!الوداع آیت اللہ علی خامنہ ای

تاثیر 01 مارچ ۲۰۲۶:- ایس -ایم- حسن

ایران کی سرزمین پر غم کے بادل چھا گئے ہیں۔ آیت اللہ علی خامنہ ای، وہ عظیم رہنما، جو تین دہائیوں سے اسلامی انقلاب کی شمع کو  روشن رکھے ہوئے تھے، اب ہمارے درمیان نہیں رہے۔ امریکہ اور اسرائیل کے بزدلانہ فضائی حملوں میں شہید ہو کر وہ اللہ کو پیارے ہو چکے ہیں۔کل اتوار کی صبح جب ایران کے سرکاری ٹی وی نے اس دل دہلا دینے والی خبر کی تصدیق کی، تو نہ صرف ایران بلکہ دنیا بھر کے تمام امن پسند لوگوں کے دلوں میں رنج و غم کی لہر دوڑ گئی تھی۔ 86 سال کی عمر میں بھی ان کی ثابت قدمی اور جرات دیکھ کر دشمن لرز اٹھے تھے۔ الوداع آیت اللہ! آپ کی جدائی نے ایک ایسا خلا چھوڑ دیا ہے، جو شاید کبھی نہیں بھر سکے۔
آیت اللہ علی خامنہ ای کی زندگی جدو جہد کی داستان تھی۔ 1939 میں مشہد کے ایک مذہبی گھرانے میں پیدا ہوئے، انہوں نے بچپن سے ہی غربت اور دینداری کا مزہ چکھا۔ سوکھی روٹی پر گزارا کرنے والے اس بچے نے قرآن کی تعلیم حاصل کی اور صرف 11 سال کی عمر میں عالم دین قرار پائے۔ شاہ ایران کی آمریت کے خلاف اُن کی آواز بلند ہوئی۔ چھ بار گرفتار ہوئے، تشدد سہے، جلاوطنی کاٹی، لیکن کبھی نہیں جھکے۔ 1979 کا اسلامی انقلاب ان کی جدوجہد کا نتیجہ تھا۔ آیت اللہ روح اللہ خمینی کے ساتھ مل کر انہوں نے ایران کو سامراجی طاقتوں کی زنجیروں سے آزاد کرایا۔ انقلاب کے بعد وہ یونیورسٹی آف تہران کے کیمپس میں، جمعے کی نماز کے امام بنے۔ ان کے خطبات پورے ملک میں گونجتے تھے۔ 1981 میں بم حملے میں زخمی ہوئے، دایاں بازو ناکارہ ہو گیا، لیکن روح کی طاقت کم نہیں ہوئی۔ صدر بنے تو عراق کی جارحیت کا سامنا کیا، محاذ پر لڑے، اپنے ساتھیوں کی شہادت دیکھی۔ خمینی کی وفات کے بعد 1989 میں رہبر اعلیٰ بنے، اور پھر تیس سال تک ایران کی باگ ڈور سنبھالی۔ وہ نہ صرف ریاست کے سربراہ تھے بلکہ مسلح افواج کے کمانڈر بھی تھے۔ ان کی قیادت میں ایران نے جوہری پروگرام کو مضبوط کیا، جو مغربی طاقتوں کی آنکھوں میں ہمیشہ کھٹکتا رہا۔
ان کی خدمات کو کیسے بھلا سکتے ہیں؟ آیت اللہ نے ایران کو الگ تھلگ نہیں ہونے دیا۔ لبنان کی حزب اللہ، یمن کے حوثیوں اور دیگر مزاحمتی گروہوں کو سپورٹ کیا۔ امریکہ کی پابندیوں اور اسرائیل کی دھمکیوں کے باوجود انہوں نے کہا:’’ہم ہتھیار نہیں ڈالیں گے۔‘‘ 2015 کا جوہری معاہدہ ہو یا 2018 میں ٹرمپ کا اسے توڑنا، آیت اللہ نے ہمیشہ قوم کو متحد رکھا۔ سلیمانی کی شہادت پر بدلہ لیا، روس اور چین سے تعلقات مضبوط کیے۔ ان کی قیادت میں ایران کی نوجوان نسل نے انہیں باپ کی طرح دیکھا۔ عوامی جگہوں پر ان کی تصاویر، میڈیا میں ان کی تقریریں، سب کچھ ان کی محبت کی عکاسی کرتا تھا۔ وہ آمر نہیں تھے، بلکہ طاقت کے مراکز کو متوازن رکھتے تھے۔ خواتین کی تعلیم کو فروغ دیا، اگرچہ حجاب جیسے مسائل پر سخت تھے، لیکن ان کا مقصد اسلامی اقدار کا تحفظ تھا۔ 2022 کی مہسا امینی کی ہلاکت پر احتجاج ہوئے، تو انہوں نے ریاست کو بچایا، اگرچہ تنقید بھی سہی۔
لیکن افسوس، امریکہ اور اسرائیل کی سازشوں نے انہیں نشانہ بنایا۔ ہفتہ کو شروع ہونے والے مشترکہ حملوں میں آیت اللہ کے ٹھکانوں کو پہلے نشانہ بنایا گیا۔’’آپریشن ایپک فیوری‘‘ اور ’’لائنز روئر‘‘نے ایران میں تباہی مچا دی۔ آیت اللہ اور ان کے خاندان کے ارکان شہید ہو گئے۔در اصل یہ صرف ایک عظیم رہنما کی شہادت نہیں بلکہ ایک خودمختار ملک پر حملہ ہے۔ امریکہ کی یہ سر کشی ، جو پورے مشرق وسطیٰ کو جنگ کی آگ میں جھونکنے پر آمادہ ہے۔ اسرائیل نے تہران سمیت چھ شہروں پر حملے کیے ہیں، جبکہ ایران نے جوابی کارروائی میں اسرائیلی شہروں اور امریکی اڈوں پر میزائل داغے۔ سعودی عرب، متحدہ عرب امارات، بحرین پر بھی حملے ہوئے ہیں۔ ایسا لگتا ہے یہ تیسری عالمی جنگ کا آغاز ہے۔ امریکہ کا اتحاد (اسرائیل، برطانیہ، نیٹو) ایران کو کمزور کرنے پر تلا ہے، جبکہ ایران اکیلا لڑ رہا ہے۔ روس اور چین نے مذمت کی ہے، لیکن براہ راست مدد نہیں۔ پاکستان نے ایران کی خود دفاعی کی حمایت ضرور کی ہے، لیکن امریکہ سے وہ بھی ڈرتا ہے۔بھارت بھاری من سے حالات پر نظر بنائے ہوئے ہے اور متحدہ طور پر خطے میں امن و استحکام کا حامی ہے۔
آیت اللہ کی شہادت ایران کے لئے ایک بڑا دھچکا ہے، لیکن انقلاب زندہ رہے گا۔ ان کے جانشین کے لئے مجتبیٰ خامنہ ای (ان کے بیٹے، جو سیاسی طور پر فعال ہیں)، علی رضا ارافی، علی اصغر حجازی، ہاشم حسینی بوشہری اور حسن خمینی جیسے نام سامنے آ رہے ہیں۔رپورٹ کے مطابق ایران کا شاسانہ نظام مضبوط ہے، کوئی خلاء نہیں آئے گا۔ آیت اللہ کی میراث ہے ثابت قدمی، مزاحمت اور اسلام کی حفاظت۔ ایرانی میڈیا نے لکھا ہے:’’86 سال کے مجاہد نے اکیلے اسلام کی جنگ لڑی، جبکہ دنیا خاموش تھی۔ وہ نہ تھکے، نہ جھکے‘‘۔
الوداع عظیم رہنما! آپ کی جدائی دل کو چھلنی کر رہی ہے۔ ایران کے ساتھ ساتھ دنیا کے تمام امن پسند عوام آپ کی قربانیوں کو یاد رکھیں گے۔ایسے وقت میں دنیا کو سامراجی طاقتوں کے خلاف اُٹھ کھڑا ہونا چاہئے۔ آیت اللہ، آپ شہید ہو کر امر ہو گئے۔ اللہ آپ کو کروٹ کروٹ جنت نصیب کرے !
*********************