تاثیر 24 فروری ۲۰۲۶:- ایس -ایم- حسن
امریکہ کی سپریم کورٹ نے گزشتہ ہفتے صدر ڈونالڈ ٹرمپ کے گلوبل ٹیرف کو کالعدم قرار دے دیا تو دنیا بھر کے ملکوں، خاص طور پر بھارت نے راحت کی سانس لی تھی۔حالانکہ اس وقت ٹرمپ نے اس فیصلے کو ’’شرمناک‘‘ اور’’بکواس‘‘ کہہ کر عدالت پر شدید حملہ کیا تھا۔ اب وہ اُن ملکوں کو دھمکا رہے ہیں، جو اس فیصلے کی روشنی میں تجارتی معاہدوں پر نظرثانی کرنا چاہتے ہیں۔ٹروتھ سوشل پر ان کی پوسٹ میں واضح طور پر یہ کہا گیا ہے :’’کوئی ملک اس بکواس فیصلے کی آڑ میں ہم سے کھیلنا چاہے، خاص طور پر وہ جو برسوں سے امریکہ کو لوٹ رہے ہیں، تو انہیں موجودہ ٹیرف سے بھی سخت سزا بھگتنی پڑے گی۔‘‘گرچہ اس طرح کی دھمکیاں عالمی تجارت کے لئے غیر یقینی حالات پیدا کر سکتی ہیں، مگر بھارت کی احتیاط پسند پالیسی اسے فائدہ پہنچا سکتی ہے۔
سپریم کورٹ کا فیصلہ کوئی معمولی جھٹکا نہیں ہے۔ 6-3 کے اکثریتی فیصلے میں کہا گیا کہ ٹرمپ نے قانون کا غلط استعمال کیا ہے۔ یہ ٹیرف، جو کینیڈا، چین اور دیگر ملکوں پر 10 سے 25 فیصد تک تھے، اب غیر قانونی ہیں۔ وال اسٹریٹ جرنل اور نیو یارک ٹائمز کی رپورٹس بتاتی ہیں کہ اس سے عالمی معیشت اربوں ڈالر بچا سکتی ہے۔ مورگن اسٹینلے کا اندازہ ہے کہ چین سے درآمدات پر اوسط ٹیرف 32 فیصد سے کم ہو کر 24 فیصد رہ جائے گا، جبکہ ایشیا کے لئے یہ 20 سے 17 فیصد تک گر سکتا ہے۔مانا جا رہا ہے کہ یہ تبدیلیاں سپلائی چینز کو مستحکم کریں گی، جو ٹرمپ کی پالیسیوں سے شدید متاثر ہوئی تھیں۔
اِدھر ٹرمپ کے رویّے نے مزید الجھن پیدا کر دیا ہے۔ فیصلے کے فوراً بعد انہوں نے نئی شق کے تحت 10 فیصد گلوبل ٹیرف کا اعلان کیا تھا، جو بعد میں 15 فیصد ہو گیا۔ یہ ٹیرف 150 دنوں تک چل سکتے ہیں، مگر ان کی قانونی حیثیت بھی شکوک و شبہات کے حصار میں ہے۔ سابق امریکی سفارت کار ایوان فیجینبوم نے ’ایکس‘پر لکھا کہ ٹرمپ کی پالیسیاں اکثر ذاتی غصے پر مبنی ہوتی ہیں۔ مثال کے طور پر، کینیڈا پر ٹیلی ویژن اشتہار کی وجہ سے، سوئٹزرلینڈ پر فون کال کے لہجے کی وجہ سے اور برازیل پر سیاسی اتحادی کے مقدمے کی وجہ سے ٹیرف لگائے گئے۔ بھارت پر روسی تیل کی خریداری کی وجہ سے 50 فیصد ٹیرف تھا، جبکہ چین، جو زیادہ تیل خریدتا ہے، اس سے بچ گیا۔تجارت کے اس دوہرے معیار پر سب کی نظر ہے۔
بھارت اس میں ایک اہم فریق ہے ۔ بلومبرگ اور رویٹرز کی رپورٹس کے مطابق، بھارت نے اپنا تجارتی وفد واشنگٹن بھیجنے کا پروگرام ملتوی کر دیاہے۔ یہ وفد اتوار کو روانہ ہونے والا تھا تاکہ عبوری تجارتی معاہدے کو حتمی شکل دی جائے۔ معاہدے کے تحت امریکہ بھارتی برآمدات پر 50 فیصد ٹیرف کو 18 فیصد تک کم کرنے پر تیار تھا، جو روسی تیل سے جڑا تھا۔ بدلے میں بھارت نے پانچ سالوں میں 500 ارب ڈالر کی امریکی مصنوعات خریدنے کا وعدہ کیا تھا۔ تجارت کے وزیر پیوش گوئل نے کہا تھا کہ یہ اپریل میں نافذ ہو سکتا ہے۔ مگر سپریم کورٹ کے فیصلے نے غیر یقینی حالات پیدا کر دئے، جس کی وجہ سے بھارت کومحتاط قدم اٹھانا پڑا ہے۔ وزارت خارجہ کا بیان سادہ ہے: ’’ہم فیصلے کا مطالعہ کر رہے ہیں۔‘‘
ظاہر ہے،یہ فیصلہ بھارت کے لئے امتحان بھی ہے اور موقع بھی۔ بھارت نے روسی تیل کی خریداری کم کی ہے، مگر توانائی کی ضروریات کے مطابق خریدنے کا حق محفوظ رکھا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اب بھارت ٹیرف ختم ہونے کے بعد معاہدے پر نظرثانی کر سکتا ہے اور بہتر شرائط کا مطالبہ کر سکتا ہے۔ سابق سفیر جے شنکر داس گپتا کا مشورہ ہے کہ امریکہ سے بات چیت جاری رکھی جائے تاکہ ان کے ارادے سمجھے جا سکیں۔ بھارت کے احتیاطی قدم کی تعریف ہونی چاہئے، کیونکہ ٹرمپ کی غیر متوقع چالیں ٹکراؤ کا سبب بن سکتی ہیں۔
اس کے علاوہ، بھارت نے تجارتی انحصار کم کرنے کے لئے آسٹریلیا، برطانیہ اور یورپی یونین جیسے ملکوں کے ساتھ فری ٹریڈ معاہدے کیے ہیں۔ یہ حکمت عملی ٹرمپ کی دھمکیوں کے سامنے بھارت کو بہتر پوزیشن عطا کرتی ہے۔ برٹش چیمبر آف کامرس کا اندازہ ہے کہ برطانیہ کو 4 ارب ڈالر کا نقصان ہو سکتا ہے، جبکہ بھارت جیسے ملک کم ٹیرف سے فائدہ اٹھا سکتے ہیں۔ایسے میں مانا جا رہا ہے کہ ٹرمپ کی دھمکیاں امریکہ کی جمہوریت کے لئے نقصاندہ ہے، مگر بھارت جیسی معیشتوں کے لئے یہ خودمختاری کا موقع ہے۔ بھارت کو ٹرمپ کی غیر یقینی پالیسیوں کے سامنے اپنے مفادات کا دفاع کرنا چاہئے اور عالمی پارٹنرز کے ساتھ رابطے مضبوط بنائے رکھنا چاہئے۔ یہ وقت احتیاط کا ہے۔ بھارت کی سمجھداری میں ہی اس کی کامیابی مضمر ہے۔
*****************

