تاثیر 08 مارچ ۲۰۲۶:- ایس -ایم- حسن
ہمسایہ ملک نیپال میںگزشتہ 5 مارچ کو ہوئے عام انتخابات نے ہمالیہ کے اس خوبصورت ملک کی سیاست میں ایک نئے باب کا اضافہ کرنے جا رہا ہے۔ راشٹریہ سوتنتر پارٹی (آر ایس پی) کی سربراہی میں، ریپ میوزک کی دنیا سے سیاست کے میدان میں قدم رکھنے والے بالندر شاہ (بالیں) کی زیر قیادت پارٹی نے واضح برتری حاصل کی ہے۔ انتخابی نتائج کے مطابق آر ایس پی نے کئی حلقوں میں کامیابی حاصل کی ہے۔ انھوں نے سابق وزیراعظم کے پی شرما اولی کو ان کے اپنے حلقے جھاپا-5 میں بھاری مارجن سے شکست دی ہے۔ یہ نتائج نیپال میں ایک مضبوط اور مستحکم حکومت کے قیام کی جانب اشارہ کرتے ہیں۔ساتھ ہی یہ امیدبھی دلاتے ہیں کہ کٹھمنڈو اور نئی دہلی کے درمیان تعلقات کو دوبارہ بہتر بنانے کا موقع جلد ہی ملنے والا ہے۔
بھارت اور نیپال کے درمیان تاریخی، ثقافتی اور جغرافیائی قربت کوئی نئی بات نہیں ہے۔ 1950 کی بھارت ونیپال امن و دوستی کا معاہدہ دونوں ملکوں کے رشتوں کی بنیاد ہے۔اسی بنیاد پر دونوں ملکوں کی کھلی سرحد، آزاد آمدورفت اور گہرے سماجی رابطوں کا سلسلہ قائم ہے۔ بھارت نیپال کا سب سے بڑا تجارتی شراکت دار ہے، جہاں سے نیپال کی تقریباً 63 فیصد درآمدات ہوتی ہیں۔ بھارت نے انفراسٹرکچر، توانائی، تعلیم اور صحت کے شعبوں میں اربوں ڈالر کی سرمایہ کاری کی ہے۔ دونوں ملکوں کے لوگوں کے درمیان خاندانی، مذہبی اور ثقافتی رابطے مضبوطی سے جڑے ہیں۔ یہ رشتہ محض سفارتی نہیں بلکہ دل سے دل تک کا ہے۔
ماضی کے چند برسوں میں بھارت اور نیپال کے رشتوں میں کچھ مسائل آئے، جن کی وجہ سے باہمی اعتماد کم ہوا۔ ان مسائل میں سیکیورٹی سے متعلق خدشات، سرحدی تنازعات اور ایک دوسرے پر شک شامل ہیں۔خاص طور پر چین کا نیپال میں بڑھتا ہوا اثر بھی ایک بڑی وجہ رہا ہے۔ چین کے بیلٹ اینڈ روڈ انیشی ایٹو کے تحت ایک بڑا پروجیکٹ دمک انڈسٹریل پارک، جو اب نیپال اینڈچین فرینڈشپ انڈسٹریل پارک کہلاتا ہے،نیپال کے مشرقی ضلع جھاپا میں بننے والا تھا۔ یہ پروجیکٹ بھارت کے لئے پریشانی کا باعث بنا، کیونکہ یہ مقام سلّی گڑی کوریڈور ،جسے ’’چکن نیک‘‘ بھی کہتے ہیں، کے بہت قریب ہے۔سلّی گڑی کوریڈور بھارت کا ایک تنگ علاقہ ہے، جو ملک کے باقی حصے کو شمال مشرقی ریاستوں سے جوڑتا ہے۔ یہ جگہ بہت اہم اور حساس ہے، کیونکہ یہاں کوئی بھی غیر ملکی اثر یا فوجی سرگرمی بھارت کی سلامتی کےلئے خطرہ بن سکتی ہے۔ چنانچہ بھارت کو خدشہ تھا کہ یہ صنعتی پارک ،جو چین کی مدد سے بن رہا تھا، شاید صرف معاشی نہیں بلکہ حکمت عملی کے لحاظ سے بھی مسائل پیدا کر سکتا ہے۔ تاہم، نئی حکومت کی تشکیل سے یہ مسائل حل کرنے کا موقع ہے۔ آر ایس پی کی ’’نیپال فرسٹ‘‘ پالیسی، جو قوم پرستی پر مبنی ہے، دونوں بڑے پڑوسیوں سے متوازن فاصلہ رکھنے کی بات کرتی ہے۔ یہ ایک مثبت تبدیلی ہے، کیونکہ سابقہ حکومتوں میں’’پروچین‘‘ یا ’’پرو انڈیا ‘‘ کا لیبل لگنے سے تنازعات بڑھے تھے۔ ایسا لگتا ہے کہ نیپال میں نئی حکومت کی متوازن پالیسی سے اب دونوں ملکوں کے ساتھ اچھے تعلقات برقرار رکھنے میں آسانی ہوگی۔
بھارتی وزارت خارجہ نے انتخابات کے کامیاب انعقاد کا خیرمقدم کرتے ہوئے کہا کہ بھارت ہمیشہ نیپال میں امن، ترقی اور استحکام کی حمایت کرتا رہا ہے۔ امید کی جا رہی ہے کہ بالندر شاہ کی قیادت میں آر ایس پی کی حکومت روزگار، معیشت اور ترقی پر توجہ دے گی۔ بالندر شاہ کی نسل کے رہنما دونوں پڑوسیوں سے ٹکراؤ سے بچنے اور نیپال کے مفاد کو ترجیح دینے کے حامی ہیں۔ اگرچہ ماضی میں ان کے کچھ بیانات متنازع رہے ہیں، لیکن اب ذمہ داری سنبھالنے کے بعد عملی پالیسیاں ہی فیصلہ کن ہوں گی۔
نیپال میں ایک مضبوط اکثریتی حکومت کا قیام 2015 کے آئین کے بعد پہلی بار ہو رہا ہے۔ یہ استحکام بھارت کے لئے بھی خوش آئند ہے، کیونکہ مستحکم نیپال علاقائی امن اور ترقی کے لئے ضروری ہے۔ دونوں ملکوں کو اب باہمی احترام، کھلے مکالمے اور مشترکہ مفادات پر مبنی تعلقات کو آگے بڑھانا چاہئے۔ سرحدی تنازعات کو بات چیت سے حل کرنا، تجارت کو آسان بنانا اور ثقافتی رابطوں کو فروغ دینا ضروری ہے۔نتیجتاً، نیپال کے انتخابات نے نہ صرف وہاں کی سیاست کو نیا رخ دیا ہے بلکہ بھارت ونیپال رشتوں میں نئی جان پھونکنے کا موقع بھی فراہم کیا ہے۔ اگر نئی حکومت حکمت عملی سے کام لے تو یہ رشتہ پہلے سے زیادہ مضبوط اور پائیدار ہو سکتا ہے۔ بھارت ہمیشہ نیپال کا قابل اعتماد دوست اور شراکت دار رہا ہے۔ اور اب وقت ہے کہ دونوں ملک مل کر بہتر مستقبل کی طرف بڑھیں۔
*************

