تاثیر 09 مارچ ۲۰۲۶:- ایس -ایم- حسن
رمضان المبارک اپنی رحمتوں اور برکتوں کے ساتھ اب اپنے آخری مرحلے میں داخل ہو رہا ہے۔ آج کی رات سے اس مقدس مہینے کا آخری عشرہ شروع ہو رہا ہے۔یہ عشرہ اسلامی تعلیمات کے مطابق غیر معمولی فضیلت اور اہمیت کا حامل ہے۔ یہی وہ مبارک دن اور راتیں ہیں، جن میں بندہ اپنے رب کے سب سے زیادہ قریب ہو سکتا ہے، اپنے گناہوں کی معافی مانگ سکتا ہے اور اپنی زندگی کو نئی روحانی سمت دے سکتا ہے۔ اس لئے ضروری ہے کہ مسلمان اس عشرے کی قدر پہچانیں اور اس کے تقاضوں کو ہر حال میں ملحوظ رکھیں۔
رمضان کا آخری عشرہ دراصل بندگی کے عروج کا عشرہ ہے۔ حضرت عائشہؓ سے روایت ہے کہ جب رمضان کا آخری عشرہ شروع ہوتا تو رسول اللہ ﷺ اپنی عبادت میں غیر معمولی اضافہ فرما دیتے۔ آپؐ راتوں کو جاگتے، اپنے گھر والوں کو بھی بیدار کرتے اور عبادت میں پوری دلجمعی اختیار کرتے۔ اس سے واضح ہوتا ہے کہ یہ عشرہ محض معمول کی عبادت کا تقاضہ نہیں کرتا ہے بلکہ روحانی بیداری اور اللہ کی طرف کامل رجوع کا موقع فراہم کرتاہے۔
اس عشرے کی سب سے بڑی فضیلت لیلۃ القدر ہے جسے قرآن مجید میں ہزار مہینوں سے بہتر قرار دیا گیا ہے۔ یہ وہ رات ہے جس میں قرآن کریم کا نزول ہوا اور جس میں کی جانے والی عبادت کا اجر بے حد و حساب بڑھا دیا جاتا ہے۔ اسی وجہ سے مسلمان ان راتوں میں خصوصی طور پر عبادت، دعا اور تلاوتِ قرآن میں مشغول رہتے ہیں تاکہ اس بابرکت رات کو پا سکیں۔ دراصل یہ رات انسان کی تقدیر سنوارنے اور اللہ کی رحمت حاصل کرنے کا ایک نادر موقع فراہم کرتی ہے۔آخری عشرے کی ایک اہم سنت اعتکاف بھی ہے۔ اعتکاف کا مقصد دنیاوی مصروفیات سے وقتی کنارہ کشی اختیار کر کے مکمل طور پر اللہ کی عبادت اور یاد میں مشغول ہونا ہے۔ اس عمل سے انسان کو اپنی روحانی کمزوریوں کا احساس ہوتا ہے اور وہ اپنے رب کے ساتھ ایک مضبوط تعلق قائم کرتا ہے۔ آج کے مصروف اور مادّی تقاضوں سے بھرپور دور میں اعتکاف کی یہ روحانی تربیت انسان کے لئے انتہائی مفید ثابت ہو سکتی ہے۔
یہ بھی حقیقت ہے کہ رمضان کا آخری عشرہ دراصل پورے مہینے کی روحانی محنت کا حاصل ہوتا ہے۔ اگر پہلے بیس دن انسان عبادت، صبر اور تقویٰ کی مشق کرتا ہے تو آخری عشرہ اس مشق کی تکمیل اور اس کے ثمرات سمیٹنے کا وقت ہوتا ہے۔ اسی لئے علمائے کرام ہمیشہ اس بات پر زور دیتے ہیں کہ مسلمان اس عشرے کو عام دنوں کی طرح نہ گزاریں بلکہ اپنی عبادات میں اضافہ کریں، غور و فکر کے ساتھ قرآن کی تلاوت زیادہ سے زیادہ کریں، اللہ کے احکامات پر عمل کرنے کا عہد کریں اور خصوصی دعاؤں کا اہتمام کریں۔ خاص طور پر وہ دعا جسے حضور اکرم ﷺ نے حضرت عائشہؓ کو لیلۃ القدر کی راتوں کے لئے سکھائی تھی، جس کا ترجمہ ہے :’’اے اللہ بیشک تو بہت معاف کرنے والا ہے اور معاف کرنے کو پسند کرتا ہے، لہٰذا مجھے بھی معاف فرما دے۔‘‘
آخری عشرے کی اصل روح کا تقاضہ صرف مسجدوں کی عبادات تک محدود نہیں ہونی ہے۔ اس کے اثرات ہماری اجتماعی اور سماجی زندگی میں بھی نظر آنے چاہئیں۔ رمضان ہمیں صبر، تحمل، ایثار اور ہمدردی کا درس دیتا ہے۔ لہٰذا ضروری ہے کہ ہم معاشرے کے کمزور اور محروم طبقات کا خاص خیال رکھیں، زکوٰۃ و صدقات کے ذریعے ان کی مدد کریں اور اپنے اردگرد خیر خواہی اور محبت کا ماحول قائم کریں۔ یہی وہ عملی پیغام ہے، جو رمضان کو ایک حقیقی سماجی اصلاح کا ذریعہ بنا سکتا ہے۔
آج جب دنیا مختلف اخلاقی اور سماجی چیلنجوں سے دوچار ہے، رمضان کا آخری عشرہ ہمیں خود احتسابی کا قیمتی موقع فراہم کرتا ہے۔چنانچہ ہمیں ہر لمحہ خود سے یہ سوال پوچھتے رہنا چاہئےکہ اس نے ہماری زندگی میں کوئی مثبت تبدیلی پیدا کی ہے یا نہیں۔ اگر رمضان ہمیں بہتر انسان بنانے میں کامیاب ہو جائے تو یہی ہماری کی سب سے بڑی کامیابی ہوگی۔لہٰذا آج کی رات سے شروع ہونے والے اس آخری عشرے کو غفلت میں ضائع ہونے سے بچانا ہم سب کی ذمہ داری ہے۔ یہ قیمتی لمحات شاید دوبارہ نصیب نہ ہوں۔ اگر ہم اخلاص کے ساتھ اللہ کی طرف رجوع کریں، اپنے گناہوں کی معافی مانگیں، اپنے معاملات کو درست کریں اور نیکی کے راستے پر چلنے کا پختہ عزم کریں تو یقیناً یہ عشرہ ہمارے لئے رحمت، مغفرت اور جہنم سے نجات کا ذریعہ بن سکتا ہے۔ یہی رمضان کا اصل پیغام ہے اور یہی اس کے آخری عشرے کی حقیقی روح بھی۔
****************

