تاثیر 30 مارچ ۲۰۲۶:- ایس -ایم- حسن
راجستھان کے سیکر ضلع کے نیم کا تھانہ علاقے میں واقع گوہالہ گاؤں حالیہ دنوں میں ایک خوبصورت واقعہ کی وجہ سے ملک بھر میں موضوع بحث بنا ہوا ہے۔ قریب سات ہزار آبادی والے اس گاؤں میں ایک عام ہندو کسان خاندان کے چار بھائیوں، لکشمن رام سینی، بھوپال رام سینی، پورن مل سینی اور جگدیش سینی، نے اپنی قیمتی زمین کا ایک حصہ مقامی عیدگاہ کے لئے بلا معاوضہ عطیہ کر دیا ہے۔ یہ وہ عیدگاہ ہے، جہاں آس پاس کے دیہاتوں سے بھی مسلمان عید کی نماز ادا کرنے آتے ہیں۔ جگہ کی کمی کی وجہ سے ایک عرصہ سے نمازیوں کو دشواری کا سامنا کرنا پڑتا تھا۔یہ دیکھتے ہوئے ہندو بھائیوں نے نہ صرف اپنی زمین دی بلکہ عیدگاہ کی باڑ لگانے میں بھی خود حصہ لیا۔ مسلمان کمیونٹی نے عید کے دن ان کا پرتپاک استقبال کیا،انھیں صافہ باندھا گیا اور پھولوں کے ہار پہناکر اظہار تشکر کیا گیا۔ظاہر ہے،لوگ اس واقعہ کو بھارت کی گنگا-جمنی تہذیب اور مشترکہ ثقافت کی ایک روشن مثال کے طور پر دیکھ رہے ہیں۔
گوہالہ گاؤں کا منظر بہت سادہ اور زمینی ہے۔ اودے پور واٹی جانے والی سڑک پر واقع یہ گاؤں صدیوں پرانی حویلیوں سے اپنا تاریخی ورثہ سنبھالے ہوئے ہے۔ مرکزی بازار کے دونوں طرف یہ حویلیاں گاؤں کی پرانی شان کی گواہی دیتی ہیں۔ گاؤں کے اندر واقع ایک گوشالہ کے سامنے سے گزرتی ہوئی سڑک ساوالی ڈھانی تک جاتی ہے۔یہاں سینی بھائی رہتے ہیں۔ سادہ سے گھروں میں بیٹھے بھوپال رام سینی اپنے پوتے کے ساتھ بات کرتے ہیں۔ گھر کے باہر پرانا ٹریکٹر کھڑا ہے، سامنے لہلہاتی گیہوں کی فصل انھی کے کھیتوں میں ہے اور کھیتوں کے آخر میں ایک قدیم عیدگاہ موجود ہے۔
65 سالہ حاجی محمد توفیق بتاتے ہیں کہ عید کے دن یہاں اتنی بھیڑ ہو جاتی تھی کہ کھڑے ہونے کی جگہ نہیں ملتی تھی۔ آس پاس کے کئی گاؤں میں عیدگاہ نہیں ہے، اس لئے سب یہیں آتے ہیں۔ جب مسئلہ ان بھائیوں کے سامنے رکھا گیا تو انہوں نے فوراً حامی بھر لی۔ پورن مل سینی کہتے ہیں: ’’ہمارا مسلمان بھائیوں سے پہلے سے ہی پیار ہے۔ انہوں نے زمین مانگی تو ہم نے کہہ دیا لے لو۔ انہوں نے پیسے دینے کی پیشکش کی لیکن ہم نے آپسی پیار میں پیسہ لینے سے انکار کر دیا۔‘‘ بھائیوں کا کہنا ہے کہ اگر مزید جگہ کی ضرورت پڑی تو وہ اور بھی دے دیں گے۔حالانکہ اس فیصلے پر کچھ رشتہ داروں اور جاننے والوں نے اعتراض بھی کیا کہ مسلمانوں کو زمین کیوں دی۔ جواب میں بھائیوں نے کہا: ’’کوئی ہندو بھی مانگے گا تو اسے بھی دیں گے۔ ہمارے لئے سب برابر ہیں۔ وہ زور دیتے ہیں کہ یہ کوئی دکھاوا نہیں بلکہ ان کے عقیدے اور آپسی محبت کا نتیجہ ہے۔ بتایا جاتا ہے کہ گاؤں میں 36 مختلف برادریاں رہتی ہیں، تقریباً 25 فیصد مسلمان، اتنے ہی دلت اور 25 فیصد سینی۔ باقی دیگر برادریاں ہیں۔ یہاں کا ماحول ہمیشہ سے ہی بھائی چارے والا رہا ہے۔ بوڑھے بھیما رام بتاتے ہیں کہ بچپن سے دیکھ رہے ہیں، کوئی فرق نہیں۔ ایک پرانا قصہ یاد کرتے ہوئے وہ مسکراتے ہیں کہ ایک مسلمان بھائی نظام الدین پھیری والے جب رات ہو جاتی تو انھی کے گھر آ کر رکتے تھے۔
اس واقعے کی ایک سب سے بڑی خوبی یہ ہے کہ گاؤں والے اپنی اس خصوصیت کو کوئی بڑی ’’بات ‘‘ نہیں سمجھتے۔ ان کے لئے یہ روزمرہ کی زندگی کا حصہ ہے۔ عبد الرشید کہتے ہیں: ’’آج کے ماحول میں ہمارے ہندو بھائیوں نے پوری دنیا کو دکھا دیا ہےکہ بھائی چارہ کیا ہوتا ہے‘‘۔محمد اسحاق کا کہنا ہے کہ اس کا اثر آس پاس کے گاؤں پر بھی پڑا ہے۔ لوگ آ کر دیکھ رہے ہیں۔ اور اپنے یہاں بھی اس طرح کا ماحول بنانے کے جذبے کے ساتھ واپس جاتے ہیں۔
آج جب ملک میں کچھ لوگ نفرت کی سیاست کو ہوا دے رہے ہیں، دھرم یاترا کے نام پر تنازعات اور سوشل میڈیا پر زہریلا بیانیہ عام ہے۔ایسے میں گوہالہ کی یہ کہانی ایک تازہ ہوا کے جھونکے کی مانند ہے۔ گوہالہ اس بات کا ثبوت ہے کہ بھارت کا اصل سماجی اور مذہبی تانا بانا اب بھی گنگا-جمنی تہذیب پر قائم ہے۔عام لوگ نفرت سے کوسوں دور ہیں۔ وہ روزانہ کی زندگی میں ایک دوسرے کے ساتھ رہتے، کھیتی کسانی کرتے ہیں اور مشکلات میں ایک دوسرے کا ہاتھ تھامے رہتے ہیں۔مانا جا رہا ہے کہ گوہالہ کے سینی بھائیوں نے دکھا دیا ہے کہ جب دل میں محبت ہو تو مذہب کی حدود رکاوٹ نہیں بنتی۔ یہ واقعہ یاد دلاتا ہے کہ بھارت کی طاقت اس کی تنوع میں ہے، نہ کہ یکسانیت میں۔ جہاں سیاستدان اور میڈیا بعض اوقات تقسیم کو ہوا دیتے ہیں، وہاں عام آدمی کی روزمرہ کی انسانیت ملک کے حقیقی چہرے کو زندہ رکھے ہوئے ہے۔چنانچہ اگر پورا ملک گوہالہ کی اس خوبی کو اپنائے تو نفرت کے بیانیے خود بخود کمزور پڑ جائیں گے۔اس طرح کے چھوٹے چھوٹے واقعات ،ایک دوسرے کا احترام اور ایک ساتھ رہنے کا عزم ہی بھارت کی مشترکہ تہذیب کی اصل بنیاد ہیں۔ گوہالہ کا پیغام سادہ مگر گہرا ہے: ہم سب ایک ہیں، اور جب تک یہ احساس زندہ رہے گا، ہماری گنگا-جمنی تہذیب کو کوئی طاقت مٹا نہیں سکتی ہے۔
******

