ملک کی ترقی کا راز امن میں ہی مضمر

تاثیر 10 فروری ۲۰۲۶:- ایس -ایم- حسن

پچھلے دنوںآسام بی جی پی کے آفیشل ایکس ہینڈل پر پوسٹ کیا گیا ایک ویڈیو دیکھتے ہی دیکھتے پورے ملک میں شدید تنازع کا باعث بن گیا، جسے بعد میں ہٹا دیا گیا۔ اس ویڈیو میں ریاست کے وزیراعلیٰ ہیمانتا بِسوا سرما کو رائفل ہاتھ میں لیے دکھایا گیا تھا۔ اے آئی سے تیار کردہ ویڈیو کے ایک حصے میں داڑھی اور سفید ٹوپی والے کچھ لوگوں کی تصاویراور دوسر ے حصے سے ہیمانتا بِسوا سرما ان پر رائفل سے گولیاں داغتے نظر آرہے تھے۔ اسکرین پر’’فارنر فری آسام‘‘ اور’’نو مرسی‘‘  جیسے نعرے درج تھے۔ یہ ویڈیو 7 فروری کو پوسٹ ہوا اور بڑھتی تنقید کے بعد 8 فروری کو حذف کر دیا گیا۔ حالانکہ سوشل میڈیا اور سیاسی حلقوں میں اس کی سخت مذمت کرتے ہوئے اسے بھڑکاؤ اور خطرناک قرار دیے جانے کا سلسلہ اب بھی جاری ہے۔
ویڈیو میں دو افراد کی تصاویر استعمال ہوئی تھیں۔ان میں سے ایک کی شناخت کانگریس کے لوک سبھا رکن گورو گوگوئی کے طور پر کی گئی۔ دونوں کو سفید ٹوپی پہنے دکھایا گیا۔ اس میں’’تم پاکستان کیوں نہیں چلے گئے؟‘‘ اور ’’بنگلہ دیشیوں کے لئے کوئی معافی نہیں‘‘  جیسے پیغامات بھی شامل تھے۔ یہ مواد اس وقت سامنے آیا جب آسام میں بنگالی نژاد مسلمانوں کے حوالے سے سیاسی بیان بازی پہلے ہی شدت اختیار کر چکی ہے۔اس ویڈیو کے تعلق سے وزیراعلیٰ ہیمانتا بِسوا سرما نے ایک انٹرویو میں کہا ہے کہ انہوں نے ویڈیو نہیں دیکھا ہے، کیونکہ پارٹی کے ڈیجیٹل پلیٹ فارم کو الگ ٹیم سنبھالتی ہے۔ انہوں نے یہ بھی واضح کیا کہ وہ بنگلہ دیشی غیر قانونی تارکین وطن کے خلاف اپنا موقف برقرار رکھیں گے۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر ان کے خلاف مقدمہ درج ہوا تو وہ گرفتاری کے لئے تیار ہیں، لیکن اپنے بیانات پر قائم رہیں گے۔
سوشل میڈیا پر ویڈیو کے وائرل ہوتے ہی ، ملک کےامن پسند عوام کے ساتھ ساتھ چند سیاسی جماعتوں کی طرف سے بھی شدید ردعمل سامنے آنے لگا تھا۔ آل انڈیا مجلس اتحاد المسلمین کے سربراہ اسد الدین اویسی نے ایکس پر پوسٹ کرتے ہوئے وزیراعلیٰ کے خلاف قانونی کارروائی کی درخواست کی اور اسے نفرت پھیلانے اور قتل عام کی کال قرار دیا۔ کانگریس نے آفیشل بیان میں کہا کہ یہ ویڈیو اقلیتوں کی ہلاکت کے لئے عوام کو اکسانے کے مترادف قرار دیا۔ ترنمول کانگریس نے بھی اسے انتہائی ناپسندیدہ قرار دیا اور کہا کہ ایک منتخب وزیراعلیٰ کا مسلمانوں پر پوائنٹ بلینک گولی چلانے کا ڈراما قبول نہیں کیا جا سکتا۔تجزیہ کاروں کا خیال ہے کہ یہ ویڈیو جمہوری اقدار کے لیے تشویش ناک ہے۔ کسی کمیونٹی کی طرف رائفل تاننے کا مظاہرہ صحت مند جمہوریت کا اشارہ نہیں دیتا۔
سیاسی مبصرین کے مطابق یہ تنازع آسام میں اسمبلی انتخابات سے پہلے پولرائزیشن کو ہوا دینے کے لئے کھڑا کیا گیا ہے۔آسام میں شناخت، شہریت اور ہجرت کے مسائل مرکزی حیثیت رکھتے ہیں۔ مبصرین کا یہ بھی کہنا ہے کہ اس ویڈیو نے بادی النظر میں یہی ظاہر کیا ہے کہ حکومت تسکین کی سیاست کے باوجود اپنی مقبولیت پر مکمل مطمئن نہیںہے۔ چنانچہ اسے الیکشن جیتنے کے لئے پولرائزیشن کی ضرورت محسوس ہو رہی ہے۔
  بہر حال یہ تنازع پی آئی ایل ( پبلک انٹرسٹ لٹیگیشن)کی صورت میں سپریم کورٹ پہنچ چکا ہے۔ اس میں وزیراعلیٰ اور دیگر اعلیٰ عہدیداران پر نفرت پھیلانے اور غیر ذمہ دارانہ بیانات کا الزام لگایا گیا ہے۔ سپریم کورٹ نے 10 فروری کو اس کی فوری سماعت پر اتفاق کیا ہے۔
ماہرین کا خیال ہے کہ ہر بار پولرائزیشن سے سیاسی فائدہ نہیں ملتا۔بعض اوقات یہ سماج میں تقسیم کا باعث اور سماجی ہم آہنگی کے سامنے سنگین چیلنج بن کر کھڑا ہو جاتا ہے۔ اگرچہ بی جے پی اسے اے آئی سے تیار کردہ اور صرف غیر قانونی تارکین وطن کے خلاف بتاتی ہے اورمخالفین اسے اقلیتوں کے خلاف حملہ قرار دیتے ہیں۔ ایسے میں سوال ہے کہ ’’ اقتدار کی سیاست کے اس مکروہ پیچ و خم میں ملک آخر کب تک الجھا رہے گا اور سیاسی مہمات میں اخلاقی قدروں کو کب تک نظر انداز کیا جاتا رہے گا ؟ اس طرح کے سوالات کو ہم اور ہمارے رہنما آخر کب تک ٹالتے رہیں گے ؟ کیا ہم بھول گئے ہیں کہ ملک کی خوشحالی اور ترقی کا راز امن میں ہی مضمر ہے ؟!