بہار میں راجیہ سبھا انتخابات: اتحاد کی جیت انتشار کی شکست

تاثیر 17 مارچ ۲۰۲۶:- ایس -ایم- حسن

بہار کی پانچ راجیہ سبھا نشستوں کے لئے گزشتہ 16 مارچ کو ہوئے انتخابات نے ریاست کے سیاسی منظر نامے کو ایک بار پھر ہلا کر رکھ دیا ہے۔ نیشنل ڈیموکریٹک الائنس (این ڈی اے) نے تمام پانچ سیٹیں جیت کر کلین سویپ حاصل کی ہے، جبکہ مہاگٹھ بندھن (جس میں راجد، کانگریس اور دیگر شامل ہیں) کی امیدوں پر پانی پھر گیا ہے۔ این ڈی اے کے امیدواروں میں سی ایم نتیش کمار (جے ڈی یو)، نتن نوین (بی جے پی)، رام ناتھ ٹھاکر (جے ڈی یو)، شیویش رام (بی جے پی) اور اپندر کشواہا (راشٹریہ لوک منچ) شامل تھے، جو سب کامیاب ہوگئے ہیں۔مانا جا رہا ہے کہ یہ نتیجہ محض اعداد و شمار کی کامیابی نہیں بلکہ سیاسی اتحادوں کی مضبوطی اور مخالف خیمے کی اندرونی کمزوریوں کا واضح مظہر ہے۔ این ڈی اے کی جیت میں اتحادی جماعتوں کی ڈسپلن اور یکجہتی نمایاں رہی ہے۔ جے ڈی یو اور بی جے پی نے مشترکہ حکمت عملی کے تحت اپنے ووٹوں کو مؤثر طریقے سے استعمال کیا، جس سے انہیں پانچوں نشستوں پر برتری حاصل ہوئی۔ نتیش کمار اور نتن نوین جیسے بڑے ناموں کی کامیابی نے این ڈی اے کی قیادت کی طاقت کو مزید مستحکم کیا ہے۔ڈپٹی سی ایم وجے کمار سنہا نے اسے’’بہار کے عوام کے جذبات اوراتحاد کی یکجہتی‘‘  کا نتیجہ قرار دیا ہے، جو ترقی، سوشاسن اور خوشحالی کے ایجنڈے کو آگے بڑھانے میں مدد دے گی۔
دوسری طرف مہاگٹھ بندھن کی شکست کی بنیادی وجہ اندرونی انتشار اور ڈسپلن کی کمی بتائی جا رہی ہے۔ انتخابات کے دن کانگریس کے تین ایم ایل ایز منوہر پرساد سنگھ (منہاری)، منوج وشواس (فاربس گنج) اور سورندر پرساد کشواہا (والمیکی نگر)،اور راجد کے ایک ایم ایل اے ایم ایم اے فیصل رحمان (ڈھاکہ) ووٹ ڈالنے نہیں پہنچے۔ ان کی غیر حاضری نے عظیم اتحاد کے امیدوار امرندر دھاری سنگھ، جنھیں راجد نے نامزد کیا تھا کی شکست کو یقینی بنا دیا۔ یہ چار ووٹ اگر دستیاب ہوتے تو صورتحال مختلف ہو سکتی تھی، لیکن ان کی غیر موجودگی نے این ڈی اے کو بغیر کسی کراس ووٹنگ کے مکمل فتح دلا دی۔ دوسری جانب کانگریس کے اندر یہ معاملہ تنازع کا باعث بنا ہوا ہے۔ دو غیر حاضر کانگریس ایم ایل اے منوہر سنگھ اور منوج وشواس نے میڈیا کے سامنے آ کر دعویٰ کیا ہے کہ پارٹی کی طرف سے کوئی واضح ہدایات یا ’’تھری لائن وِھپ‘‘ نہیں جاری کیا گیا تھا۔ منوہر سنگھ نے کہا کہ صوبائی صدر راجیش رام نے صرف واٹس ایپ پر ایک پیغام بھیجا تھا کہ عظیم اتحاد کو ووٹ دینا ہے، لیکن پربھاری کرشنا اللاورو نے کہا تھا ’’اپنا فیصلہ خود کریں‘‘۔ اس سے انہیں لگا کہ ووٹ نہ دینا ہی بہتر ہے۔ منوج وشواس نے کہا کہ امیدوار کے انتخاب میں کانگریس کی کوئی مشاورت نہیں تھی، اس لئے انہوں نے ووٹ نہیںدیا۔
