تاثیر 14 مارچ ۲۰۲۶:- ایس -ایم- حسن
پچھلے چند ہفتوں سےمغربی ایشیا میں جاری تنازع ایک خطرناک شکل اختیار کرتا جا رہا ہے۔ امریکہ اور اسرائیل کی جانب سے ایران کے فوجی اور جوہری تنصیبات پر حملوں کے جواب میں ایران نے خلیج فارس میں جوابی کارروائیاں شروع کر دی ہیں، جن میںدنیا کی سب سے اہم ترین سمندری گزرگاہوں میں سے ایک آبنائے ہر مز میں بحری جہازوں پر حملے اور اسے جزوی طور پر بند کرنے کی کوششیں شامل ہیں۔ظاہر ہے، اس بحران نے عالمی توانائی کی سپلائی کو شدید متاثر کیا ہے، جہاں آبنائے ہر مز ، جو دنیا کی تقریباً 20 فیصد تیل اور بڑی مقدار میں گیس کی ترسیل کا راستہ ہے، ایک اہم دباؤ کا نقطہ بن گیا ہے۔
ایران کا موقف اس بحران میں واضح ہے۔ وہ اپنے علاقائی مفادات، خودمختاری اور جوہری پروگرام کے دفاع کےلئے لڑ رہا ہے۔ ایران کا دعویٰ ہے کہ امریکہ اور اسرائیل کی جارحیت نے اسے دفاعی اقدامات پر مجبور کیا ہے۔ آبنائے ہر مز میں بحری بارودی سرنگیں بچھانے یا جہازوں کو نشانہ بنانے کی رپورٹس کو ایران نے اپنے دفاع کا حصہ قرار دیا ہے، جبکہ امریکہ نے اسے عالمی تجارت کیخلاف خطرہ قرار دے کر اپنے مریں کمانڈوز اور بحری بیڑے یو ایس ایس ٹرپولی کو علاقے کی طرف بھیجا ہے۔ یہ امریکی مداخلت بحران کو علاقائی سے عالمی سطح پر لے جا سکتی ہے۔اس دوران ایران کی مزاحمت کو پوری دنیا اس طرح دیکھ رہی ہے کہ وہ ایک چھوٹے ملک کی بڑی طاقتوں کے سامنے ڈٹ کر کھڑا ہے۔
شری رام ایسٹ مینجمنٹ کی رپورٹ ’’ایران بحران: بھارت اور مارکیٹس پر اثرات‘‘ میں خبردار کیا گیا ہے کہ بھارت کے لئے ایل این جی (لکیوفیڈ نیچرل گیس) کی سپلائی میں خلل کچے تیل کی کمی سے زیادہ سنگین خطرہ ہے۔ بھارت کا 55 سے 65 فیصد ایل این جی درآمد آبنائے ہر مز سے گزر کر آتا ہے، جبکہ قطر سے تقریباً 40 فیصد گیس اسی راستے سے ملتی ہے۔ رپورٹ کے مطابق، گیس کے متبادل ذرائع محدود ہیں، جبکہ تیل روس، سعودی عرب یا دیگر علاقوں سے حاصل کیا جا سکتا ہے۔ اس بحران میں گیس کی قلت نے بھارت میں صنعتی شعبوں، خصوصاً فرٹیلائزر، کیمیکل، سیرامک اور شہری گیس کی تقسیم پر براہ راست اثر ڈالا ہے۔ کئی کارخانے چند دنوں کے ایندھن کے ذخیرے پر کام کر رہے ہیں، جبکہ گھریلو ایل پی جی کی بکنگ میں تاخیر اور قیمتوں میں اضافہ کے ساتھ گیس سلنڈروں کی بڑے پیمانے پر کالا بازاری ہو رہی ہے۔
ظاہر ہے،یہ صورتحال بھارت کی توانائی سلامتی کےلئے سنگین ہے۔ ملک کی معیشت تیزی سے بڑھ رہی ہے اور گیس کلین انرجی کے طور پر اہم کردار ادا کر رہی ہے۔ اگر یہ بحران طویل ہوا تو انڈسٹریل پیداوار میں کمی، افراط زر اور کمپنیوں کی کمائی پر 4 فیصد تک منفی اثر پڑ سکتا ہے۔ بھارت نے روس سے تیل کی درآمد بڑھا کر اور متبادل راستوں کا استعمال کر کے کچھ حد تک تیل کی سپلائی کو محفوظ رکھنے کی کوشش کی ہے، لیکن گیس کے معاملے میں اختیارات کم ہیں۔ایسے میں ایران کی مزاحمت کو ایک پہلو سے دیکھیں تو یہ علاقائی طاقتوں کی جارحیت کے خلاف ایک موقف ہے، جہاں ایران اپنے حقوق اور خودمختاری کا دفاع کر رہا ہے۔ تاہم، اس سے عالمی تجارت اور توانائی کی سپلائی متاثر ہو رہی ہے، جو کسی کے مفاد میں نہیں ہے۔ بھارت جیسے ملک، جو غیر جانبدار رہ کر سفارتی کردار ادا کر سکتا ہے، کو چاہئے کہ وہ امن کی اپیل کرے اور تمام فریقوں سے تحمل اور مذاکرات کی طرف رجوع کرنے کا مطالبہ کرے۔ بھارت کی خارجہ پالیسی ہمیشہ سے توازن اور امن پر مبنی رہی ہے، اور اس بحران میں بھی اسے اپنے مفادات کے تحفظ کے ساتھ علاقائی استحکام کے لئے آواز اٹھانی چاہئے۔
ظاہر ہے، اگر یہ تنازع آگے بھی جاری رہا تو نہ صرف بھارت بلکہ پوری دنیا کو گیس اور تیل کی قلت، بلند قیمتوں اور معاشی دباؤ کا سامنا کرنا پڑے گا۔ ایران کو بھی چاہئے کہ وہ آبنائے ہر مز کو کھلا رکھنے میں تعاون کرے، جبکہ امریکہ اور اسرائیل کو اپنی فوجی کارروائیوں پر نظرثانی کرنی چاہئے۔ امن ہی واحد راستہ ہے جو توانائی کی سلامتی اور عالمی معیشت کو بچا سکتا ہے۔ بھارت کو اپنی توانائی کے تنوع کوبڑھانے، متبادل ذرائع تلاش کرنے اور سفارتی سطح پر فعال کردار ادا کرنے کی ضرورت ہے تاکہ ایسے بحرانوں سے کم سے کم نقصان اٹھایا جا سکے۔
**********

