مدھیہ پردیش میں بجلی کی شرح میں اضافے پر سیاست تیز، جیتو پٹواری نے وزیراعلیٰ کو خط لکھا

تاثیر 27 مارچ ۲۰۲۶:- ایس -ایم- حسن

بھوپال، 27 مارچ :۔مدھیہ پردیش میں بجلی کی شرحوں میں مجوزہ 4.80 فیصد اضافے کو لے کر سیاسی معرکہ آرائی تیز ہو گئی ہے۔ ریاستی کانگریس صدر جیتو پٹواری نے جمعہ کو وزیراعلیٰ ڈاکٹر موہن یادو کو خط لکھ کر اس فیصلے کی سخت مخالفت کی ہے۔ انہوں نے اسے عام صارفین کی جیب پر براہِ راست حملہ اور ’’سرکاری وصولی‘‘ کا ماڈل قرار دیا ہے۔

جیتو پٹواری نے اپنے خط میں کہا کہ یکم اپریل سے نافذ ہونے جا رہی بجلی کی شرحوں میں اضافہ ایسے وقت میں کیا جا رہا ہے، جب عوام پہلے ہی مہنگائی کی مار جھیل رہے ہیں۔ انہوں نے سوال کیا کہ حکومت یہ واضح کیوں نہیں کر رہی کہ اضافے کی مجبوری کیا ہے۔ پی سی سی چیف پٹواری نے کہا کہ گزشتہ ایک دہائی میں ریاست میں بجلی کی شرحوں میں 22 سے 24 فیصد تک اضافہ ہو چکا ہے۔ گھریلو صارفین کے صفر سے50 یونٹ سلیب میں شرح 3.65 روپے سے بڑھ کر 4.45 روپے فی یونٹ ہو گئی ہے، جو 20 فیصد سے زیادہ اضافہ ہے۔ اس کے علاوہ، ہر ماہ فیول پرائس اینڈ پاور پرچیز ایڈجسٹمنٹ سرچارج کے نام پر 3 فیصد سے زیادہ اضافی بوجھ بھی صارفین پر ڈالا جا رہا ہے۔

وزیراعلیٰ سے انہوں نے سوال کیا کہ بجلی کمپنیوں کے نقصان کی جوابدہی طے کیوں نہیں ہوتی؟ ہر سال نقصان دکھا کر عوام سے وصولی کیوں کی جاتی ہے؟ کیا بدانتظامی اور بدعنوانی کا بوجھ صارفین پر ڈالا جا رہا ہے؟ کیا غریب، کسان اور متوسط طبقہ صرف بل بھرنے کے لیے رہ گیا ہے؟