بھارت کی سفارتی دانشمندی

تاثیر 14 فروری ۲۰۲۶:- ایس -ایم- حسن

بنگلادیش میں 13 ویں پارلیمانی انتخابات نے ایک نئی تاریخ رقم کی ہے۔ بنگلادیش نیشنلسٹ پارٹی (بی این پی) نے دو تہائی سے زیادہ نشستوں پر کامیابی حاصل کر کے فیصلہ کن فتح حاصل کی۔ یہ نتیجہ نہ صرف بنگلادیش کی اندرونی سیاست میں بڑی تبدیلی لائے گا بلکہ جنوبی ایشیا کے استحکام کے لئے بھی اہم ہے۔ اس تاریخی موقع پر بھارت نے اپنے پڑوسی ملک کے ساتھ مثبت اور اصول پر مبنی سفارت کاری کا ایک شاندار نمونہ پیش کیا۔
وزیراعظم نریندر مودی نے فتح کے چند گھنٹوں بعد ہی بی این پی کے چیئرمین طارق رحمٰن سے ٹیلی فون پر بات کی اور انہیں گرمجوشی سے مبارکباد دی۔ یہ کال اس وقت کی گئی تھی، جب رسمی نتائج بھی مکمل طور پر سامنے نہیں آئے تھے۔ وزیراعظم مودی نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر اپنی پوسٹ میں لکھا کہ وہ طارق رحمٰن کی قیادت میں بی این پی کی ’’شاندار‘‘ اور ’’فیصلہ کن‘‘ فتح پر خوش ہیں۔ انہوں نے واضح طور پر کہا کہ بھارت ایک جمہوری، ترقی پسند اورخوشحال بنگلادیش کا مسلسل ساتھ دے گا۔ یہ الفاظ نہ صرف بنگلادیش کے عوام لئے باعث احترام ہیںبلکہ بھارت کی ’’نیبر ہڈ فرسٹ ‘‘پالیسی کو بڑی شدت کے ساتھ ظاہر کرتے ہیں۔
بھارت اور بنگلادیش کے درمیان گہرے تاریخی، ثقافتی اور جغرافیائی رشتے ہیں۔ 2024 میں شیخ حسینہ کی حکومت کے خاتمے کے بعد تعلقات میں کچھ کشیدگی آئی تھی، لیکن وزیراعظم مودی نے اس موقع پر فوری اور مثبت پیش قدمی کر کے دکھا دیا کہ بھارت پڑوسی ملک کی منتخب حکومت کے ساتھ تعاون کے لئے تیار ہے۔ ان کی یہ کال اور بیانات بھارت کی پالیسی کی تسلسل کو ظاہر کرتے ہیں کہ وہ خطے میں جمہوریت، استحکام اور باہمی ترقی کو ترجیح دیتا ہے۔
وزیراعظم مودی نے اپنی پوسٹ میں دو اہم باتیں دہرائی ہیں۔ پہلی، بھارت بنگلادیش کے عوام کی آکاؤنٹیبلٹی اور ترقی کےلئے حمایت جاری رکھے گا۔ دوسری، دونوں ملکوں کے درمیان گہرے رشتوں کی بنیاد پر امن، خوشحالی اور مشترکہ ترقی کے اہداف کو آگے بڑھایا جائے گا۔ یہ پیغام نہ صرف سفارتی طور پر درست ہے بلکہ خطے کی مجموعی سلامتی کے لئے بھی انتہائی اہم ہے۔ بھارت نے اس سے واضح کیا کہ وہ بنگلادیش کی نئی حکومت کے ساتھ پانی کی تقسیم، تجارت، رابطہ کاری، سرحدی تحفظ اور دیگر معاملات میں تعاون بڑھانا چاہتا ہے۔
بھارت کی یہ دانشمندانہ سفارت کاری اس لئے بھی قابل تعریف ہے کہ اس نے ماضی کے تلخ تجربات کے باوجود آگے بڑھ کر رابطہ قائم کیا۔ 2001-2006 کے دور میں دہشت گردی کے واقعات نے اعتماد کو نقصان پہنچایا تھا، لیکن اب بھارت نے ایک نئی شروعات کی ہے۔ بی این پی کی انتخابی مہم میں بھارت مخالف کوئی بیان سامنے نہ آنا اور’’دوست ہاں، مالک نہیں‘‘  جیسے نعرے نے بھی مثبت ماحول بنایا۔ وزیراعظم مودی کی فوری مبارکباد نے اس ماحول کو مزید مستحکم کیا ہے۔ظاہر ہے، اس قدم سے بھارت کی علاقائی قیادت اور ذمہ دارانہ رویے کی عکاسی ہوتی ہے۔ جنوبی ایشیا میں استحکام کے لئے بھارت اور بنگلادیش کا باہمی تعاون ناگزیر ہے۔ وزیراعظم مودی کی قیادت میں بھارت نے ایک بار پھر ثابت کیا ہےکہ وہ پڑوسیوں کے ساتھ اصول پر مبنی، باہمی احترام اور ترقی پر مبنی رشتے قائم کرنے کا خواہشمند ہے۔
بہر حال، وزیراعظم نریندر مودی کی فوری، گرمجوش اور اصول پر مبنی پیش قدمی نے ایک بار پھر یہ واضح کر دیا ہے کہ بھارت خطے میں امن، استحکام اور باہمی ترقی کا سب سے بڑا حامی اور ذمہ دارفریق ہے۔ جب پڑوسی ملک میں جمہوری عمل کے ذریعے نئی حکومت بنتی ہے تو بھارت فوری طور پر اسے تسلیم کرتا ہے اور تعاون کی راہ ہموار کرتا ہے۔ یہ رویہ نہ صرف سفارتی دانشمندی کی علامت ہے بلکہ اس سے بھارت کی پڑوسیوں کے ساتھ دیرینہ دوستی اور باہمی اعتماد کی بنیاد کو بھی مزید مضبوطی حاصل ہوتی ہے۔ اگر دونوں طرف سے ایمانداری اور عملی اقدامات کیے جائیں تو یہ تعلقات نہ صرف دوطرفہ فائدہ مند ہوں گے بلکہ خطے میں امن و خوشحالی کی ایک نئی مثال قائم ہوگی ۔ طارق رحمٰن اور ان کی ٹیم سے توقع ہے کہ وہ اس موقع کو ضائع نہیں ہونے دیں گے اور دونوں ممالک کے درمیان دوستی کو نئی بلندیوں تک پہنچائیں گے۔
******************