مشرق وسطیٰ میں بڑھتی کشیدگی

تاثیر 22 فروری ۲۰۲۶:- ایس -ایم- حسن

مشرق وسطیٰ میں حالات تیزی سے بگڑ رہے ہیں۔ امریکہ نے اپنے فوجیوں کو مختلف اڈوں سے منتقل کرنا شروع کر دیا ہے۔ یہ سب اُس وقت ہو رہا ہے جب ایران کے ساتھ براہ راست جنگ کا خطرہ بڑھ گیا ہے۔’’دی جیروسلم پوسٹ‘‘ اورنیویارک ٹائمز‘‘ کی رپورٹس کے مطابق، قطر کا العدید ایئر بیس، جو امریکہ کا سب سے بڑا اڈہ ہے، وہاں سے سینکڑوں فوجیوں کو دوسری جگہوں پر بھیجا جا رہا ہے۔ بحرین، عراق، شام، کویت، سعودی عرب، اردن اور متحدہ عرب امارات کے امریکی اڈوں پر بھی کچھ اسی طرح کی ہلچل دیکھی جا رہی ہے۔
امریکی افسران کو ڈر ہے کہ اگر جنگ چھڑ گئی تو یہاں موجود 30 سے 40 ہزار فوجی ایران کے نشانے پر آ سکتے ہیں۔ ماہرین کہتے ہیں کہ اب اگر ٹکراؤ ہوا تو یہ جون 2025 والے حملے سے بالکل مختلف ہوگا۔ اس بار ایران نے پہلے سے کوئی اطلاع نہیں دی ہے۔ اقوام متحدہ میں ایران کے مشن نے واضح کر دیا ہے کہ اگر امریکہ نے حملہ کیا تو علاقے میں موجود اس کے تمام اڈے اور املاک کوہم اپنے نشانے پرلے لیں گے۔چنانچہ اس خطرے سے بچنے کے لئے امریکہ نے اپنے ایئر ڈیفنس سسٹم کو مضبوط کیا ہے اور دو بڑے طیارہ بردار جہازوں کو ایران کی سرحد سے کافی دور رکھ دیا ہے تاکہ وہ آسانی سے نشانہ نہیں بن سکیں۔ یہ تیاریاں بتاتی ہیں کہ امریکہ ایک لمبی لڑائی کے لئے تیار ہو رہا ہے۔ ٹرمپ انتظامیہ باہر سے تو سفارتی گفتگو کی بات کر رہی ہے، مگر اندر سے ایران پر حملے کی منصوبہ بندی بھی چل رہی ہے۔ رپورٹس میں یہ بھی آیا ہے کہ ٹرمپ نے ایران میں حکومت بدلنے کا خیال ظاہر کیا تھا، جس سے کشیدگی اور بڑھ گئی ہے۔
سمجھا جا رہا ہے کہ امریکہ کی یہ نقل و حرکت اپنے فوجیوں کی جان بچانے کے لئےہے۔ ماضی میں عراق اور افغانستان کی جنگوں سے لے کر ایران پر پابندیوں تک، امریکہ نے ہمیشہ اپنی طاقت برقرار رکھنے کی کوشش کی ہے۔ ایران پہلے سے ہی امریکی پابندیوں اور اسرائیل کی جارحیت کا شکار ہے۔ اب وہ اپنے ملک اور عوام کے تحفظ کے لئے سخت رویہ اختیار کر رہا ہے۔ایسے میں اس کے موقف سمجھنے کی ضرورت ہے۔ وہ اپنے جوہری پروگرام کو پرامن بتاتاہے اور کہتا ہے کہ وہ صرف اپنا دفاع کر رہا ہے۔ اقوام متحدہ کے چارٹر کے مطابق ہر ملک کو اپنی خودمختاری کا حق ہے۔ ایران کی دھمکیاں اس کی مجبوری ہیں۔ سعودی عرب اور اسرائیل کی جارحانہ پالیسیوں کے سامنے ایران کا یہ ردعمل متوازن لگتا ہے۔ امریکہ ایک طرف بات چیت کی پیشکش کرتا ہے، مگر دوسری طرف فوجی تیاریاں کر کے ایران پر دباؤ ڈال رہا ہے۔ اگر امریکہ اپنی بالادستی کی خواہش چھوڑ دے تو ایران کی تجاویز ایک اچھا حل ثابت ہو سکتی ہیں۔
مانا جا رہا ہے کہ یہ کشیدگی امریکہ اور ایران تک محدود نہیں رہےگی۔اس سے پورا مشرق وسطیٰ متاثر ہو سکتا ہے۔ تیل کی قیمتیں آسمان چھو سکتی ہیں، علاقائی اتحاد ٹوٹ سکتے ہیں اور انسانی بحران بڑھ سکتا ہے۔ سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات جیسے امریکی اتحادی بھی اس لڑائی میں شامل سکتے ہیں۔ ایران اپنے اتحادیوں جیسے حزب اللہ اور حوثیوں کے ذریعے جواب دے سکتا ہے، جس سے جنگ علاقائی سطح پر پھیل جائے گی۔ اس صورتحال سے نکلنے کا واحد راستہ سفارت کاری ہے۔ایسے میں امریکہ کو اپنی جارحانہ سوچ بدلنی چاہئے اور ایران کے ساتھ کھلے دل سے بات چیت کرنی چاہئے۔ اپنی دفاعی تدابیر کو جاری رکھتے ہوئے ایران کو بھی سفارتی راستہ اپنانا چاہئے۔جبکہ اقوام متحدہ اور یورپی یونین کو بھی فوری طور پر مداخلت کرنی چاہئے تاکہ یہ کشیدگی جنگ کی صورت نہیں اختیار کر سکے۔ خدا نخواستہ اگر حالات بگڑے تو ظاہر ہے،پورے خطے کا امن امان درہم برہم ہوجائےگا۔یہ وقت جارحیت کا نہیں، بلکہ عقلمندی اور امن کی کوشش کا ہے۔ ایران کی دفاعی پوزیشن کو سمجھتے ہوئے امریکہ کو پیچھے ہٹنا چاہئے اور مذاکرات کی راہ ہموار کرنی چاہئے۔ ورنہ یہ چھوٹی سی چنگاری پورے خطے کو آگ لگا سکتی ہے۔ایک بار پھر دنیا کو غیر ضروری جنگ کی طرف دھکیلا گیا  تواس  کے ذمے داروں کو تاریخ کبھی معاف نہیں کرے گی۔یہ بات سب کے ذہن میں رہنی چاہئےکہ امن کی راہ چھوڑ کر طاقت کی زبان بولنے والے، آخر کار تاریخ کے کٹہرے میں ضرور کھڑے ہوتے ہیں۔
**********