دن دہاڑے گولیوں کی تڑتڑاہٹ سے دہل گیا مظفرپور: گِٹّی تاجر پربھاکر سنگھ کا بے رحمانہ قتل، سڑکوں پر عوام کا غصہ

تاثیر 31 مارچ ۲۰۲۶:- ایس -ایم- حسن

مظفرپور (نزہت جہاں)
مظفرپور-دربھنگہ پرانے مین روڈ پر پیر کے روز اُس وقت خوفناک منظر دیکھنے کو ملا جب موٹر سائیکل سوار جرائم پیشہ افراد نے سرعام خون کی ہولی کھیلتے ہوئے گِٹّی، بالو اور زمین کے کاروبار سے جڑے پربھاکر سنگھ کو گولیوں سے بھون ڈالا۔ بتایا جا رہا ہے کہ جیسے ہی وہ اپنے گھر سے شہر کی طرف نکلے، پہلے سے گھات لگائے حملہ آوروں نے ان پر یکے بعد دیگرے فائرنگ شروع کر دی۔ عینی شاہدین کے مطابق مجرموں نے تقریباً تین گولیاں چلائیں، جس سے پربھاکر سنگھ نے موقع پر ہی دم توڑ دیا۔ متوفی کی شناخت گیا گھاٹ تھانہ کے بیروآ گاؤں کے رہائشی کے طور پر ہوئی ہے۔
واقعہ کی خبر پھیلتے ہی علاقے میں سنسنی پھیل گئی۔ مشتعل مقامی لوگوں اور تاجروں نے احیاء پور بازار سمیتی کے پاس مظفرپور-دربھنگہ سڑک کو مکمل طور پر جام کر دیا۔ لوگوں نے سڑک پر اتر کر پولیس انتظامیہ کے خلاف زبردست نعرہ بازی کی اور سکیورٹی پر سوال اٹھائے۔
اطلاع ملتے ہی سٹی ایس پی محیب اللہ انصاری، ایس ڈی پی او ٹاؤن-2 ونیتا سنہا سمیت کئی تھانوں کی پولیس فورس موقع پر پہنچی۔ کافی سمجھانے بجھانے اور جلد گرفتاری کی یقین دہانی کے بعد ہی مظاہرین نے جام ختم کیا۔تحقیقات تیز، ایف ایس ایل ٹیم ثبوت جمع کرنے میں مصروف
پولیس نے لاش کو قبضے میں لے کر پوسٹ مارٹم کے لیے بھیج دیا ہے۔ موقع واردات سے تین خول برآمد کیے گئے ہیں۔ معاملے کی سنگینی کو دیکھتے ہوئے ایف ایس ایل ٹیم کو بھی طلب کیا گیا ہے، جو سائنسی بنیادوں پر شواہد اکٹھا کر رہی ہے۔ ساتھ ہی سی سی ٹی وی کیمروں کو کھنگالا جا رہا ہے تاکہ حملہ آوروں کی شناخت ہو سکے۔
متوفی کے رشتہ دار اجے سنگھ نے ضلع کی قانون و انتظامیہ پر سوال اٹھاتے ہوئے کہا کہ شہر میں اب قتل، لوٹ اور چھینتئی عام ہو چکی ہے۔ 48 گھنٹوں کے اندر یہ تیسری بڑی واردات ہے، جس نے پورے مظفرپور کو ہلا کر رکھ دیا ہے۔ اس قتل کے بعد تاجروں میں شدید خوف اور بے چینی کا ماحول ہے۔
 بڑا سوال: آخر کب رکے گا خون کا یہ کھیل؟