کم علمی ہے۔ان خیالات کااظہارپروفیسر محمد اسد ملک(فیکلٹی آف لا جامعہ ملیہ اسلامیہ)نے ’تحقیق میں علمی سا  لمیت اور اخلاقیات‘کے موضوع پر شعبۂ اردوجامعہ ملیہ اسلامیہ نئی دہلی کے زیر اہتمام توسیعی خطبہ پیش کرتے ہوئے کیا۔ واضح رہے کہ صدر شعبۂ اردو پروفیسر کوثر مظہری کی سربراہی میں سالانہ توسیعی خطبات کاسلسلہ جاری ہے۔اس خطبے کے صدارتی فرائض انجام دیتے ہوئے قائم مقام صدرشعبہ پروفیسرندیم احمدنے کہاکہ پروفیسر محمداسد ملک نے جس طرح سے تحقیق کے معیار پرزور دیا ہے اور اشاعتی اخلاقیات کی طرف توجہ مبذول کرائی ہے وہ ریسرچ اسکالر اور اساتذہ کے لیے خصوصی اہمیت کاحامل ہے ۔خطبے کے کنوینر پروفیسر محمد عمران احمد عبدلیب نے مہمان مقرر کامفصل تعارف پیش کرتے ہوئے ان کااستقبال کیا۔شعبہ کے استاد ڈاکٹرسید تنویرحسین نے پروفیسر محمداسد ملک کی خدمت میں گلدستہ پیش کیا۔پروگرام کاآغاز شعبہ کے ریسرچ اسکالر عبد الرحمن کی تلاوت اور اختتام ڈاکٹر مشیر احمد کے تشکرپر ہوا۔اس موقع پر پروفیسر شہزاد انجم ،پروفیسر شاہ عالم،پروفیسر سرور الہدی،ڈاکٹرخالد مبشر،ڈاکٹر محمد مقیم ،ڈاکٹر جاوید حسن ، ڈاکٹرراہین شمع،ڈاکٹرشاداب تبسم،ڈاکٹرمحمد آدم ،ڈاکٹرنوشاد منظر،ڈاکٹرثاقب عمران ،ڈاکٹرشہنواز فیاض،ڈاکٹرمخمور صدری، ڈاکٹرثاقب فریدی،ڈاکٹرراحت افزا اورڈاکٹرمحمدشجاع کے علاوہ کثیرتعداد میں ریسرچ اسکالز اور طلبہ اور طالبات موجود تھے۔