تاثیر 15 فروری ۲۰۲۶:- ایس -ایم- حسن
نئی دہلی، 15 فروری : مہاشو راتری کے مقدس تہوار کے موقع پر اتوار کی صبح سے ہی پورے ملک میں عقیدت کا سیلاب امڈ آیا ہے۔ علی الصبح برہم مہورت کے ساتھ ہی مندروں، خاص طور پر شیوالوں اور دریائے گنگا و جمنا سمیت دیگر مقدس ندیوں اور سرووروں کے کناروں پر ’ہر ہر گنگے‘ اور ’اوم نمہ شیوائے‘ کی صدائیں گونجنے لگیں۔ وارانسی اور اوجین کے ساتھ ساتھ بھگوان رام کی نگری ایودھیا بھی شیو کی بھکتی میں ڈوب گئی ہے۔مدھیہ پردیش کے اوجین میں واقع مہاکال مندر، اتر پردیش کے وارانسی میں کاشی وشو ناتھ مندر اور جھارکھنڈ کے دیوگھر میں بابا ویدیہ ناتھ جیوترلنگ مندر میں پوجا اور ارچنا کے لیے عقیدت مندوں کی لمبی قطاریں لگی ہوئی ہیں۔ لوگ جل ابھیشیک کر رہے ہیں اور ہر ہر مہادیو کا نعرہ لگا رہے ہیں۔ قومی دارالحکومت دہلی کے چاندنی چوک واقع قدیم گوری شنکر مندر اور چھترپور کے شکتی پیٹھ میں بھی عقیدت مندوں کا جم غفیر امڈ پڑا ہے۔ اسی طرح کا منظر ممبئی کے بابل ناتھ مندر میں بھی دیکھنے کو مل رہا ہے۔ اڈیشہ میں مشہور ریت آرٹسٹ سدرشن پٹنائک نے پوری کے سمندر کنارے 17 ہزار رودرکشوں کا استعمال کرتے ہوئے ایک خوبصورت شیولنگ تیار کر کے مہاشو راتری کے جشن کو ریت پر زندہ کر دیا ہے۔

