تاثیر 12 مارچ ۲۰۲۶:- ایس -ایم- حسن
مظفرپور: (نزہت جہاں)گھریلو گیس سلنڈر کو لے کر جمعرات کو مظفرپور میں زبردست ہنگامہ دیکھنے کو ملا۔ شہر کے مختلف علاقوں سے ناراض لوگ خالی گیس سلنڈر لے کر سیدھے ضلع کلکٹریٹ (ڈی ایم آفس) پہنچ گئے اور ڈی ایم سے ملاقات کر کے اپنی پریشانی بتانے کا مطالبہ کیا۔
دراصل ایران اور اسرائیل کے درمیان جاری جنگ کی خبروں کے بعد ملک کے کئی حصوں میں ایل پی جی کی سپلائی کو لے کر افواہیں پھیل رہی ہیں۔ انہی خبروں اور کمی کی باتوں کے درمیان مظفرپور میں گیس ایجنسیوں پر لوگوں کی بھیڑ لگنے لگی ہے۔ کئی لوگ سلنڈر کے لیے ایجنسیوں کے چکر لگا رہے ہیں، جبکہ کچھ لوگوں نے بلیک مارکیٹنگ کے بھی الزامات لگائے ہیں۔ مظاہرہ کر رہے مقامی رہائشی سدھیر کمار نے الزام لگایا کہ بکنگ کے باوجود عام صارفین کو سلنڈر نہیں دیا جا رہا ہے، جبکہ جو لوگ دو ہزار روپے اضافی دے رہے ہیں انہیں فوراً سلنڈر دے دیا جا رہا ہے۔ وہیں سکندرپور کے کمل اگروال نے بتایا کہ وہ دامودر گیس ایجنسی کے صارف ہیں، لیکن گزشتہ پانچ دنوں سے انہیں گیس نہیں ملی ہے۔ بکنگ نمبر آنے کے باوجود کئی دن لائن میں لگنے کے بعد بھی سلنڈر نہیں دیا جا رہا ہے۔ ادھر معاملے پر مشرقی سب ڈویژنل افسر (ایس ڈی او) تشار کمار نے کہا کہ گیس کی کمی کو لے کر کچھ افواہیں پھیل گئی تھیں۔ گیس ایجنسی مالکان اور کمپنی کے نمائندوں کے ساتھ میٹنگ میں یہ واضح کیا گیا ہے کہ گھریلو ایل پی جی کی کوئی کمی نہیں ہے اور مناسب اسٹاک موجود ہے۔ انہوں نے بتایا کہ گیس بکنگ کے کچھ اصول طے کیے گئے ہیں۔ ایک بار بکنگ کے بعد صارف 25 دن کے بعد ہی دوبارہ بکنگ کر سکتے ہیں۔ بکنگ کے بعد صارف کے موبائل پر او ٹی پی بھیجا جائے گا اور اسی بنیاد پر سلنڈر کی تقسیم ہوگی۔
انتظامیہ نے عوام سے اپیل کی ہے کہ افواہوں پر توجہ نہ دیں اور طے شدہ اصولوں کے مطابق ہی گیس حاصل کریں۔

