اردو ادب کے معروف شاعر و ادیب پروفیسر ایم کمال الدین کا انتقال اردو دنیا کا عظیم خسارہ: پروفیسر آفتاب اشرف

تاثیر 23 فروری ۲۰۲۶:- ایس -ایم- حسن

 دربھنگہ (پریس ریلیز ) منفرد لب و لہجہ کے شاعر، استاذ، ادیب اور للت نارائن متھلا یونیورسٹی شعبہ اردو کے فاونڈر، سابق صدر شعبہ پروفیسر ایم کمال الدین کے انتقال پُر ملال پر جگہ جگہ تعزیتی نشست کا سلسلہ جاری ہے۔ اس ضمن میں آج متھلا یونیورسٹی کے شعبہ اردو میں بھی تعزیتی نشست منعقد ہوا۔ جس میں شعبہ کے اساتذہ کرام، ریسرچ اسکالر و طلباء شامل ہوئے۔ نشست کی صدارت صدر شعبہ اردو پروفیسر افتخار احمد نے کی۔ تعزیتی نشست سے خطاب کرتے ہوئے سابق صدر شعبہ پروفیسر آفتاب اشرف نے کہا کہ وہ میرے مخلص استاذ تھے، زمانہ طالب علمی سے لیکر آخر دنوں تک ان کی محبتیں ملتی رہی، ان کا طریقہ درس نہایت دلچسپ اور بامعنی ہوتا تھا۔ اردو زبان کے ساتھ فارسی زبان پر بھی یکساں مہارت رکھتے تھے، بہار بالخصوص متھلا میں اردو زبان و ادب کے حوالے سے ان کی تحقیقی، تخلیقی اور تنقیدی کاوشات و نگارشات غیر معمولی اہمیت کے حامل ہیں۔ مجھے یاد آتا ہے دوران درس ان کی طبیعت میں سنجیدگی کے ساتھ شوخی ظرافت کا عنصر غالب ہوتا تھا۔ ان کا طریقہ درس اتنا دلنشیں ہوتا تھا کہ پیچدہ سے پیچیدہ مسئلے کو بھی وہ اپنے خاص انداز میں سہل کر دیتے تھے۔ اللہ نے انہیں کئی خوبیوں سے نوازا تھا۔شعبہ کے استاذ ڈاکٹر محمد مطیع الرحمن نے کہا کہ پروفیسر ایم کمال الدین نہایت خلیق اور ملن سار تھے۔طلبا کے ساتھ ہمیشہ مشفقانہ معاملہ فرماتے، انہوں نے اردو ادب میں گراں قدر اضافہ کیا، درجنوں کتابوں کے مصنف و مولف تھے۔ ان کی اہم کتابوں میں ریزہ خیال (انشائیہ کا مجموعہ)، بیسویں صدی میں اردو قصیدہ نگاری، قصیدے کا فن اور اردو قصیدہ نگاری، تنقید کی زبان، چاندنی دھوپ کی (خود نوشت)، قصیدہ نگاران بہار اور شعور لاشعور( مجموعہ غزلیات و منظومات) وغیرہ شامل ہیں جو ان کی شاہکار ہے۔ شعبہ کی استاذ ڈاکٹر ناصرین ثریا نے تعزیتی بیان میں پروفیسر ایم کمال الدین کو اردو ادب کا درخشاں ستارہ بتاتے ہوئے کہا کہ ان کا انتقال اردو دنیا کے لیے بڑا حادثہ ہے۔ انہوں نے ہمیشہ طالب علمانہ زندگی گزاری، اپنے گراں قدر خدمات کی وجہ سے اردو ادب میں وہ ہمیشہ زندہ جاوید رہیں گے۔ صدارتی خطاب میں صدر شعبہ پروفیسر افتخار احمد نے کہا کہ پروفیسر ایم کمال الدین اردو ادب کے شہسوار تھے۔ متھلایونیورسٹی میں شعبہ اردو کے قیام کو لیکر ان کی کوششیں اور جدوجہد آب زر سے لکھے جائیں گے۔ شعبہ کو مستحکم بنانے میں انہوں نے نمایاں کردار ادا کیا ۔ وہ ہردلعزیز شخصیت کے مالک تھے، پروفیسر کمال الدین کا انتقال ایک عہد کا خاتمہ ہے۔ اللہ ان کی درجات کو بلند کرے اور جنت الفردوس میں اعلیٰ مقام عطا کرے۔ نشست کا اختتام ڈاکٹر مطیع الرحمن کے دعائیہ کلمات سے ہوئی۔ تعزیتی نشست میں شریک ہونے والوں میں آر این آر اے کالج سمستی پور کے اسسٹنٹ پروفیسر ڈاکٹر ضیاءالحق، ریسرچ اسکالر خورشید عالم انصاری، عائشہ پروین، محمد عارف اقبال، انیس الرحمن، محمد سہیل کے نام قابل ذکر ہیں