تاثیر 18 مارچ ۲۰۲۶:- ایس -ایم- حسن
پیرس،18 مارچ:مشرق وسطیٰ میں بڑھتی ہوئی کشیدگی اور آبنائے ہرمز کے دوبارہ عالمی توجہ کا مرکز بننے کے ساتھ ہی جہاز رانی اور توانائی کی فراہمی سے متعلق خدشات میں اضافہ ہو رہا ہے، جبکہ فرانس نے اس وقت آبنائے ہرمز کو کھولنے کے لیے کسی بھی فوجی کارروائی میں شرکت سے انکار کر دیا ہے۔فرانسیسی صدر عمانویل میکروں نے تصدیق کی ہے کہ موجودہ کشیدگی کے تناظر میں ان کا ملک آبنائے ہرمز کو کھولنے یا اسے محفوظ بنانے کے لیے کسی بھی آپریشن میں حصہ نہیں لے گا۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ ان کا ملک جاری تنازعے میں فریق نہیں ہے۔عمانویل میکروں نے مشرق وسطیٰ کی صورتحال پر غور کے لیے بلائے گئے کابینہ کے اجلاس کے آغاز میں کہا کہ ہم اس تنازعے میں فریق نہیں ہیں، لہٰٰذا فرانس موجودہ حالات میں آبنائے ہرمز کو کھولنے یا اسے آزاد کرانے کی کارروائیوں میں ہرگز حصہ نہیں لے گا۔انہوں نے مزید کہا کہ فرانس جنگ کے خاتمے کے بعد خطے میں جہاز رانی کی آزادی کو یقینی بنانے کے لیے ایک اتحاد کی تشکیل کی تیاریوں پر کام جاری رکھے ہوئے ہے۔

