! ملک کے مفاد کو مقدم رکھیں

تاثیر 11 فروری ۲۰۲۶:- ایس -ایم- حسن

سابق آرمی چیف جنرل ایم ایم نروا نے کی غیر شائع شدہ کتاب ’’فور اسٹارز آف ڈیسٹینی‘‘ کے حوالے سے سیاسی ہنگامہ اپنے عروج پر ہے۔اس کی وجہ سے پارلیمنٹ کی کارروائی بھی بری طرح متاثر ہے۔ اپوزیشن لیڈر راہل گاندھی نے اس کتاب کا حوالہ دے کر پچھلے دنوں حکومت پر الزامات لگائے تھے، جبکہ حکومت نے انہیں جھوٹ اور پارلیمنٹ کو گمراہ کرنے کا الزام عائد کیا ہے۔ پبلشر پینگوئن رینڈم ہاؤس انڈیا نے کتاب کی کسی بھی شکل میں اشاعت سے انکار کیا ہے۔دوسری طرف اس کتاب کے لیک ہونے کی تحقیقات دہلی پولیس نے شروع کر دی ہیں۔ اس تنازع نے نہ صرف سیاسی بحث کو ہوا دی ہے بلکہ اب قومی سیکورٹی، پارلیمنٹ کے وقار اور دستاویزی اعتبار کے حوالے سوالات بھی اٹھنے لگے ہیں۔
واقعہ کی بنیاد پارلیمنٹ کے بجٹ سیشن کے دوران اس وقت پڑ گئی تھے ، جب راہل گاندھی نے لوک سبھا میں کتاب کی ایک کاپی لہرا کر دعویٰ کیا تھا کہ یہ جنرل نروا نے کی ’’یاد داشت‘‘ پر مبنی ہے۔ انہوں نے کتاب سے مبینہ طور پر اقتباسات پڑھنے کی کوشش کی، جن میں چین کے ساتھ سرحدی تنازعات، گلوان تصادم اور حکومت کی پالیسیوں پر تنقید شامل تھی۔ راہل گاندھی کا موقف تھا کہ یہ کتاب حکومت کی ناکامیوں کو بے نقاب کرتی ہے، خاص طور پر چین کے معاملے میں۔ تاہم، لوک سبھا اسپیکر نے غیر شائع شدہ کتاب کا حوالہ دینے کی اجازت نہیں دی، جس سے ایوان میں ہنگامہ برپا ہو گیا اور متعدد بار کارروائی ملتوی کرنی پڑی۔
اپوزیشن لیڈر راہل گاندھی کے اس رویہ کی حکومت کی جانب سے سخت تنقید کی جا رہی ہے۔ پارلیمانی امور کے مرکزی وزیر کرن رجیجو نے کل ایک پریس کانفرنس میں راہل پر الزام لگایا کہ انہوں نے پارلیمنٹ کو گمراہ کیا اور بے بنیاد بیانات دیے۔ ان کا کہنا تھا کہ پارلیمنٹ میں الزامات لگانے کے لیے ٹھوس ثبوت اور نوٹس کی ضرورت ہوتی ہے، جسے راہل نے نظر انداز کیا۔ حکومت نے راہل کے خلاف پریولیج موشن لانے کا اعلان کیا ہے۔ بی جے پی کے رکن پارلیمنٹ نشی کانت دوبے نے مزید سخت موقف اختیار کرتے ہوئے کہا ہے کہ اگر کتاب شائع ہی نہیں ہوئی ہے تو راہل کو یہ کاپی کیسے ملی؟  نشی کانت دوبے راہل سے پوری کتاب دکھانے، ملک سے معافی مانگنے اور ان کی پارلیمنٹ کی رکنیت منسوخ کرنے کا مطالبہ کیا۔ مرکزی وزیر پرہلاد جوشی نے بھی راہل کو نصیحت کی ہے کہ پارلیمنٹ کوئی ڈراما کی جگہ نہیں، جہاں بغیر ثبوت کے الزامات لگائے جائیں۔ انہوں نے زور دیا کہ چیئر کی عزت اور پارلیمنٹ کی وقار برقرار رکھنا سب کی ذمہ داری ہے۔ بی جے پی کے دیگر لیڈران جیسے سدھانشو تریویدی اور روی شنکر پرساد نے پینگوئن کے بیان کا حوالہ دے کر راہل کو جھوٹا قرار دیا ہے ساتھ ہی یہ بھی کہا ہے کہ یہ کاپی رائٹ کی خلاف ورزی ہے۔
