تاثیر 29 مارچ ۲۰۲۶:- ایس -ایم- حسن
*راشٹریہ سرکشا جاگرن منچ کے دو روزہ بین الاقوامی کانفرنس کا اختتام؛ ثقافت، آب و ہوا اور تاریخ پر وسیع غور و فکر*
نئی دہلی، ۲۹ مارچ
ڈاکٹر ایم رحمت اللہ
’’اگر بھارت امن، ہم آہنگی اور بقائے باہمی کی اقدار کے ساتھ دنیا کی قیادت نہ کرے تو دنیا مسلسل خون بہاتی رہے گی اور تشدد و تنازعات کے چکروں میں پھنسی رہے گی۔‘‘ یہ بات *راشٹریہ سرکشا جاگرن منچ* کے سینئر رہنما اور سرپرست اعلیٰ ڈاکٹر اندریش کمار نے دہلی یونیورسٹی میں منعقدہ دو روزہ بین الاقوامی کانفرنس *منتھن ۵۔۰* کے اختتامی اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہی۔
ڈاکٹر اندریش کمار نے بھارت کی تہذیبی گہرائی کو اجاگر کرتے ہوئے کہا کہ بھارت کی سرزمین میں سندھ کی گہرائی اور ہمالیہ کی پاکیزگی اور وسعت جھلکتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ تنازعات جہالت سے جنم لیتے ہیں جبکہ حکمت ہر مسئلے کا حل فراہم کرتی ہے۔ بھگوان رام کا حوالہ دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ دنیا میں شاید ہی کسی اور نام کے لیے ایسی وسیع عقیدت ملتی ہو، جیسی رام کے نام کے ساتھ جڑی ہوئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ بھارت میں پارکوں، عمارتوں اور کئی مقامات کے نام رام سے منسوب ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ فارس میں بھی بھگوان رام کو *امامِ ہند* کے نام سے یاد کیا جاتا ہے۔
مادری زبانوں کی اہمیت پر زور دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ہر بھارتی اپنے خواب اپنی زبان میں دیکھتا ہے، جو اس بات کی عکاسی کرتا ہے کہ انسان اپنی زبان اور ثقافتی جڑوں سے پوری زندگی کس قدر گہرا تعلق رکھتا ہے۔
یہ دو روزہ بین الاقوامی کانفرنس *راشٹریہ سرکشا جاگرن منچ* کے زیر اہتمام ۲۷ اور ۲۸ مارچ ۲۰۲۶ کو *سر شنکر لال کنسرٹ ہال، دہلی یونیورسٹی* میں منعقد ہوئی۔ کانفرنس کا موضوع تھا *’’ثقافت، آب و ہوا اور تاریخ: وشال بھارت سے حاصل ہونے والے اسباق‘‘*۔ اس کانفرنس میں ایران سے لے کر جنوب مشرقی ایشیا تک پھیلی ثقافتی اور ماحولیاتی وراثت کے مختلف پہلوؤں پر غور کیا گیا۔ اس موقع پر پانچ علمی نشستیں منعقد ہوئیں جن میں سو سے زائد تحقیقی مقالات پیش کیے گئے۔
کانفرنس کا مشترکہ انعقاد *راشٹریہ سرکشا جاگرن منچ*، گالگوٹیا یونیورسٹی اور وویکانند گلوبل یونیورسٹی، جے پور نے کیا۔ اس پروگرام میں دہلی یونیورسٹی کے ہمالیائی مطالعات مرکز اور جامعہ ملیہ اسلامیہ کے مرکز برائے امن و تنازعہ حل نے بھی فعال شرکت کی۔
کانفرنس میں بھارت اور بیرونِ ملک سے ممتاز دانشوروں، سفارت کاروں، اسٹریٹجک ماہرین، محققین اور سماجی کارکنوں نے شرکت کی اور تہذیبی وراثت، ماحولیاتی نقطۂ نظر اور عصری عالمی چیلنجوں پر تبادلۂ خیال کیا۔
نشستوں کی رپورٹ پیش کرتے ہوئے *راشٹریہ سرکشا جاگرن منچ* کے ایگزیکٹو صدر جسبر سنگھ نے کہا کہ نوجوان نسل کو اہم تاریخی واقعات سے سبق حاصل کرنا چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ نیویارک کے *گیارہ ستمبر* کے حملوں کو یاد رکھنے کے ساتھ ساتھ سوامی وویکانند کی شکاگو تقریر کو بھی یاد رکھنا چاہیے کیونکہ دونوں واقعات انسانیت کے لیے مختلف انداز میں اہم اسباق رکھتے ہیں۔
گالگوٹیا یونیورسٹی کی پروفیسر امرتا تیاگی نے وشال بھارت کی بنیادی اقدار پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ ان کی جڑیں وادیٔ سندھ کی تہذیب سے لے کر جدید بھارت تک پھیلی ہوئی ہیں اور انہوں نے بھارتی علمی روایت کی اہمیت کو اجاگر کیا۔ وویکانند گلوبل یونیورسٹی جے پور کی چیئرپرسن پروفیسر مالویکا ڈوڈی باگاریا نے بھارتی علمی نظام کے تناظر میں انسان مرکز ترقی کے تصور پر گفتگو کی۔
