وادی میں مہاجر ٹرانزٹ کیمپ قائم کرنے کی کوئی تجویز زیر غور نہیں ۔عمر عبداللہ

تاثیر 4 فروری ۲۰۲۶:- ایس -ایم- حسن

جموں, 04 فروری (ہ س)وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ نے بدھ کو قانون ساز اسمبلی کو بتایا کہ وادی میں امن و امان کی بہتر صورتحال کے پیش نظر فی الحال کشمیر مہاجرین ریلیف امداد کے تحت نئی رجسٹریشن قبول نہیں کی جا رہی۔نیشنل کانفرنس کے رکن مبارک گل کے تحریری سوال کے جواب میں وزیر اعلیٰ نے کہا کہ 12 جولائی 2023 کو چیف سکریٹری کی صدارت میں ہونے والے اجلاس میں اس معاملے کا جائزہ لیا گیا تھا، جس میں یہ فیصلہ کیا گیا کہ موجودہ حالات میں نئی رجسٹریشن کا جواز نہیں بنتا۔

انہوں نے کہا کہ کشمیری مہاجرین کی رضاکارانہ، محفوظ اور باوقار واپسی کے لیے وزیر اعظم ریٹرن و ری ہیبلیٹیشن پیکیج کے تحت رہائش، روزگار اور سماجی و معاشی تحفظ کی سہولیات فراہم کی جا رہی ہیں۔ مہنگائی اور بڑھتی لاگت زندگی کو مدنظر رکھتے ہوئے امداد میں اضافے کی تجویز وزارت داخلہ کو ارسال کی جا چکی ہے۔وزیر اعلیٰ کے مطابق 2009 میں 1618.40 کروڑ روپے کے پیکیج کے تحت مہاجرین کی روزگار، رہائش، تعلیم اور مالی تحفظ کے لیے جامع منصوبہ شروع کیا گیا تھا۔ اس میں رہائشی سہولیات، ماہانہ نقد امداد، طلبہ وظائف، روزگار کے مواقع، کسانوں و باغبانوں کے لیے مدد اور قرضوں پر سود کی معافی شامل ہے۔

انہوں نے بتایا کہ 2009 میں وزیر اعظم ری ہیبلیٹیشن پیکیج اور 2015 میں وزیر اعظم ڈیولپمنٹ پیکیج کے تحت مہاجر نوجوانوں کے لیے مجموعی طور پر 6 ہزار اسامیوں کی منظوری دی گئی تھی، جن میں سے اب تک 5896 امیدواروں کو تقرری نامے جاری ہو چکے ہیں جبکہ باقی 104 اسامیاں بھرتی کے مراحل میں ہیں۔ٹرانزٹ رہائش کے حوالے سے عمر عبداللہ نے کہا کہ 6 ہزار فلیٹس کی تعمیر کی منظوری دی گئی تھی، جن میں سے دسمبر 2025 تک 4096 مکمل ہو چکے ہیں جبکہ 1904 یونٹس مالی سال 2026-27 تک مکمل ہونے کی توقع ہے۔ مکمل شدہ فلیٹس میں سے 3250 اہل ملازمین کو الاٹ کیے جا چکے ہیں۔