نورالمالکی کا وزارت عظمیٰ کے امیدوار یت سے دستبردار ہونے سے انکار

تاثیر 24 فروری ۲۰۲۶:- ایس -ایم- حسن

بغداد،24فروری:۔عراق میں ایک بار پھر وزارت عظمی کے امید وار بننے والے سیاستدان نورالمالکی نے پیر کے روز مغربی خبر رساں ادارے ‘اے ایف پی ‘ سے بات کرتے ہوئے کہا ہے کہ وہ امریکی انتباہ اور دھمکی کے باوجود وزارت عظمیٰ کی امیدواریت سے پیچھے نہیں ہٹیں گے۔نورالماکی کو عراق میں ایران کی حامی ملیشیاوں کا حمایت یافتہ خیال کیا جاتا ہے۔ وہ اس سے قبل بھی عراق کے وزیر اعظم رہ چکے ہیں مگر انہیں امریکی دباو¿ کی وجہ سے اپنا یہ منصب اس وقت چھوڑنا پڑا تھا۔

امریکہ ایک طرف ایرانی رجیم کے خاتمے کے لیے آخری حد تک جانے کے اشارے دے رہا ہے اور دوسری جانب اس کی کوشش ہے کہ ایران کے پڑوس میں بھی کوئی ایسی حکومت نہ بنے جو ایران کی اخلاقی یا عملی حمایت کا موجب بن سکتی ہو۔اس وجہ سے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے پچھلے ماہ نورالمالکی کی وزارت عظمیٰ کے لیے نامزدگی کے بعد عراق کو دھمکی دی تھی کہ اگر ایران کی حامی حکومت بنی تو امریکہ عراق کی امداد جاری نہیں رکھے گا۔ فطری سی بات ہے امریکہ کا یہ حق ہے کہ وہ جس ملک کی چاہے حکومت تبدیل کرے اور جس ملک میں چاہے اپنی مرضی کی حکومت لائے۔ امریکہ نے تین جنوری کو وینزویلا کے صدر اور ان کی اہلیہ کے اغوا کی کامیاب واردات بھی اسی لیے کی تھی۔تاہم نورالمالکی جنہوں نے مسلح ملیشیاو¿ں کو غیر مسلح کرنے کا عندیہ دیا ہے اور لبنانی حکومت کی طرح ہتھیاروں پر صرف حکومتی فوج کی اجارہ داری سے اتفاق کیا ہے۔ نیز اپنے ملک میں غیر ملکں سفارت خانوں کے تحفظ کا بھر پور عزم ظاہر کیا۔ ان کے اس عزم کے اظہار کی اہمیت امریکہ ایران کشیدگی کی جاری لہر میں اور بھی زیادہ ہے۔