فاروق عبداللہ پر ہوئے حملے کے خلاف این سی کارکنان نے جموں میں احتجاج کیا

تاثیر 12 مارچ ۲۰۲۶:- ایس -ایم- حسن

جموں, 12 مارچ:جموں و کشمیر نیشنل کانفرنس نے جمعرات کے روز جموں میں اپنے صدر اور سابق وزیر اعلیٰ فاروق عبداللہ پر حملے کے خلاف احتجاجی مارچ نکالا اور واقعے کی مکمل تحقیقات کے ساتھ ساتھ خطے میں قانون و نظم کی بحالی کا مطالبہ کیا۔

حکام کے مطابق 88 سالہ فاروق عبداللہ بدھ کی رات گریٹر کیلاش میں ایک شادی کی تقریب سے واپسی کے دوران اس وقت بال بال بچ گئے جب ایک مسلح شخص نے پیچھے سے ان پر فائرنگ کی۔ پولیس نے ملزم کو گرفتار کر لیا ہے جس کی شناخت 63 سالہ کمل سنگھ جموال سکنہ پرانی منڈی کے طور پر ہوئی ہے۔ اطلاعات کے مطابق ملزم نے تفتیش کاروں کو بتایا کہ وہ گزشتہ 20 برسوں سے فاروق عبداللہ کو نشانہ بنانے کے موقع کی تلاش میں تھا۔

نیشنل کانفرنس کے سینکڑوں کارکنان اور رہنما پارٹی جھنڈے اور پلے کارڈ اٹھائے، جن پر قانون و نظم بحال کرو اور “فائرنگ واقعے کی تحقیقات کرو” جیسے نعرے درج تھے، احتجاجی مارچ شیرِ کشمیر بھون سے شروع کیا گیا۔

مظاہرین ہمیں انصاف چاہیے اور فاروق عبداللہ زندہ باد کے نعرے لگاتے ہوئے شہر کے مرکز کی جانب بڑھے، تاہم پولیس نے انہیں رگھوناتھ بازار کے مقام پر روک دیا جس کے باعث کچھ دیر کے لیے دھکم پیل بھی ہوئی۔ اس دوران کچھ مظاہرین سٹی چوک تک پہنچنے میں کامیاب ہوگئے جہاں انہوں نے مختصر دھرنا دیا اور بعد ازاں منتشر ہوگئے۔

صحافیوں سے بات کرتے ہوئے سابق وزیر اور نیشنل کانفرنس کے سینئر رہنما اجے سادھوترا نے اس واقعے کو سنگین سیکورٹی خامی قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ شادی کی تقریب میں ڈاکٹر صاحب، نائب وزیر اعلیٰ اور دیگر سینئر رہنما موجود تھے لیکن وہاں ایک بھی سیکورٹی اہلکار نظر نہیں آیا۔ انہوں نے سوال اٹھایا کہ اگر مناسب چیکنگ ہو رہی تھی تو اسلحہ لے کر کوئی شخص تقریب میں کیسے داخل ہو گیا۔اجے سادھوترا نے کہا کہ اگر فاروق عبداللہ کے ذاتی سیکورٹی عملے نے بروقت مداخلت نہ کی ہوتی تو یہ واقعہ ایک بڑا سانحہ بن سکتا تھا۔ ان کے مطابق حملہ آور نے پستول نکالی لیکن پیچھے موجود سیکورٹی اہلکاروں نے فوراً ڈاکٹر عبداللہ کو پیچھے کھینچ لیا جس کے باعث گولی ہوا میں چل گئی۔