تاثیر 28 فروری ۲۰۲۶:- ایس -ایم- حسن
آخر اسرائیل اور امریکہ نے کل صبح ایران پر حملے کر ہی دئے۔ اسرائیل نے پہلے ایرانی فوجی اڈوں اور خفیہ اداروں کو نشانہ بنایا ، اس کے بعد امریکی فضائیہ نے بھی کارروائی کی۔پھر دیکھتے ہی دیکھتے تہران، قم، اصفہان، کرمانشاہ، کراج اور لورستان سمیت کئی شہروں میں دھماکوں کی آوازیں گونجنے لگیں۔ سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای کے دفتر اور صدر کے محل کے قریب بھی دھماکے ہوئے۔ ایرانی عوام میں خوف اور غصہ دونوں ہیں۔حملوں کا آغاز کل دن کےتقریباً 11:30 بجے ہوا۔ اسرائیلی فوج نے اپنے شہریوں کو الرٹ کرتے ہوئے کہا ہےکہ ایران سے میزائل حملہ ہو سکتا ہے۔ اسرائیل نے اپنا فضائی حدود مکمل طور پر بند کر دیا ہے۔ ایران نے بھی یہی قدم اٹھایا ہے۔ دونوں ممالک میں ہنگامی حالات ہیں۔ ایران نے بھی جواب میں اسرائیل پر بیلسٹک میزائلیں داغی ہیں۔ اسرائیل میں بھی کچھ جگہوں پر دھماکوں کی اطلاع ملی ہے۔
یہ حملے در اصل ایران کے جوہری پروگرام کو روکنے کے نام پر کیے گئے ہیں۔ امریکہ کا مطالبہ ہے کہ ایران یورینیم کی افزودگی مکمل طور پر بند کر دے۔ ایران کہتا ہے کہ یہ اس کا جائز حق ہے اور وہ پرامن مقاصد کے لئے استعمال کر رہا ہے۔ جنیوا میں ہونے والی بات چیت ناکام ہوئی تو فوراً یہ فوجی کارروائی شروع ہو گئی ہے۔ امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ کا کہنا ہے کہ ایران کبھی جوہری ہتھیار نہیں بنا سکتا ہے۔اگر ایسا کیا تومریکہ اس کے جوہری ٹھکانوں کو تباہ کر دے گا۔ ٹرمپ نے ایرانی عوام سے حکومت کے خلاف اٹھنے کی بھی اپیل کی۔
رپورٹ کے مطابق یہ حملے صرف ایران تک محدود نہیں ہیں۔ ایران نے بحرین، سعودی عرب، کویت، قطر اور متحدہ عرب امارات میں امریکی فوجی اڈوں پر بھی میزائل داغے ہیں۔ اس سے پورا خطہ جنگ کی لپیٹ میں آ گیا ہے۔ عراق، قطر اور دیگر ممالک نے اپنے فضائی حدود بند کر دیے ہیں۔ ہوائی سفر معطل ہو گیا ہے۔ کل ایئر انڈیا کی دہلی-تل ابیب فلائٹ واپس موڑ دی گئی۔ تہران میں موجود بھارتی سفارتخانے نے وہاں رہنے والے بھارتی شہریوں سے گھروں میں رہنے اور باہر نہ نکلنے کی اپیل کی ہے۔
یہ حملے ایران کی علاقائی پالیسی کا بدلہ معلوم ہوتے ہیں۔ ایران فلسطین، لبنان، یمن اور شام میں مزاحمتی گروپوں کی حمایت کرتا ہے۔ امریکہ اور اسرائیل اسے برداشت نہیں کر پا رہے۔ ایران نے پابندیوں کے باوجود اپنی معیشت کو سنبھالا ہے ۔ ساتھ ہی اس نے اپنی دفاعی صلاحیت بڑھائی ہے۔ اب یہ حملے اس کی طاقت کو توڑنے کی کوشش ہیں۔تاہم ، ایران کمزور نہیں ہوا ہے۔ سپریم لیڈر آیت اللہ خامنہ ای کی قیادت میں ایرانی عوام اور فوج متحد ہیں۔ ریوولوشنری گارڈز اور بیلسٹک میزائلوں کی طاقت سے ایران نے واضح کر دیا ہے کہ وہ جارحیت کا جواب دے گا۔ ہرمز آبنائے بند کرنے کی صلاحیت بھی ایران کے پاس ہے، جو عالمی تیل کی سپلائی کو متاثر کر سکتی ہے۔
ماہرین کے مطابقیہ جنگ نہ صرف ایران کی بقا کی لڑائی ہے بلکہ پورے خطے کی آزادی اور خودمختاری کی جدوجہد ہے۔ عالمی برادری کو سامراجی طاقتوں کی اس جارحیت کی کھل کر مذمت کرنی چاہیے۔ روس، چین اور دیگر ممالک کو ایران کے ساتھ کھڑا ہونا چاہیے۔ بھارت جیسے ممالک کو بھی خاموشی توڑ کر اپنا موقف واضح کرنا چاہیے، کیونکہ یہ جنگ خطے کے امن اور عالمی معیشت کو شدید نقصان پہنچا رہی ہے۔ بھارت ایران سے تیل درآمد کرتا ہے اور اس کے ہزاروں شہری وہاں رہتے ہیں، لہٰذا اسے سفارتی سطح پر مداخلت کرنی چاہیے تاکہ تنازع کو بات چیت سے حل کیا جا سکے۔
تاریخ گواہ ہے۔ایران مشکل وقت میں نہیں جھکتا ہے۔ 1979 کی اسلامی انقلاب سے لے کر 1980-88 کی ایران-عراق جنگ تک، ایران نے ہمیشہ اپنے اصولوں پر قائم رہتے ہوئے، دشمنوں کو شکست دی ۔ آج ایک بار پھر ایرانی عوام اور قیادت کو ثابت کرنا ہے کہ جارحیت کے سامنے وہ ڈٹ کر کھڑے رہیں گے۔ ایرانی عوام کی متحدہ آواز بھی یہ بتا رہی ہے کہ یہ قوم اپنی آزادی اور وقار پر کوئی سمجھوتہ نہیں کرے گی۔ امن اور انصاف کی جنگ میں ایران اکیلا نہیں ہے۔ فلسطین، لبنان، یمن اور شام کی مزاحمتی تحریکیں اس کی حمایت میں کھڑی ہیں۔ اسلامی دنیا کو بھی ایران کی پشت پناہی کرنی چاہیے، کیونکہ یہ صرف ایک ملک کی لڑائی نہیں بلکہ سامراجی بالادستی کے خلاف عالمی جدوجہد ہے۔ اگر ایران کمزور پڑا تو پورا مشرق وسطیٰ امریکی اور اسرائیلی قبضے کا شکار ہو جائے گا۔ لہٰذا، ایرانی قیادت کو اپنی دفاعی حکمت عملی کو مزید موثر بنانا چاہیے، جبکہ عالمی سطح پر سفارتی محاذ کو بھی مضبوط رکھنا ضروری ہے۔ یہ وقت اتحاد کا ہے، جہاں ایران کی فتح ان شاء اللہ پورے عالم اسلام کی فتح کی تاریخ لکھے گی۔
**********

