تاثیر 1 فروری ۲۰۲۶:- ایس -ایم- حسن
خلیج فارس میں ایک بار پھر جنگی بادل چھائے ہوئے ہیں۔ امریکی جنگی بحری جہازوں کی بڑی تعداد علاقے میں موجود ہے اور صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے ایران کو دی جانے والی سخت وارننگز جاری ہیں۔ ٹرمپ نے کہا تھا کہ ’’وقت ختم ہو رہا ہے‘‘۔ دوسری طرف ایران کے رہنما واضح طور پر کہہ رہے ہیں کہ وہ کسی دباؤ میں نہیں آئیں گے۔ اس صورتحال میں عرب اور مسلم ممالک، خاص طور پر سعودی عرب، متحدہ عرب امارات، قطر، عمان اور ترکی، سخت محنت کر رہے ہیں کہ کسی طرح یہ کشیدگی کم ہو اور جنگ نہ چھڑے۔
ایران امریکہ کی ان شرائط کو ماننے سے صاف انکار کر رہا ہے، جن میں جوہری پروگرام مکمل طور پر بند کرنا، بیلسٹک میزائل بنانا چھوڑنا، حزب اللہ اور حوثیوں کو سپورٹ بند کرنا اور اسرائیل کو تسلیم کرنا شامل ہے۔ ایران کا موقف ہے کہ یہ شرائط اس کی خودمختاری اور سلامتی پر حملہ ہیں۔ ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی کا کہنا ہے کہ ’’ہم اپنی میزائل اور دفاعی صلاحیتوں پر کوئی سمجھوتہ نہیں کریں گے‘‘۔ ترکی کے وزیر خارجہ ہاکان فیدان نے بھی واضح کیا کہ اسرائیل امریکہ کو ایران کے خلاف جنگ کے لئے اکسا رہا ہے اور یہ پورے علاقے کی سلامتی کے لئے خطرناک ہوگا۔
خلیجی ممالک کو سب سے بڑا خوف اس بات کا ہے کہ اگر امریکہ نے ایران پر حملہ کیا تو جواب میں ایران خلیج میں تیل کی تنصیبات اور شپنگ روٹس کو نشانہ بنا سکتا ہے۔ اس سے نہ صرف علاقائی معیشت تباہ ہوگی بلکہ عالمی تیل کی قیمتوں میں بھی بے تحاشا اضافہ ہو جائے گا۔ اسی وجہ سے سعودی عرب، یو اے ای اور عمان نے اعلان کر دیا ہے کہ وہ اپنے فضائی حدود یا زمینی علاقے کو ایران پر امریکی حملے کےلئے استعمال نہیں ہونے دیں گے۔ سعودی ولی عہد محمد بن سلمان نے ایرانی صدر مسعود پزشکیان سے ٹیلی فون پر بات کی ہے اور یقین دلایا ہے کہ سعودی عرب کسی جارحیت کا حصہ نہیں بنے گا۔ یو اے ای نے بھی یہی اعلان کیا ہے۔ حتیٰ کہ آذربائیجان نے بھی اپنا موقف واضح کر دیا ہے۔
ظاہرہے کہ یہ اعلانات ٹرمپ انتظامیہ کے لئے ایک بڑا دھچکا ہیں۔حالانکہ سعودی عرب اور یو اے ای کو خدشہ ہے کہ وہ ایران کے جواب میں خود بھی نشانہ بن سکتے ہیں، جیسا کہ 2019 میں سعودی تیل تنصیبات پر حملہ ہوا تھا۔ سعودی دفاعی وزیر خالد بن سلمان واشنگٹن پہنچ چکے ہیں، جہاں وہ ٹرمپ انتظامیہ سے بات چیت کر رہے ہیں۔ترکی اس معاملے میں ایک اہم کردار ادا کر رہا ہے۔ ایرانی وزیر خارجہ کی ترکی آمد اور صدر اردگان سے ملاقات کے بعد ترکی کا کہنا ہے کہ پورے علاقے کو ایک متحدہ آواز میں بولنا چاہیے۔ ترک وزیر خارجہ کا ایک بہتر سوال سامنے آیا ہے کہ ’’اگر یورپ نے یورپی یونین بنا لی ہے تو ہم مشرق وسطیٰ میں ایسا کیوں نہیں کر سکتے ہیں؟‘‘ اس خیال کو بہت سے مبصرین نے سراہا بھی ہے۔
ایران کی پوزیشن کو دیکھیں تو وہ مشکل حالات میں ہے۔ گزشتہ سال جون میں اسرائیل کے ساتھ 12 روزہ جنگ اور اس کے بعد امریکی بمباری نے ایران کی دفاعی صلاحیتوں کو نقصان پہنچایا تھا۔ ملک کے اندر احتجاجات بھی جاری ہیں۔ لیکن ایران کا اصرار ہے کہ وہ اپنی سلامتی اور خودمختاری پر کوئی سمجھوتہ نہیں کرے گا۔ ایران نےا سٹریٹ آف ہرمزمیں لائیو فائر مشقیں شروع کر کے واضح پیغام دیا ہے کہ وہ جنگ کے لئے بھی تیار ہے۔اُدھر، ماہرین کے مطابق امریکہ کے خدشات بھی بے بنیاد نہیں ہیں۔ ایران کا جوہری پروگرام اور علاقائی گروہوں کو سپورٹ واقعی اسرائیل اور خلیجی ممالک کے لئے تشویش کا باعث ہے۔ لیکن یہ بھی طے ہے کہ دھمکیوں اور فوجی دباؤ سے مسئلہ حل نہیں ہوگا۔اب تک کی صورتحال سے یہ واضح ہے کہ عرب اور مسلم ممالک جنگ نہیں چاہتے۔ وہ سفارت کاری کے ذریعے کشیدگی کم کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ ایسے میں اگر ٹرمپ واقعی ایک ’’اچھا معاہدہ ‘‘چاہتے ہیں تو انھیں دھمکیوں کی بجائے بات چیت کا راستہ اپنانا ہوگا۔ ایران کو بھی اپنے اندرونی مسائل کو پرامن طریقے سے حل کرنے اور مذاکرات کی میز پر بیٹھنے کی کوشش کرنی چاہئے۔اگر یہ کوششیں کامیاب ہوئیں تو پورا خطہ ایک بڑی تباہی سے بچ سکتا ہے۔ ورنہ ایک غلط قدم پورے مشرق وسطیٰ کو آگ لگا سکتا ہے۔ امید ہے کہ عقلمندی غالب آئے گی اور جنگ کی بجائے امن کا راستہ اختیار کیا جائے گا۔

