تاثیر 09 مارچ ۲۰۲۶:- ایس -ایم- حسن
تہران،09مارچ:ایران کی ’’ مجلسِ خبرگانِ رہبری ‘‘ نے مجتبیٰ خامنہ ای کو ملک کا نیا سپریم لیڈر منتخب کرنے کا اعلان کردیا۔ مجتبیٰ خامنہ ای اپنے والد علی خامنہ ای کی جگہ لیں گے جنہیں 28 فروری کو تہران پر امریکی اور اسرائیلی حملے میں قتل کر دیا گیا تھا۔ 88 ارکان پر مشتمل “مجلسِ خبرگانِ رہبری” نے ایک بیان میں اعلان کیا کہ آج کے غیر معمولی اجلاس میں ماہرین کی مجلس کے نمائندوں کی فیصلہ کن ووٹنگ کی بنیاد پر مجتبیٰ حسینی خامنہ ای کو 1979 میں قیام کے بعد سے اسلامی جمہوریہ کا تیسرا لیڈر مقرر کیا گیا ہے۔ ایران کی ’’ مجلسِ خبرگانِ رہبری ‘‘ نے ایرانی عوام سے اتحاد برقرار رکھنے اور نئے سپریم لیڈر کی بیعت کرنے کی اپیل بھی کردی۔ایران کی سپریم نیشنل سکیورٹی کونسل کے سیکرٹری علی لاریجانی نے کہا ہے کہ مجتبیٰ خامنہ ای ان حساس حالات میں ایران کی قیادت کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ ہم نئے لیڈر کے پیچھے متحد ہو کر کھڑے ہونے کی اپیل کرتے ہیں۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ ’’ ماہرین کی مجلس‘‘ نے حملوں کے خطرات کے باوجود مجتبیٰ کو نیا لیڈر منتخب کیا ہے۔
واضح رہے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اس بات پر زور دیا تھا کہ اگر واشنگٹن نے پہلے سے منظوری نہ دی تو نیا سپریم لیڈر زیادہ دیر تک نہیں رہ سکے گا۔ ٹرمپ نے ’’ اے بی سی نیوز‘‘ کو بتایا کہ انہیں ہماری منظوری کی ضرورت ہوگی۔ اگر انہیں یہ نہیں ملتی تو وہ زیادہ دیر تک نہیں رہیں گے۔ ہم یہ یقینی بنانا چاہتے ہیں کہ ہمیں ہر 10 سال بعد پیچھے نہ مڑنا پڑے۔ ایسا میری طرح کے کسی صدر کی غیر موجودگی میں ہوتا ہے۔
مجتبیٰ حسینی خامنہ ای ایران میں اقتدار کے سیاسی ڈھانچے کے اندر سب سے زیادہ پراسرار شخصیات میں سے ایک سمجھے جاتے ہیں۔ اپنے والد کے برعکس مجتبیٰ خامنہ ای نے عوامی زندگی میں اپنی موجودگی کو کافی حد تک محدود رکھا کیونکہ انہوں نے کوئی سرکاری عہدہ نہیں سنبھالا ہے۔ نہ ہی وہ عوامی تقریریں کرنے یا میڈیا انٹرویوز دینے کے حوالے سے معروف ہیں۔ اب تک ان کی صرف چند تصاویر اور ویڈیوز ہی شائع ہوئی ہیں۔تاہم برسوں سے نظام کے اندر ان کے اثر و رسوخ کے حجم کے بارے میں قیاس آرائیاں جاری تھیں کیونکہ وہ اپنے والد کے ساتھ رابطے کے سب سے اہم ذرائع میں سے ایک سمجھے جاتے تھے۔ ان کی اپنے والد کی جانشینی تنازع کا باعث ہے کیونکہ اسلامی جمہوریہ ایران کا نظریہ اس بات پر مبنی ہے کہ سپریم لیڈر کا انتخاب مذہبی مقام اور سیاسی قیادت کی بنیاد پر کیا جاتا ہے نہ کہ خاندانی وراثت کے ذریعے سے۔

