کیرل ہائی کورٹ کا فیصلہ: نفرت کے خلاف ایک مثبت قدم

تاثیر 26 فروری ۲۰۲۶:- ایس -ایم- حسن

بھارت دنیا کی سب سے بڑی جمہوریت ہے ۔مگر آج یہ ایک ایسے دور سے گزر رہا ہے، جہاں فن اور اظہار کی آزادی کی آڑ میں بعض عناصر سماجی ہم آہنگی کو مسلسل آنکھیں دکھا رہے ہیں۔ اسی دوران کیرل ہائی کورٹ نے ’’  د ی کیرل اسٹوری 2: گوز بیانڈ‘‘ کے نام سے بنی ایک فلم کی ریليز پر 15 دنوں کی روک لگا دی ہے۔ یہ فلم، جووِپُل امرت لال شاہ کے بینر تلے بنی ہے،اس پر کیرل ریاست کو بدنام کرنے اور فرقہ وارانہ ہم آہنگی کو بگاڑنے کے الزامات لگے ہیں۔ کورٹ نے اپنے فیصلے میں واضح طور پر کہا ہے کہ پہلی نظر میں معلوم ہوتا ہے کہ فلم لوگوں کی سوچ کو بگاڑنے اور سماجی اتحاد کو کمزور کرنے کی صلاحیت رکھتی ہے۔کورٹ نے سینٹرل بورڈ آف فلم سرٹیفیکیشن (سی بی ایف سی) کو بھی تنقید کا نشانہ بنا تے ہوئے کہا ہے کہ سرٹیفیکیشن کے وقت گائیڈ لائنز کی پوری طرح پابندی نہیں کی گئی ہے۔ پروگرام کے مطابق فلم آج 27 فروری کو ہی ریلیز ہونے والی تھی۔
  فلم کے خلاف کورٹ کا دروازہ کھٹکھٹانے والوں میں کئی لوگ شامل ہیں۔ان میںشری دیو نمبودری نام کے ایک شخص کا کردار بہت  اہم ہے۔شری دیو نمبودری نے اپنی عرضی میں واضح طور پر نشاندہی کی ہے کہ فلم کا ٹائٹل اور مواد کو غلط طریقے سے پیش کیا گیا ہے۔ فلم کی کہانی تین مختلف ریاستوں کی خواتین پر مبنی ہے ۔ان میں پیش کئے جانے والے زیادہ تر واقعات کا تعلق شمالی بھارت سے ہے، لیکن ٹائٹل میں کیرل کا استعمال کرکےریاست کی شبیہ کو داغدار کرنے کی کوشش کی گئی ہے۔ اس کے برعکس سی بی ایف سی کے وکیل نے دیگر فلموں جیسے’’دلی بلی‘‘ اور’’چنئی ایکسپریس‘‘ کی مثالوں کے ساتھ عدالت میں کہا کہ ٹائٹل سے ریاستوں کی بدنامی کا دعویٰ لامتناہی تنازعات کو جنم دے سکتا ہے، لیکن کورٹ نے واضح کیا کہ اظہار کی آزادی آئین کے  آرٹیکل 19(1 )  (اے) کے تحت ہے، لیکن یہ آزادی نفرت، تشدد یا سماجی انتشار پھیلانے کی اجازت نہیں دیتی ہے۔
ماہرین کا ماننا ہے کہ یہ معاملہ محض ایک فلم کی ریليز کا نہیں بلکہ یہ بھارت کی بنیادی اقدارسے جڑاہے۔ یہ ملک مہاتما گاندی کی غیر تشدد اور محبت کی تعلیمات پر کھڑا ہے۔یہاں ڈاکٹر راجندر پرساد اور سردار ولبھ بھائی پٹیل جیسے رہنماؤں نے اتحاد کی بنیاد رکھی ، سبھاش چندر بوس اور مولانا آزاد نے آزادی کی جنگ میں ہندو-مسلم اتحاد کو سب سے بڑی طاقت قرار دیا، جبکہ ڈاکٹر بھیم راؤ امبیڈکر نے آئین میں مساوات اور انصاف کو مرکزی حیثیت دی۔ لال بہادر شاستری جیسی سادگی کی علامت سمجھےجانے والے رہنما نے’’جے جوان، جے کسان ‘‘کا نعرہ دیا۔ اس طرح ہزاروں محبان وطن کی قربانیوںاور مسلسل جدو جہد کی بدولت ملک جمہوری اقدار اور تنوع کی خوبیوں سے آراستہ ہوا۔ ایسے میں تقسیم اور نفرت پر مبنی زہریلے نظریات کو یہاںکوئی جگہ نہیں ملنی چاہئے۔ ایسی فلمیں ،جو ان نظریات کی آڑ میں بنتی ہیں، ملک کے پرامن ماحول کو بگاڑنے کی کوشش ہیں۔ انہیں روکنا ضروری ہے۔اس تناظر میں کیرل ہائی کورٹ کا فیصلہ ایک مثبت مثال ہے۔اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ عدلیہ اپنی ذمہ داری کو ایمانداری سے نبھا رہی ہے۔
ظاہر ہے یہ فیصلہ اُس دلیل کے برعکس آیا ہے، جو مرکز کے موقف کے طور پر عدالت میں پیش کی گئی۔ گورنمنٹ کے ایڈوکیٹ کی طرف سے کورٹ میں دعویٰ کی گیا ہے کہ’’ فلم پبلک آرڈر کے لئے خطرہ نہیں ہے۔کرئیٹو فریڈم پر پابندی نہیں لگائی جا سکتی ہے۔‘‘ لیکن کورٹ نے اسے مسترد کردیا۔ کورٹ نے کہا کہ ایسا مواد جو جھگڑا اور قانون و انتظام کی خرابی کا باعث بنے یا سماجی ہم آہنگی میں خلل پیدا کرے اظہار کی آزادی کے دائرے میں نہیں آتا۔کورٹ کا موقف ایک متوازن نقطہ نظر پر مبنی ہے۔یہ آزادی اور ذمہ داری کے درمیان توازن قائم کرتا ہے۔ بھارت جیسے ملک میں، جہاں کثیر المذاہب سماج ہے، اس طرح کی پروپیگنڈا فلم کو روکنا دراصل جمہوریت کی حفاظت ہے۔
مہاتما گاندی جی نے کہا تھا کہ ’’نفرت کو نفرت سے نہیں، محبت سے ہی ختم کیا جا سکتا ہے۔‘‘ مگر آج کے دور کی یہ واضح حقیقت ہے کہ نظریات کے ساتھ خود ‎ مہاتما گاندھی کو بھی درکنار کرنے کی ناکام کوششیں ہو رہی ہیں۔اس کے ساتھ ہی جس طرح منصوبہ بند طریقے سے منافرت کا کروبار ہو کیا جا رہا ہے، اسے بھی پوری دنیا دیکھ رہی ہے۔اس کاروبار کو مختلف سطحوں پر آگے بڑھایا جا رہا ہے۔بعض فلمساز بھی اس کاروبار میں ملوث ہیں۔ایسے میں مانا جا رہا ہے کیرل ہائی کورٹ کا فیصلہ بھارت کی جمہوری اقدار کی جیت ہے۔ یہ فیصلہ اس بات کا ثبوت ہے کہ عدلیہ نفرت کے خلاف اور محبت کی حمایت میں کھڑی ہے۔ عوام کو بھی یہ یاد رکھنا چاہئے کہ بھارت کا اصل جوہر محبت اور تنوع میں  پوشیدہ ہے۔ بھارت کی روح میں امن اور ہم آہنگی رچی بسی ہے۔اس کومحبت کا گہوارہ بنا ئے رکھنے  میں قانون سازیہ، انتظامیہ،عدلیہ اور میڈیا سب کو اپنا کردار ادا کرنا چاہئے۔
*******************