تاثیر 2 فروری ۲۰۲۶:- ایس -ایم- حسن
قاہرہ،02فروری:مصر کی جانب سے غزہ کی پٹی کے زخمیوں کے استقبال کے لیے سینا کے ہسپتالوں میں عملے کو انتہائی چوکس کر دیا گیا ہے۔ دوسری جانب رفح سرحدی راہ داری کے ذریعے غزہ کی پٹی میں واپسی کا پہلا مرحلہ شروع ہو چکا ہے۔رفح راہ داری کھلنے کے ساتھ ہی اسرائیل نے گذشتہ اتوار کو غزہ کی پٹی میں داخل ہونے والے فلسطینیوں کی جانچ کے لیے ایک خصوصی راہ داری قائم کرنے کا اعلان کیا تھا۔ اسرائیلی فوج نے رفح راہ داری کے ذریعے غزہ واپس جانے والوں کے لیے ایک چیک پوائنٹ کی وڈیو بھی جاری کی ہے جہاں چہروں کی شناخت اور باریک بینی سے تلاشی کا عمل انجام دیا جائے گا۔اسرائیلی فوج کے مطابق واپس آنے والوں کو اس وقت تک غزہ کے دیگر علاقوں میں منتقل نہیں کیا جائے گا جب تک وہ اسرائیلی چیک پوائنٹ “ریگاویم” سے نہیں گزر جاتے۔ یہ کارروائی آج پیر سے شروع ہونی ہے۔
اسرائیلی نشریاتی ادارے نے با خبر حکام کے حوالے سے بتایا ہے کہ اسرائیل آج پیر سے روزانہ 50 مریضوں کو غزہ سے باہر جانے کی اجازت دے گا اور ہر مریض کے ساتھ صرف دو تیمار داروں کو جانے کی اجازت ہوگی۔ ذرائع کے مطابق رفح راہ داری پہلے مرحلے میں روزانہ 6 گھنٹے (صبح 9 بجے سے دوپہر 3 بجے تک) کام کرے گی۔یورپی یونین کا مشن رفح راہ داری کے عمل کی نگرانی کرے گا۔ یہ مشن اسرائیلی فوج کی نگرانی میں کرم ابو سالم راہ داری کے ذریعے غزہ کی پٹی میں داخل ہو گیا ہے۔ یہ مشن فلاڈلفیا راہ داری کے راستے رفح راہ داری پہنچے گا تاکہ اسے فلسطینیوں کے لیے کھولا جا سکے۔ایک فلسطینی ذریعے نے “العربیہ” اور “الحدث” کو بتایا کہ عالمی ادارہ صحت اور ریڈ کراس، راہ داری پر موجود فلسطینی عملے کے ساتھ مل کر غزہ کے ہسپتالوں سے مریضوں اور زخمیوں کو رفح راہ داری تک پہنچانے کے انتظامات کر رہے ہیں۔ ذریعے نے مزید کہا کہ شمالی سینا میں العریش اور بئر العبد کے مصری ہسپتال غزہ سے آنے والے مریضوں کے علاج کے لیے تیار ہیں۔

