ایل پی جی کی قلت: حقیقت، حکومت کا موقف اور خدشات

تاثیر 16 مارچ ۲۰۲۶:- ایس -ایم- حسن

حکومت کی جانب سے تمامتر کوششوں کے باوجود ملک بھر میں ایل پی جی سِلنڈروں کی مبینہ قلت کی خبریں بڑی تیزی سے پھیل رہی ہیں۔ شہروں میں لمبی قطاریں، کالابازاری کی شکایات اور کچھ علاقوں میں ہوٹلوں اور ریسٹورنٹس کے بند ہونے کی اطلاعات نے عام آدمی کی رہی سہی پریشانی کو بڑھا دیا ہے۔ یہ صورتحال خاص طور پر دہلی، ممبئی، بنگلورو، چنئی، کولکتہ، پٹنہ ،لکھنؤ اور ملک کے دیگر بڑے شہروں میں شدید ہے ،جہاں لوگ سِلنڈر بک کرانے یا حاصل کرنے کے لئے شب و روز انتظار کرتے نظر آ رہے ہیں۔ اس بحران نے سیاسی میدان کو بھی گرم کر دیا ہے، جہاں اپوزیشن جماعتیں حکومت کی پالیسیوں پر حملہ آور ہیں اور عوام جگہ جگہ مظاہرے کر رہے ہیں۔
حکومت کا واضح موقف ہے کہ ملک میں رسوئی گیس کی کوئی بنیادی قلت نہیں ہے۔ تیل کمپنیوں اور پیٹرولیم منسٹری نے بار بار یقین دہانی کرائی ہے کہ گھریلو استعمال کے لئے سپلائی مکمل طور پر محفوظ اور بلا تعطل ہے۔ رپورٹس کے مطابق، پینک بکنگ کی وجہ سے روزانہ بکنگ کی تعداد پہلے  عارضی طور پر بڑھ 88.8 لاکھ  سے  زیادہ ہو گئی تھی، لیکن اب یہ کم ہو کر تقریباً 77 لاکھ روزانہ پر آ گئی ہے، جو پینک کی کمی کا اشارہ ہے۔ حکومت نے زور دیا ہے کہ کوئی بھی ڈسٹری بیوٹر کے پاس سِلنڈر ختم ہونے کی اطلاع نہیں ہے۔ اس کے علاوہ، آن لائن بکنگ کا تناسب 84 فیصد سے بڑھ کر 87 فیصد ہو گیا ہے، جسے حکومت نے مثبت قدم قرار دیا ہے۔
حکومت نے مزید اقدامات بھی کیے ہیں۔ ریفائنریز کو زیادہ سے زیادہ ایل پی جی پیداوار کا حکم دیا گیا ہے، جس سے گھریلو پیداوار میں 30 فیصد اضافہ ہوا ہے۔ کمرشل ایل پی جی کی سپلائی کو محدود کر کے گھریلو استعمال کو ترجیح دی گئی ہے۔ بہار، دہلی، ہریانہ اور راجستھان سمیت کئی ریاستوں نے نان ڈومیسٹک الاٹمنٹ کے لئے نئی گائیڈ لائنز جاری کی ہیں۔ اب کمرشل سِلنڈر 30 ریاستوں اور مرکز کے زیر انتظام علاقوں میں دستیاب ہیں۔پی این جی (پائپڈ نیچرل گیس) والے گھرانوں کو ایل پی جی کنکشن سرینڈر کرنے کی اپیل بھی کی گئی ہے تاکہ سپلائی بہتر طریقے سے منظم ہو۔
اس بحران کی جڑ بنیادی طور پر بین الاقوامی ہے۔ مشرق وسطیٰ میں ایران، اسرائیل اور امریکہ کے درمیان جاری تنازع کی وجہ سے ہو رمز آبنائے میں بحری آمدورفت متاثر ہوئی ہے۔ یہ دنیا کا سب سے اہم تیل اور گیس کا راستہ ہے، جہاں سے دنیا کا تقریباً پانچواں حصہ خام تیل اور بڑی مقدار میں ایل پی جی گزرتا ہے۔ بھارت اپنی 60 فیصد ایل پی جی درآمد کرتا ہے اور اس کا 85 سے 90 فیصد حصہ خلیجی ممالک سے اسی راستے سے آتا ہے۔ حالیہ دنوں میں کچھ ٹینکرز رک گئے تھے، جس سے سپلائی چین میں خلل پڑ گیا تھا۔ تاہم، اچھی خبر یہ ہے کہ دو بھارتی جہاز’’شوالک‘‘ اور ’’زندا دیوی‘‘ تقریباً 92,700    ٹن ایل پی جی لے کر ہرمز سے گزر کر آ رہے ہیں جو تقریباً 68 لاکھ سِلنڈر بھر سکتے ہیں۔ یہ بھارت کی ایک سے ڈیڑھ دن کی ضرورت کے برابر ہے۔ مزید چھ ٹینکرز بھی راستے میں ہیں۔
واضح ہو کہ یہ بحران گھریلو استعمال سے زیادہ کمرشل سیکٹر کو متاثر کر رہا ہے۔ ہوٹلوں، ریسٹورنٹس اور دیگر کاروباروں میں سِلنڈر کی قیمت بلیک مارکیٹ میں 2800 روپے تک پہنچ گئی ہے۔ کچھ شہروں میں 20 سے 40 فیصد ہوٹل بند ہو چکے ہیں۔ سیاسی سطح پر کانگریس، عام آدمی پارٹی اور دیگر جماعتیں مظاہرے کر رہی ہیں اور حکومت کو ناکام قرار دے رہی ہیں۔ بی جے پی کا موقف ہے کہ یہ بحران بین الاقوامی کشیدگی کی وجہ سے ہے اور کچھ سیاسی جماعتیں ’’پروپگنڈہ ‘‘ کے ذریعہ گمراہی پھیلا رہی ہیں۔
مجموعی طور پر، صورتحال تشویشناک تو ہے مگر حکومت کے اقدامات اور آنے والے ٹینکرز سے امید ہے کہ یہ بحران جلد قابو میں آ جائے گا۔ایسے میں عوام کو پینک سے بچنا چاہئے، آن لائن بکنگ کا استعمال کرنا چاہئے اور جہاں ممکن ہوپی این جی کی طرف منتقل ہونا چاہئے۔ حکومت کو بھی شفافیت برقرار رکھتے ہوئے سپلائی چین کی نگرانی تیز کرنی چاہئے تاکہ عام آدمی کی مشکلات کم ہوں۔ یہ بحران ہمیں یاد دلاتا ہے کہ بھارت کی توانائی کی سلامتی کے لئے درآمدات پر انحصار کم کرنے اور متبادل ذرائع تلاش کرنے کی ضرورت ہے۔
***********