جامعہ ملیہ اسلامیہ کے رجسٹرار پروفیسر مہتاب عالم رضوی نے بھارت کی بری فوج، بحریہ اور فضائیہ کی قومی سلامتی کے تحفظ میں اہم خدمات کو اجاگر کیا۔ انہوں نے کہا کہ قومی سلامتی صرف عسکری طاقت تک محدود نہیں بلکہ تہذیبی اقدار اور سماجی ہم آہنگی سے بھی گہرا تعلق رکھتی ہے۔ انہوں نے *وسودھیو کٹمبکم — ایک زمین، ایک خاندان، ایک مستقبل* کے اصول کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ تاریخ میں بھارت نے جارحانہ توسیع پسندی کی پالیسی اختیار نہیں کی بلکہ تجارت، ثقافت اور علم کے تبادلے کے ذریعے دیگر خطوں کے ساتھ تعلقات قائم کیے۔ انہوں نے شہنشاہ اشوک کی مثال دیتے ہوئے مکالمے اور پُرامن روابط کی قدیم روایت کو اجاگر کیا۔
صحافی اور سیاسی تجزیہ نگار اودھیش کمار سنگھ نے کہا کہ آج کے دور میں یہ تصور کرنا ضروری ہے کہ وشال بھارت کا تصور کیسا ہونا چاہیے۔ انہوں نے فکری نوآبادیات سے آزادی، بھارتی علمی روایت کے فروغ اور تہذیبی استقامت کو مضبوط بنانے کی ضرورت پر زور دیا۔

*راشٹریہ سرکشا جاگرن منچ* کی جنرل سکریٹری ڈاکٹر ورنیکا شرما نے کہا کہ *منتھن* صرف ایک علمی تقریب نہیں بلکہ فکری غور و فکر کا ایسا عمل ہے جو نچلی سطح تک پہنچنا چاہیے تاکہ نوجوان بھارتی تہذیب اور اس کی اقدار کو بہتر طور پر سمجھ سکیں۔
جموں و کشمیر کے حلقہ ناگروٹا سے رکن اسمبلی دیویانی سنگھ رانا نے بھارتی تہذیب پر توجہ دینے اور موجودہ دور کی بیانیہ جنگوں کی اہمیت پر گفتگو کی۔ انہوں نے کہا کہ سماجی ذرائع ابلاغ نوجوانوں پر گہرا اثر ڈال رہے ہیں اور رائے سازی میں اہم کردار ادا کر رہے ہیں۔ انہوں نے خبردار کیا کہ بعض غیر ملکی میڈیا ادارے ڈیجیٹل بیانیوں کے ذریعے بھارت کی تہذیبی شناخت کو کمزور کرنے کی کوشش کرتے ہیں، اس لیے سماجی میڈیا پر شعور اور ذمہ دارانہ رویہ اپنانا ضروری ہے۔
کانفرنس کے دوران پانچوں نشستوں میں نمایاں تحقیقی مقالے پیش کرنے والوں کو اعزاز سے نوازا گیا، جن میں جیوتی بھارتی، ابھیشیک تریپاتھی، رویداس، متاکشرا تیواری اور ڈاکٹر امچن شامل تھے۔
اس موقع پر قومی اسٹیئرنگ کمیٹی کے رکن گولوک بہاری رائے اور *راشٹریہ سرکشا جاگرن منچ* کے قومی تنظیمی سکریٹری وکرمادتیہ سنگھ بھی موجود تھے۔ کانفرنس کے کنوینر پروفیسر وجے کمار تھے جبکہ چتر سنگھ اور ڈاکٹر وویک نے منتھن نشستوں کی نظامت اور رابطہ کاری انجام دی۔
یہ کانفرنس ۲۷ مارچ کو صبح دس بجے شروع ہوئی اور ۲۸ مارچ کو شام ساڑھے چار بجے اختتام پذیر ہوئی۔ دو دنوں کے دوران *وشال بھارت اور عالمی مکالمہ، تہذیبی نقطۂ نظر اور ماحولیاتی اقدار، تاریخی تناظر میں ثقافتی روابط، عصری عالمی چیلنج اور بھارتی علمی روایت، اور وشال بھارت میں ثقافتی یادداشت، وراثت اور تسلسل* جیسے موضوعات پر تفصیلی علمی مباحث ہوئے۔
مقررین نے اس بات پر بھی روشنی ڈالی کہ تاریخی طور پر بھارت کے مشرقی افریقہ، عرب دنیا، سری لنکا اور جنوب مشرقی ایشیا کے ساتھ گہرے ثقافتی، تعلیمی اور تجارتی روابط رہے ہیں جنہوں نے اس کی عالمی شناخت کو مضبوط بنایا۔

کانفرنس کا بنیادی مقصد وشال بھارت کے تصور کے ذریعے ثقافتی، تاریخی اور ماحولیاتی روابط کو سمجھنا اور موسمیاتی تبدیلی، سمندری سلامتی، توانائی کی رسد کے راستوں اور جغرافیائی سیاسی مقابلے جیسے معاصر عالمی مسائل پر بامعنی مکالمے کو فروغ دینا تھا۔
اس پروگرام میں بھارت اور بیرونِ ملک سے بڑی تعداد میں اساتذہ، محققین اور دانشوروں نے شرکت کی۔ ان میں گولوک بہاری رائے، پروفیسر دنیش چندر رائے (وائس چانسلر، بہار یونیورسٹی مظفرپور)، ایران سے ڈاکٹر محمد حسین ضیائینیہ اور آغا حیدر، پروفیسر وجے کمار، پروفیسر انیل سومیترا، ڈاکٹر سریش کمار ورما، ڈاکٹر راجیو پرتاپ سنگھ، ڈاکٹر سائیستہ سمی، ڈاکٹر ورنیکا شرما اور پروفیسر گیتا سنگھ شامل تھے۔
پروگرام کا اختتام چھتر سنگھ کی جانب سے پیش کردہ کلماتِ تشکر کے ساتھ ہوا، جس میں انہوں نے تمام مقررین، شرکاء اور منتظمین کا شکریہ ادا کیا جن کی بدولت *منتھن ۵۔۰* ایک کامیاب علمی اور فکری اجتماع ثابت ہوا۔

