نیٹ طالبہ کی موت کا معاملہ: اسمبلی اورکونسل میں اپوزیشن کا احتجاج

تاثیر 3 فروری ۲۰۲۶:- ایس -ایم- حسن

پٹنہ،3 فروری: نیٹ کی تیاری کر رہی ہے طالبہ کی موت معاملے میںسی بی آئی جانچ کو ہائی کورٹ یا سپریم کورٹ کے سیٹنگ جج کی نگرانی کرانے کے مطالبہ کو لیکر بہار اسمبلی اور کونسل کے پورٹیکو پر اپوزیشن نے زبردست احتجاج کیا۔احتجاج کی قیادت سی پی آئی (ایم ایل) کے قانون ساز کونسلر ششی یادو نے کی۔احتجاج کے دوران اپوزیشن ارکان نے حکومت اور پولیس انتظامیہ پر سنگین الزامات لگائے اور غیر جانبدارانہ تحقیقات کا مطالبہ کیا۔ راشٹریہ جنتا دل (آر جے ڈی) کا ایک قانون ساز کونسلر بھی کونسل میں موجود تھے اور انہوں نے احتجاج کی حمایت کی۔
اپوزیشن ارکان نے الزام لگایا کہ نیٹ طالبہ کی موت معاملے میں اصل مجرموں تک پہنچنے کے بجائے پولیس متوفی طالبہ کے اہل خانہ کو ہراساں کر رہی ہے۔ راشٹریہ جنتا دل (آر جے ڈی) کے لیڈروں نے کہا کہ بار بار پوچھ گچھ کرکے خاندان کو ذہنی اذیت دی جارہی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ پولیس کا کردار مشکوک ہے اور ابتدائی تفتیش میں سنگین غفلت کا ارتکاب کیا گیا ہے۔
سی پی آئی (ایم ایل) کے قانون ساز کونسلر ششی یادو نے کہا کہ بہار میں لڑکیوں کے خلاف مجرمانہ واقعات مسلسل ہو رہے ہیں۔ انہوں نے مثال کے طور پر شمبھو گرلس ہاسٹل میں طالبہ کے واقعہ اور اورنگ آباد میں چار لڑکیوں کی خودکشی کے واقعہ کا حوالہ دیا۔ششی یادو نے کہا کہ حکومت نے نیٹ طالبہ کی موت معاملے کی تحقیقات سی بی آئی کو سونپ دی ہے، لیکن محض جانچ ایجنسی کو تبدیل کرنے سے انصاف یقینی نہیں ہوگا۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ سی بی آئی کی تحقیقات ہائی کورٹ یا سپریم کورٹ کے موجودہ جج کی نگرانی میں کرائی جائے، تاکہ اس بات کو یقینی بنایا جا سکے کہ کسی بھی سطح پر ثبوت کے ساتھ چھیڑ چھاڑ نہ کی جائے اور مجرموں کو بچانے کی کوشش نہیں کی جائے۔ انہوں نے کہا کہ عدالتی نگرانی تفتیشی عمل میں شفافیت کو یقینی بنائے گی اور متاثرہ خاندان کو اعتماد فراہم کرے گی۔