دوسری جانب، راہل گاندھی اور کانگریس کا موقف ہے کہ یہ تنازع حکومت کی ناکامی چھپانے کی کوشش ہے۔ راہل نے پارلیمنٹ کے باہر میڈیا سے بات کرتے ہوئے کل کہا کہ یا تو جنرل نروا نے نے جھوٹ بولا ہے یا پینگوئن نے۔ انہوں نے جنرل کے ایک پرانے 2023 کے ٹویٹ کا حوالہ دیا، جس میں کتاب کی دستیاب ہونے کی بات کی گئی تھی۔ راہل کا دعویٰ ہے کہ کتاب میں بیان کیے گئے حقائق حکومت اور پی ایم کے لیے تکلیف دہ ہیں، اس لئے اسے دبانے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ کانگریس کا کہنا ہے کہ یہ آزادی ٔاظہار اور اپوزیشن کی آواز دبانے کی سازش ہے۔ وہ یہ بھی کہتے ہیں کہ کتاب آن لائن دستیاب تھی اور اس کے اقتباسات پر بحث ضروری ہے تاکہ سرحدی مسائل کی حقیقت سامنے آئے۔
پبلشر پینگوئن رینڈم ہاؤس انڈیا نے اپنے بیان میں واضح کیا کہ کتاب کی اشاعت کے حقوق صرف ان کے پاس ہیں اور یہ ابھی تک کسی بھی شکل میں شائع نہیں ہوئی۔ انہوں نے غیر مجاز کاپیوں کی گردش کو کاپی رائٹ کی خلاف ورزی قرار دیا اور قانونی کارروائی کی دھمکی دی ہے۔ جنرل نروا نے نے خود سوشل میڈیا پر پینگوئن کے بیان کو شیئر کر کے اشاعت سے انکار کیا ہے۔ وہ پہلے بھی کہہ چکے ہیں کہ سرحدی علاقوں میں ایک انچ بھی زمین نہیں گنوائی گئی ہے۔بھارت نے چین کا مقابلہ کامیابی کے ساتھ کیا  ہے۔ تاہم، کتاب وزارت دفاع کی کلیئرنس کا انتظار کر رہی ہے، جو سابق فوجی افسران کی یادداشتوں کے لیے لازمی ہے۔ دہلی پولیس کی اسپیشل سیل نے کتاب کے لیک ہونے پر ایف آئ آردرج کی ہے اور پینگوئن کو نوٹس بھیجا ہے۔
  یہ تنازع فی الحال سیاسی ہتھیار بن چکا ہے۔ ایک طرف حکومت پارلیمنٹ کے وقار اور قوانین کی پاسداری کی بات کر رہی ہے، جو درست ہے، کیونکہ غیر شائع مواد کا استعمال سوالات کےگھیرے میں آتاہے۔ دوسری طرف، اپوزیشن سرحدی مسائل پر بحث کا مطالبہ کر رہی ہے، جو قومی مفاد میں ہے۔ تاہم، اس تنازع سے پارلیمنٹ کی پیداواریت متاثرہو رہی ہے۔اہم مسائل پیچھے چھوٹ رہے ہیں۔یہ بھی سوال ہے کہ غیر مجاز کاپی راہل گاندھی کو کیسے دستیاب ہوئی ؟  قومی سیکورٹی کے معاملے میں احتیاط ضروری ہے، کیونکہ فوجی یادداشتیں حساس معلومات رکھتی ہیں۔حالانکہ اس معاملے کو سیاسی ہتھیار بنانے کے بجائے قانونی اور شفاف طریقے سے حل کیا جا نا چاہئے۔ اگر کتاب شائع ہوئی ہے تو اس کے حقائق کی جانچ ضروری ہے، ورنہ لیک کی ذمہ داری طے کی ہونی چاہئے۔تمام اراکین کی ذمہ داری ہے کہ سیاسی مفاد سے اوپراٹھ کر پارلیمنٹ کو بحث کا مرکز بنائیں نہ کہ ہنگامے کا۔ یہ وقت کا تقاضہ ہے کہ بر سر اقتدار اور اپوزیشن، دونوں جماعتوں کے اراکین ملک کے مفاد کو مقدم رکھیں۔