اِدھر کانگریس کے صوبائی صدر راجیش رام نے الٹ الزام لگایا ہےکہ اگر یہ تین ایم ایل اے موجود ہوتے توعظیم اتحاد جیت سکتا تھا۔ انہوں نے انہیں خود کو پارٹی کا حصہ نہ ماننے اور بیرونی اشاروں پر کام کرنے کا الزام لگایا ہے۔ ظاہر ہے، یہ تضاد کانگریس کے اندر گہر ے انتشار اور عدم اعتماد کو ظاہر کرتا ہے۔ بہار میں کانگریس کے صرف چھ ایم ایل اے ہیں، لیکن ان میں بھی اتحاد اور قیادت پر اتفاق نہیں ہے، جس کی وجہ سے لیڈر آف دی ہاؤس یا چیف وِھپ بھی منتخب نہیں ہو سکا ہے۔بی جے پی ایم پی اور سینئر لیڈر سنجے جیسوال نے اس موقع پر طنز کرتے ہوئے کہا ہے کہ جہاں راہل گاندھی اور تیجسوی یادو بیرون ملک ’’پکنک‘‘  منا رہے ہیں، وہاں کانگریس نے وِھپ تک جاری نہیں کیا، جو راہل گاندھی کی قیادت کی ناکامی ہے۔ظاہر ہے ، یہ بیان اپوزیشن اتحاد کی سیاسی سنجیدگی پر ایک بڑے سوال کی مانند ہے۔نتیجہ بہار کی سیاست میں این ڈی اے کی مضبوط گرفت کو مزید مستحکم کرتا ہے،  جبکہ عظیم اتحاد کو اپنے اندرونی مسائل پر غور کرنے کی ضرورت ہے۔
ماہرین کا ماننا ہے کہ اگر اتحادی جماعتیں ڈسپلن اور مشترکہ حکمت عملی پر توجہ نہیں دیں گی تو مستقبل کے انتخابات میں بھی ایسی ناکامیاں دہرائی جا سکتی ہیں۔ بہارکے عوام ترقی اور استحکام چاہتے ہیں،اور جو اتحاد انھیں فراہم کرے گا، وہی آگے بڑھے گا۔ اس شکست  فاش سے عظیم اتحاد کو سبق حاصل کرنا چاہئے کہ سیاسی اتحاد صرف نعروں اور بیان بازی سے نہیں، بلکہ اندرونی ہم آہنگی، واضح ہدایات اور پارٹی ڈسپلن سے قائم ہوتا ہے۔ کانگریس اور راجد دونوں کو اب اپنی تنظیموں کو دوبارہ منظم کرنے، گروہ بندیوں کو ختم کرنے اور قیادت میں اعتماد بحال کرنے کی ضرورت ہے۔ اگر یہ کام نہ ہوا تو بہار میں این ڈی اے کی برتری مزید مضبوط ہوتی چلی جائے گی۔ دوسری طرف این ڈی اے کو بھی یہ موقع ہے کہ وہ جیت کو محض سیاسی فتح نہ سمجھے بلکہ عوام کی توقعات کے مطابق ترقیاتی کاموں میں تیزی لائے۔ بہار کی سیاست میں اب وقت ہے کہ جملہ بازی کی بجائے عملی اقدامات اور عوامی مسائل کے حل پر توجہ دی جائے۔ جو اتحاد عوام کے درد کو سمجھے گا اور ان کی خدمت میں سنجیدہ ہوگا، وہی طویل مدت تک فاتح رہے گا۔
******