تاثیر 13 مارچ ۲۰۲۶:- ایس -ایم- حسن
دربھنگہ(فضاامام)-دربھنگہ میں ‘الوداع جمعہ’ کی نماز شہر کی مختلف مساجد میں ادا کی گئی۔ سجدہ ریزوں نے خشوع وخضوع کے ساتھ نماز ادا کی اور اس مقدس دن کے صدقہ میں اپنے گناہوں کی مغفرت اور عذاب جہنم سے نجات کے علاوہ نیکی کرنے اور تجارت میں برکت کی دعا مانگی۔ صبح سے ہی رمضان المبارک کے آخری جمعہ کی نماز کی تیاریاں شروع ہو گئی تھیں۔ گھروں کی صفائی کے بعد لوگ غسل وغیرہ سے فراغت کے بعد عبادت میں لگ گئے تھے۔ الوداع جمعہ کی نماز کی وجہ سے نمازیوں کے اژدہام امڈنے لگے۔ بھیڑ کو دیکھتے ہوئے لوگ ایک دو گھنٹہ پہلے ہی مساجد میں جگہ محفوظ کرنے کے لیے پہنچنے لگے تھے۔ تیز دھوپ کے باوجود 12 بجے سے ہی لوگ مساجد کا رخ کرنے لگے تھے۔دربھنگہ ٹاور مسجد، ٹاؤن تھانہ مسجد،شاہی مسجد،جھگڑوا مسجد، دمدمہ جامع مسجد، باقر گنج جامع مسجد،خانقاہ سمرقندیہ، کرم گنج، چھوٹی قاضی پورہ مسجد، پیلی مسجد روہیلا گنج، بیلال مسجد، مفتی محلہ مسجد، گنگوارہ مسجد، سارا موہن پور سمیت دیگر مساجد میں نماز سے پہلے ہی سجدہ ریزوں کی بھیڑ پہنچ گئی تھی۔ مختلف مساجد میں مختلف اوقات پر الوداع کی نماز ادا کی گئی۔ اس مبارک موقع پر مساجد میں تہوار جیسا نظارہ دیکھنے کو ملا۔ وہیں الوداع کی نماز سے قبل مساجد میں اپنے خطاب میں مقررین نے کہا کہ الوداع بہت ہی اہم ہے۔ الوداع جمعہ رمضان المبارک کے آخری عشرے میں آتا ہے۔ اس عشرہ کو آقائے نامدار حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم نے جہنم سے آزادی کا عشرہ قرار دیا ہے۔ الوداع کے بعد مسلمانوں کو عید کی شکل میں بہت بڑا اجر ملتا ہے۔ رمضان کے مہینہ میں جمعہ کی اہمیت کئی گنا بڑھ جاتی ہے۔ ساتھ ہی علماء نے نیک اعمال اور خیر کے کام کرنے کے ساتھ اچھائیوں کو اپنانے پر زور دیا۔وہیں الوداع جمعہ کی نماز کے موقع پر مساجد میں گرمی اور تپش کو دیکھتے ہوئے خاص انتظامات جیسے بجلی جنریٹر شامیانہ وغیرہ کے انتظامات کیے گئے تھے تاکہ روزہ داروں کو کسی طرح کی پریشانی واقع نہیں ہو۔ وہیں پولیس انتظامیہ کی جانب سے بھی خاص انتظامات کیے گئے تھے۔ مساجد کے باہر پولیس فورس کی تعیناتی تھی جو حساس علاقے ہیں وہاں ان علاقوں میں پولیس نے فلیگ مارچ کیا تھا۔ اتنی احتیاط اس لیے بھی برتی جارہی ہے کہ ابھی دو بڑے تہوار عید اور رام نومی ہونا ہے۔ پولیس کسی بھی طرح کی تساہلی سے بچنا چاہتی ہے تاکہ یہ پرامن ماحول میں گزریں.

