تاثیر 31 مارچ ۲۰۲۶:- ایس -ایم- حسن
آج یکم اپریل، 2026 ہے۔آج سے ملک کا نیا مالی سال 2026-27 شروع ہو رہا ہے۔ ہر سال کی طرح اس بار بھی کئی اہم قوانین اور ضوابط میں تبدیلیاں نافذ العمل ہو رہی ہیں، جو آمدنی ٹیکس، تنخواہ، ریلوے ٹکٹ، فاسٹ ٹیگ، کریڈٹ سکور،پین کارڈ اور دیگر شعبوں سے جڑی ہیں۔ یہ تبدیلیاں عام شہریوں کی روزمرہ زندگی پر براہ راست اثر انداز ہوں گی۔ نئے انکم ٹیکس ایکٹ، 2025 کا نفاذ، لیبر کوڈز کے تحت تنخواہ کی ساخت میں تبدیلی، فاسٹ ٹیگ کی سالانہ فیس میں اضافہ اور ریلوے ٹکٹ کی منسوخی کے نئے قوانین سب سے نمایاں ہیں۔ ان تبدیلیوں کو سمجھنا اور ان کے مطابق خود کو تیار کرنا ہر شہری کی ذمہ داری ہے۔
سب سے اہم تبدیلی نئے انکم ٹیکس ایکٹ، 2025 کا نفاذ ہے، جو 1961 کے پرانے قانون کی جگہ لے رہا ہے۔ اب ’’فنانشل ایئر‘‘ اور’’اسیسمنٹ ایئر‘‘ کی الجھن ختم ہو جائے گی۔ صرف ایک ’’ٹیکس ایئر‘‘ کا تصور متعارف ہو گا، یعنی 1 اپریل، 2026 سے 31 مارچ ,2027 تک کی مدت کو ٹیکس ایئر 2026-27 کہا جائے گا۔ غیر آڈٹ شدہ ٹیکس دہندگان کے لئےآئی ٹی آر۔3 اورآئی ٹی آر۔4 فائل کرنے کی آخری تاریخ 31 اگست تک بڑھا دی گئی ہے۔ یہ تبدیلی ٹیکس نظام کو سادہ اور ڈیجیٹل بنانے کی طرف ایک قدم ہے، جو ٹیکس چوری کم کرنے اور تعمیل کو آسان بنانے میں مددگار ثابت ہوگی۔
لیبر کوڈز کے نفاذ سے ملازمین کی ٹیک ہوم سیلری متاثر ہو سکتی ہے۔ اب کمپنیوں کے لئے تنخواہ کا کم از کم 50 فیصد بنیادی تنخواہ (بیسک پے) رکھنا لازمی ہے۔ اگر بیسک پے 50 فیصد سے کم ہے تو پروویڈنٹ فنڈ اور گریجویٹی میں اضافہ ہوگا، جس سے ہاتھ میں آنے والی تنخواہ کم ہو سکتی ہے۔ البتہ اس سے طویل مدت میں ملازمین کو فائدہ ہوگا کیونکہ ریٹائرمنٹ کے وقت گریجویٹی کی رقم بڑھ جائے گی۔ نئے قوانین میں فکسڈ ٹرم ملازمین کو بھی ایک سال کی سروس کے بعد گریجویٹی کا حق دیا گیا ہے۔
آج سے فاسٹ ٹیگ کے سالانہ پاس کی قیمت 3000 روپے سے بڑھ کر 3075 روپے ہو جائے گی۔ یہ پاس غیر تجارتی گاڑیوں کے لئے ہے اور ایک سال یا 200 ٹول پلازوں تک استعمال کیا جا سکتا ہے۔ معمولی اضافہ ہونے کے باوجود یہ بار بار سفر کرنے والوں کےلئے اب بھی ایکونامیک ہے۔ریلویز میں ٹکٹ منسوخی کے قوانین سخت ہو رہے ہیں۔ اب ٹرین کے روانگی سے 72 گھنٹے سے زیادہ پہلے منسوخ کرنے پر زیادہ سے زیادہ ری فنڈ ملے گا (صرف فلیٹ فیس کٹ کر)۔ 24 سے 72 گھنٹے پہلے 25 فیصد کٹوتی، 8 سے 24 گھنٹے پہلے 50 فیصد کٹوتی اور 8 گھنٹے سے کم وقت پر کوئی ری فنڈ نہیں ملے گا۔ البتہ ایک اچھی سہولت یہ ہے کہ اب روانگی سے 30 منٹ پہلے تک بورڈنگ پوائنٹ تبدیل کیا جا سکتا ہے۔
پین کارڈ کے لئے اب صرف آدھار کارڈ تاریخ پیدائش کا ثبوت نہیں مانا جائے گا۔ جنم سرٹیفکیٹ، کلاس دس کا سرٹیفکیٹ یا پاسپورٹ بھی لازمی ہوگا۔ کریڈٹ سکور سے متعلق بینکوں کو اب ہفتہ وار بنیاد پر لون ڈیٹا رپورٹ کرنا ہوگا، جو کریڈٹ ہسٹری کو تازہ رکھنے
میں مدد دے گا۔ سوورن گولڈ بانڈز پر بھی ٹیکس قوانین تبدیل ہوئے ہیں۔آر بی آئی سے براہ راست خریدنے والوں کو ٹیکس چھوٹ ملے گی، جبکہ سیکنڈری مارکیٹ سے خریدنے والوں پر 12.5 فیصد لانگ ٹرم کیپیٹل گینز ٹیکس لگے گا۔بینکوں میں اے ٹی ایم سے کیش نکلوانے پر مفت لین دین کی حد مقرر ہے اور اس کے بعد فی لین دین 23 روپے تک چارج ہو سکتا ہے۔ ڈیجیٹل ادائیگیوں میں سیکیورٹی چیک سخت ہو گئے ہیں، اب صرف او ٹی پی کافی نہیں، ٹو فیکٹر آتھنٹیکیشن لازمی ہے۔
یہ تبدیلیاں مجموعی طور پر ٹیکس نظام کو جدید بنانے، لیبر حقوق کو مضبوط کرنے اور ڈیجیٹل انفراسٹرکچر کو بہتر بنانے کی طرف ہیں۔ حکومت کا مقصد شفافیت، سادگی اور عوامی سہولت ہے، لیکن ان کا فوری اثر کچھ لوگوں کی جیب پر پڑ سکتا ہے۔ ملازمین کو اپنی تنخواہ کی ساخت کا جائزہ لینا چاہئے، ٹیکس دہندگان کو نئے قوانین سے آگاہ ہونا چاہئے اور مسافروں کو ٹکٹ بک کرتے وقت احتیاط برتنی چاہئے۔بہر حال نئے مالی سال کا آغاز ہمیں یاد دلاتا ہے کہ تبدیلیاں ناگزیر ہیں۔چنانچہ انھیں موقع کے طور پر دیکھا جانا چاہئے۔لہٰذا، ضرورت اس بات کی ہے کہ اپنی مالی منصوبہ بندی کو اپ ڈیٹ کیا جائےاور حکومت سے بھی توقع رکھی جائے کہ وہ ان تبدیلیوں کے نفاذ میں آسانی پیدا کرے۔ اگر حکومت کے ساتھ ساتھ ملک کے ہم تمام شہری ذمہ دارانہ رویہ اختیار کریں تو یقینی طور پر یہ نیا مالی سال معاشی استحکام اور ترقی کا سال ثابت ہو سکتا ہے۔

