تاثیر 14 فروری ۲۰۲۶:- ایس -ایم- حسن
تل ابیب،14فروری(ہ س)۔امریکی طیارہ بردار بحری جہاز یو ایس ایس جیرالڈ آر فورڈ مشرق وسطیٰ کے خطے کی طرف بڑھ رہا ہے تاکہ بحیرہ عرب میں موجود “ابراہم لنکن” کے ساتھ شامل ہو سکے۔ اسی دوران اسرائیلی فوج کے ترجمان ایفی ڈیفرین نے ہفتے کے روز بتایا کہ فوج مشرق وسطیٰ کے مختلف حصوں میں ہونے والی پیش رفت پر نظر رکھے ہوئے ہے۔ انہوں نے زور دیا کہ تمام محاذوں پر افواج انتہائی الرٹ اور تیار ہیں۔ ڈیفرین نے واضح کیا کہ ہوم فرنٹ کی ہدایات میں اب تک کوئی تبدیلی نہیں کی گئی ہے اور انہوں نے کہا کہ کسی بھی نئی پیش رفت کا اعلان فوری طور پر کیا جائے گا۔یہ اس وقت سامنے آیا جب باخبر ذرائع نے انکشاف کیا کہ امریکی طیارہ بردار بحری جہاز “یو ایس ایس جیرالڈ آر فورڈ” مشرق وسطیٰ کی طرف روانہ ہوگا تاکہ بحیرہ عرب میں موجود “ابراہم لنکن” کے ساتھ شامل ہو سکے۔ منصوبوں سے واقف ایک شخص نے بتایا کہ دنیا کے سب سے بڑے طیارہ بردار جہاز کو بحیرہ کیریبین سے مشرق وسطیٰ کی طرف روانہ ہونے کے احکامات ملے ہیں۔ ایسے وقت میں ہوا جب ٹرمپ ایران کے خلاف فوجی کارروائی کے امکان پر غور کر رہے ہیں۔ٹرمپ نے گزشتہ روز خطے میں دوسرا طیارہ بردار جہاز بھیجنے کا کہا تھا لیکن نہ تو انہوں نے اور نہ ہی امریکی بحریہ نے جہاز کے نام کی وضاحت کی تھی۔ انہوں نے جمعرات کی شام وائٹ ہاوس میں ایک پریس کانفرنس کے دوران اس بات کی بھی تصدیق کی کہ وہ ایک ماہ کے اندر ایران کے ساتھ معاہدہ کرنا چاہتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ہمیں ایک معاہدہ کرنا ہوگا، ورنہ یہ بہت تکلیف دہ ہوگا، بہت زیادہ تکلیف دہ۔ میں نہیں چاہتا کہ ایسا ہو۔اسی دوران، یورپی یونین کی ایوی ایشن سیفٹی ریگولیٹری اتھارٹی نے گزشتہ شام بلاک کی ایئر لائنز کو مشورہ دیا کہ وہ 31 مارچ تک ایرانی فضائی حدود سے باہر رہیں۔ رائٹرز کے مطابق اتھارٹی نے کہا کہ وہ اپنی سابق وارننگ میں توسیع کر رہی ہے۔

