وزیر زراعت کی عالمی بحران کے درمیان میٹنگ ، ‘فارمر آئی ڈی’ پروجیکٹ پر تیزی سے عمل درآمد کی ہدایت

تاثیر 25 مارچ ۲۰۲۶:- ایس -ایم- حسن

نئی دہلی، 25 مارچ :: عالمی غیر یقینی صورتحال کے درمیان، مرکزی حکومت نے زرعی شعبے کو لے کر چوکسی بڑھا دی ہے۔ مرکزی زراعت اور کسانوں کی بہبود کے وزیر شیوراج سنگھ چوہان نے بدھ کو اپنی رہائش گاہ پر ایک اعلیٰ سطحی جائزہ میٹنگ کا انعقاد کیا، جہاں کسانوں کے مفادات کے تحفظ اور آئندہ خریف سیزن کی تیاریوں پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔

اجلاس میں وزارت کے سینئر حکام کو واضح ہدایات دی گئیں کہ موجودہ عالمی صورتحال کے پیش نظر کسی قسم کی غفلت برداشت نہیں کی جائے گی۔ حکومت کی توجہ ملک میں کھادوں، بیجوں اور دیگر زرعی وسائل کی دستیابی کو یقینی بنانے اور کسانوں کو تمام ضروری خدمات بروقت حاصل کرنے کو یقینی بنانے پر مرکوز ہے۔

وزیر زراعت نے کھادوں کی بلاتعطل فراہمی کو یقینی بنانے کی ہدایت کی۔ انہوں نے “فارمر آئی ڈی” پراجیکٹ کے نفاذ کو تیز کرنے پر خصوصی زور دیا، تاکہ تقسیم کا نظام شفاف ہو اور صحیح فوائد صحیح کسانوں تک پہنچیں۔ اس مقصد کے لیے جلد ہی ریاستی وزرائے اعلیٰ اور زراعت کے وزراءکے ساتھ ایک رابطہ میٹنگ منعقد کی جائے گی۔

ذخیرہ اندوزی اور بلیک مارکیٹنگ کے خلاف سخت کارروائی

اجلاس میں واضح کیا گیا کہ عالمی بحران کا فائدہ اٹھاتے ہوئے کھاد اور بیج کی بلیک مارکیٹ یا ذخیرہ اندوزی کرنے والوں کے خلاف سخت کارروائی کی جائے گی۔ ریاستوں کو نگرانی بڑھانے اور مجرموں کے خلاف سخت کارروائی کرنے کی بھی ہدایت کی جائے گی۔

وزیر زراعت نے بیج کی پیداوار سے متعلق پہلوو¿ں کا جائزہ لیا اور بیج کو خشک کرنے کے لیے ضروری گیس اور زرعی کیمیکلز کی دستیابی کی ہدایت کی۔ انہوں نے وزارت پٹرولیم اور متعلقہ محکموں کے ساتھ بہتر تال میل کی ضرورت پر بھی زور دیا تاکہ دودھ اور دیگر زرعی مصنوعات کے پیکیجنگ میٹریل کی کوئی کمی نہ ہو۔