اروند کیجریوال اور بھگونت مان نے 109 عام آدمی کلینکس عوام کے نام کیے، پنجاب میں صحت کا انقلاب تیز

تاثیر 28 مارچ ۲۰۲۶:- ایس -ایم- حسن

نئی دہلی؍ پنجاب 28 مارچ: پنجاب میں اپنے فلیگ شپ ہیلتھ ماڈل کو مزید مضبوط کرتے ہوئے عام آدمی پارٹی (آپ) کی حکومت نے ہفتہ کے روز 109 نئے عام آدمی کلینکس عوام کے نام کر دیے، جس کے بعد ریاست میں کلینکس کی تعداد صرف چار برسوں میں بڑھ کر 990 ہو گئی ہے، جبکہ آنے والے دنوں میں مزید 400 کلینکس قائم کیے جائیں گے۔ اس اقدام کو مفت عوامی صحت کے نظام میں ایک بڑی توسیع کے طور پر پیش کیا جا رہا ہے۔ آپ کے قومی کنوینر اروند کیجریوال نے بتایا کہ ان کلینکس میں 107 ادویات اور 47 تشخیصی ٹیسٹ مکمل طور پر مفت فراہم کیے جا رہے ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ اب تک ان کلینکس میں 5 کروڑ او پی ڈی وزٹس ریکارڈ کی جا چکی ہیں، جو اس ماڈل کی کامیابی کا ثبوت ہے۔اروند کیجریوال نے کہا کہ حکومت 65 لاکھ خاندانوں کو ہیلتھ کارڈ جاری کر رہی ہے، جن میں سے 30 لاکھ کارڈ پہلے ہی بنائے جا چکے ہیں اور 1.65 لاکھ افراد ان کے ذریعے علاج حاصل کر چکے ہیں۔ انہوں نے اپنے خلاف لگائے گئے الزامات کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ انہیں اور پارٹی کے دیگر رہنماؤں کو جھوٹے مقدمات میں جیل بھیج کر کام کی سیاست کو روکنے کی کوشش کی گئی، لیکن عدالت نے تمام الزامات کو مسترد کرتے ہوئے انہیں کٹّر ایماندار قرار دیا۔فتح گڑھ صاحب میں ایک بڑے عوامی اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے اروند کیجریوال نے کہا کہ 109 نئے عام آدمی کلینکس کا افتتاح کیا، جہاں غریبوں کو مفت علاج اور دوائیں ملیں گی۔ انہوں نے کہا کہ گزشتہ چار برسوں میں 881 کلینکس پہلے ہی بنائے جا چکے تھے اور اب یہ تعداد بڑھ کر 990 ہو گئی ہے، جبکہ جلد ہی یہ تعداد تقریباً 1500 تک پہنچ جائے گی۔انہوں نے کہا کہ پنجاب کے ہر گاؤں اور محلے میں عام آدمی کلینک موجود ہوگا، جہاں ڈاکٹر کی فیس، علاج، ٹیسٹ اور ادویات سب کچھ مفت ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ گزشتہ 75 برسوں میں کانگریس، بی جے پی اور اکالی دل کی حکومتیں رہیں، لیکن کسی نے بھی ایسا نظام قائم نہیں کیا جہاں عوام کو اتنی معیاری اور مفت سہولیات مل سکیں۔اروند کیجریوال نے مزید کہا کہ چار برسوں میں پنجاب بھر میں مفت علاج کو یقینی بنایا گیا ہے اور 5 کروڑ او پی ڈی وزٹس اس بات کا ثبوت ہیں کہ عوام اس سہولت سے بھرپور فائدہ اٹھا رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ذیابیطس اور بلڈ پریشر جیسے امراض کے مریض ہر ماہ کلینکس سے دوائیں حاصل کر رہے ہیں، جبکہ دیگر افراد بھی ضرورت کے مطابق یہاں سے فائدہ اٹھا رہے ہیں۔انہوں نے بتایا کہ وزیر اعلیٰ بھگونت مان کے دفتر کی جانب سے کلینکس میں آنے والے مریضوں کو فون کر کے ان کے تجربات کے بارے میں دریافت کیا گیا، جس پر عوام نے خدمات کو بہترین قرار دیا۔لوگوں نے بتایا کہ انہیں دوائیں اور علاج بروقت ملا اور کسی قسم کی شکایت سامنے نہیں آئی۔ انہوں نے کہا کہ یہ سب کچھ وزیر اعلیٰ کے دفتر کی مسلسل نگرانی کا نتیجہ ہے۔اروند کیجریوال نے کہا کہ جب بھی کوئی معمولی مسئلہ سامنے آتا ہے تو فوری طور پر اس کا حل نکالا جاتا ہے، تاکہ کلینکس مکمل طور پر فعال رہیں۔ انہوں نے کہا کہ عام آدمی کلینکس دیگر سرکاری اداروں کی طرح نہیں ہیں جہاں چند دن بعد کام رک جاتا ہے، بلکہ یہاں ہر چیز باقاعدہ نگرانی میں چل رہی ہے۔انہوں نے مزید کہا کہ 5 کروڑ او پی ڈی وزٹس میں سے تقریباً 1.5 سے 2 کروڑ افراد نے علاج حاصل کیا اور اپنی دعائیں دی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ گزشتہ چار برسوں میں ہم نے پیسہ نہیں بلکہ عوام کی دعائیں کمائی ہیں۔اروند کیجریوال نے اپنے خلاف الزامات کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ ان پر، منیش سسودیا اور دیگر رہنماؤں پر جھوٹے کرپشن کے الزامات لگائے گئے اور انہیں جیل بھیجا گیا، لیکن عدالت نے کہا کہ ان کے خلاف کوئی ثبوت نہیں ہے اور انہیں ایماندار قرار دیا گیا۔