تاثیر 13 فروری ۲۰۲۶:- ایس -ایم- حسن
جموں, 13 فروری:جموں و کشمیر اسمبلی میں جمعہ کے روز اس وقت ہنگامہ آرائی دیکھنے میں آئی جب بی جے پی کے رکن اسمبلی وکرم رندھاوا نے الزام لگایا کہ وادی کشمیر سے تعلق رکھنے والے افراد نے جموں شہر میں سرکاری زمین پر قبضہ کیا ہوا ہے۔
سوالیہ وقفہ کے دوران رندھاوا کے سوال کے جواب میں سماجی بہبود کی وزیر سکینہ ایتو نے کہا کہ سرکاری ریکارڈ کے مطابق تحصیل باہو میں 688 کنال 17 مرلہ اور تحصیل جموں ویسٹ میں 579 کنال زمین غیر قانونی قبضے میں ہے۔ انہوں نے بتایا کہ یہ قبضے پرانے ہیں اور انہیں متعلقہ قوانین کے تحت ہٹایا جا رہا ہے۔
وزیر نے کہا کہ جنوری 2025 سے اب تک دونوں تحصیلوں میں قبضہ مخالف 34 مہمات چلائی گئیں جن کے نتیجے میں جموں ڈیویلپمنٹ اتھارٹی کی 140 کنال 11 مرلہ زمین واگزار کرائی گئی۔رندھاوا نے دعویٰ کیا کہ سرکاری زمین پر قائم بستیوں میں 90 فیصد افراد وادی کشمیر سے تعلق رکھتے ہیں اور حکومت کارروائی میں ناکام رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ اگر کشمیری زمین خرید کر گھر بنائیں تو کوئی اعتراض نہیں، مگر سرکاری زمین پر تعمیرات قابل قبول نہیں ہے۔
ان بیانات پر حکمران جماعت جموں و کشمیر نیشنل کانفرنس کے اراکین نے سخت اعتراض کیا۔ وزیر سکینہ ایتو نے الزامات مسترد کرتے ہوئے کہا کہ قبضوں کے مسئلے کو علاقائی رنگ نہیں دیا جانا چاہیے اور جموں و کشمیر کو اس بنیاد پر تقسیم نہیں کرنا چاہیے۔اس دوران رندھاوا ایوان کے وسط میں پہنچ گئے اور فوری کارروائی کا مطالبہ کیا۔ وزیر نے بتایا کہ مستقبل میں قبضے روکنے کے لیے باڑ اور سائن بورڈ نصب کیے گئے ہیں جبکہ جموں میونسپل کارپوریشن ،محکمہ مال اور پولیس بھی کارروائی میں تعاون کرتے ہیں۔

