تاثیر 23 فروری ۲۰۲۶:- ایس -ایم- حسن
گزشتہ چند دنوں کے درمیان اتر پردیش سے دو متضاد تصاویر سامنے آئی ہیں، جو ہمارے معاشرے کے دو چہرے پیش کرتی ہیں۔ ایک طرف بدایوں ضلع کےرودائن میں ایک نوجوان نے ضلع بدایوں کے تھانہ سہسوان کے تحت محلہ محی الدین پور کے رہنے والے 56 سالہ عبدالسلام نام کے ایک بزرگ سمیت تین مسلمانوں کو مارا پیٹا، ان کو ٹوپی اتارنے پر مجبور کیا اور مذہبی بنیاد پر توہین آمیز رویہ اپنایا۔عبدالسلام اور ان کے ساتھیوں کے مطابق وہ رمضان کے موقع پر زکوٰۃ وصولنے نکلے تھے۔وہ تینوں بلسی تحصیل کے تھانہ اسلام پور کے موضع رودائن میں ایک راستے سے گزر رہے تھے ، اسی دوران ایک نوجوان پیچھے سے آیا اور ان کا آدھار کارڈ مانگنے لگا۔ ساتھ ہی یکایک ان لوگوں پر حملہ آور ہو گیا۔ اس کے ساتھ تین لوگ اور تھے۔ اس واقعے کا ویڈیو سوشل میڈیا پر بڑی تیزی سے گشت کر رہا ہے۔اطلاع کے مطابق ویڈیو وائرل کرنے والا وہی نوجوان ہے، جو مار پیٹ کا ملزم ہے۔یہ الگ بات ہے کہ پولیس نے خانہ پری کے طور پر اس کے خلاف ایف آئی آر درج کر نے کت بعد اسے گرفتار کر جیل بھیج دیا تھ ،لیکن جلد ہی وہ جیل سے باہر بھی آگیا۔اور اب سر عام گھوم بھی رہا ہے۔ عبدالسلام کوانصاف نہیں ملنے اور ملزم کے خلاف مناسب دفعات نہ لگانے پر ناراض ہیں۔اس واقعے کو مسلمانوں کے خلاف نفرت اور تشدد کے واقعات میں ایک افسوسناک اضافہ کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔
دوسری طرف لکھنؤ یونیورسٹی کے تاریخی لال بارادری کمپلیکس میں ایک خوبصورت منظر دیکھنے کو ملا ہے۔ رمضان کے مقدس مہینے میں یونیورسٹی انتظامیہ نے اے ایس آئی کے زیر تحفظ عمارت میں موجود مسجد کے دروازے سیکورٹی اور مرمت کے بہانے بند کر دیے تھے۔ جب مسلم طلبہ نے باہر ہی نماز ادا کرنے کا فیصلہ کیا تو ہندو طلبہ نے خود بخود ان کے ارد گرد ہاتھوں میں ہاتھ ڈال کر انسانی زنجیر بنا کر حفاظت کا بندوبست کیا۔ ظاہر ہے، اس منظرنے نہ صرف امن و امان برقرار رکھنے میں نوجوانوں کے کردار کو پیش کیا ہے بلکہ ملک کی گنگا جمنی تہذیب اور ساجھی سنسکرتی کی ایک بہترین مثال دنیا کے سامنے رکھی ہے۔ سوشل میڈیا پر اس تصویر کی جم کر تعریف ہو رہی ہے۔ سب کی زبان پر ہے کہ ہماری نوجوان نسل میں محبت اور بھائی چارہ اب بھی زندہ ہے۔
مذکورہ دونوں واقعات ایک ہی ریاست میں،کم و بیش ایک ہی وقت میں پیش آئے ہیں ، جو بھارت کے دو مختلف چہروں کو ظاہر کرتے ہیں۔ ایک چہرہ نفرت، جارحیت اور فرقہ وارانہ تقسیم کا ہے، جو چند لوگوں کی سیاسی یا ذاتی ایجنڈوں سے تقویت پاتا ہے۔ دوسرا چہرہ محبت، رواداری اور باہمی احترام کا ہے، جو ہماری مشترکہ تاریخ، ثقافت اور انسانی اقدار سے جڑا ہے۔ بدایوں کا واقعہ ایک الارم ہے کہ نفرت کی سیاست اور مذہبی بنیاد پر تشدد کو روکنا ضروری ہے، ورنہ یہ معاشرے کی بنیادوں کو کھوکھلا کر دے گا۔ اس کے برعکس لکھنؤ یونیورسٹی کا منظر اِس امید کی کرن ہے کہ جب لوگ اپنے اندر انسانی جذبات کو جگالیں گے تو نفرت کی کوئی جگہ نہیں رہے گی۔
حکومت اور معاشرے کے دانشور طبقے کو یہ پیغام واضح طور پر سننا چاہیے کہ بھارت کا اصل مزاج نفرت نہیں، محبت ہے۔ یہ ملک صدیوں سے مختلف مذاہب، زبانوں اور ثقافتوں کا گہوارہ رہا ہے۔ گنگا جمنی تہذیب، صوفیائے کرام کی روایات اور آزادی کی لڑائی میں ہندو مسلم اتحاد نے اسے مضبوط بنایا۔ جو لوگ نفرت کی سیاست کرکے اقتدار حاصل کرنے کا خواب دیکھتے ہیں، وہ مکمل مغالطے میں ہیں۔ تاریخ گواہ ہے کہ نفرت پر مبنی حکومتیں دیرپا نہیں رہتیں۔ بھارت کی تاریخ انہیں کبھی معاف نہیں کرتی، جیسا کہ ماضی میں تقسیم اور فسادات کے ذمہ داروں کو عوام نے مسترد کیا۔
ملک کی ہمہ جہت ترقی کا راز محبت اور اتحاد میں مضمر ہے۔ جب ہندو طلبہ مسلم ساتھیوں کی نماز کی حفاظت کرتے ہیں تو یہ جذبہ نہ صرف سماجی ہم آہنگی بلکہ اقتصادی اور تعلیمی ترقی کی بنیاد بھی مضبوط کرتا ہے۔ نفرت سے معیشت متاثر ہوتی ہے، سرمایہ کاری رکتی ہے اور نوجوان نسل کا مستقبل تاریک ہوتا ہے۔ اس کے برعکس بھائی چارہ اعتماد پیدا کرتا ہے، جو ترقی کی ضمانت ہے۔چنانچہ حکومت کو چاہیے کہ وہ قانون کی حکمرانی کو یقینی بنائے، تشدد کرنے والوں کے خلاف سخت کارروائی کرے اور رواداری کو فروغ دے۔ دانشور، مذہبی رہنما اور میڈیا کو بھی اپنا کردار ادا کرنا ہوگا کہ مثبت کہانیوں کو اجاگر کریں اور نفرت پھیلانے والوں کو تنہا کریں۔ لکھنؤ یونیورسٹی کے طلبہ نے جو مثال قائم کی ہے، وہ ہر شہری کے لئے مشعل راہ ہے۔ اگر ہم اسی راستے پر چلیں تو بھارت واقعی ’’سب کا ساتھ، سب کا وکاس‘‘ کا خواب پورا کر سکتا ہے۔ یقین جانیں،بھارت کے مزاج میں محبت ہے۔ نفرت اسے کمزور کرتی ہے، محبت ہی اسے طاقتور بناتی ہے۔ آئیے، ہم بھی اس محبت کو اپنائیں، تاکہ ہمارا وطن مزید مضبوط اور خوشحال ہو سکے!
*********

