امریکہ کا ایرانی بحری آئل ٹینکروں کو ضبط کرنے پر غور

تاثیر 11 فروری ۲۰۲۶:- ایس -ایم- حسن

واشنگٹن،11فروری:۔امریکی حکام کا کہنا ہے کہ امریکی انتظامیہ ایران کو معاہدے پر مجبور کرنے کے لیے مختلف راستوں پر غور کر رہی ہے، جن میں تہران کے تیل لے جانے والے مزید بحری جہازوں کو قبضے میں لینا بھی شامل ہے۔امریکی اخبار “وال اسٹریٹ جرنل” کے مطابق وزارت خزانہ نے رواں سال ایرانی تیل کی ترسیل کرنے والے 20 سے زائد جہازوں پر پابندیاں عائد کی ہیں، جس کے بعد وہ قبضے میں لیے جانے کے ممکنہ اہداف بن چکے ہیں۔ادھر واشنگٹن میں قائم انسٹی ٹیوٹ فار سائنس اینڈ انٹرنیشنل سکیورٹی نے اطلاع دی ہے کہ سیٹلائٹ تصاویر سے ظاہر ہوتا ہے کہ ایران کے اصفہان جوہری مقام کی طرف جانے والے تمام سرنگوں کے راستوں کو مٹی تلے دبا دیا گیا ہے۔ یہ اقدام اس تنصیب پر امریکی یا اسرائیلی حملوں کے خدشات کے پیشِ نظر ایران کی تشویش کو ظاہر کرتا ہے۔یہ پیش رفت ایک ایسے وقت میں ہوئی ہے جب اسرائیلی وزیر اعظم بنیامین نیتن یاہو اپنے وفد کے ہمراہ واشنگٹن پہنچ چکے ہیں، جہاں وہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ سے ملاقات کریں گے۔ توقع ہے کہ ان کی بات چیت کا محور سیکورٹی اور علاقائی مسائل ہوں گے، جن میں سرِفہرست ایران اور فلسطینی علاقوں کی صورتحال ہے۔وائٹ ہاوس میں امریکی صدر سے ملاقات سے قبل بنیامین نیتن یاہو نے اسٹیو وٹکوف اور جیرڈ کشنر سے ملاقات کی، جس میں ایران کے ساتھ مذاکرات کی صورتحال اور کسی ممکنہ معاہدے پر تبادلہ خیال کیا گیا۔