محبت کے تہوار پرتقسیم کے سائے ؟

تاثیر 19 مارچ ۲۰۲۶:- ایس -ایم- حسن

کل ان شاء اللہ پورے ملک میں عید الفطر منائی جائے گی۔ یہ تہوار خوشیوں، مسرت، معافی اور باہمی محبت کا پیغام لے کر آتا ہے۔ رمضان کے مقدس مہینے کے بعد اللہ کی نعمتوں کا شکر ادا کرنے اور ایک دوسرے کے ساتھ خوشیاں بانٹنے کا یہ ایک حسین موقع ہوتا ہے۔ لیکن افسوس کہ اس مقدس تہوار سے عین پہلے دو ایسے واقعات پیش آئے ہیں، جنہوں نے ملک کے امن پسند شہریوں کے دل میں گہری تشویش پیدا کر دی ہے۔
دہلی کے اتم نگر میں 26 سالہ ترون کمار کی ہلاکت، گزشتہ ہولی کے دن مبینہ طور رنگ کے غبارے سے شروع ہونے والے جھگڑے کا نتیجہ تھی۔ دو پڑوسی خاندانوں کے درمیان یہ تنازع جلد ہی پر تشدد فرقہ وارانہ رنگ اختیار کر گیا۔ الزامات اور جوابی الزامات کے درمیان معاملہ اس حد تک بڑھ گیا کہ انتظامیہ نے ایک فریق کے دباؤ میں آکر نہ صرف یکطرفہ کارروائیاں کرنی شروع کر دیں، بلکہ بعض مبینہ ہندو تنظیموں کے رہنماؤں کی جانب سے کھلے عام دھمکیاں دی جانے لگیں کہ ’’اس بار عید کے دن ہم اصلی ہولی کھیلیں گے۔‘‘ علاقے میں دھمکی آمیز سرگرمیاں جاری ہیں۔ اس دوران ڈی ایم سی کے ذریعہ بلڈوزر ایکشن بھی ہوا، جس پر سپریم کورٹ کے احکامات کی خلاف ورزی کے الزامات لگ رہے ہیں۔ علاقے کے امن پسند عوام ، جن میں بڑی تعداد میں ہندو بھی شامل ہیں، کا کہنا ہے کہ آپسی جھگڑے کو خواہ مخواہ طول دیکر جان بوجھ کر ماحول کو فرقہ وارانہ رنگ دیا گیا ہے۔ ناگفتہ بہ حالات کی وجہ سے متاثرہ خاندان کے ساتھ ساتھ علاقے کے تمام مسلمان خوفزدہ ہیں۔ کچھ لوگ عید منانے کے لئے علاقہ چھوڑنے پر مجبور ہو رہے ہیں۔ جمیعت علمائے ہند کے ایک وفد نے پچھلے دنوں اتم نگر پولیس کے اعلیٰ افسر سے ملاقات کی تھی۔ رپورٹ کے مطابق پولس افسر نے خاطر خواہ کارروائی کی یقین دہانی کی تھی، لیکن اب تک حالات معمول پر نہیں آ سکے ہیں۔ایسے میں یہ سوال اٹھتا ہے کہ کیا ایک معمولی جھگڑے کو اتنا بڑھا چڑھا کر پیش کر کے سماجی ہم آہنگی کو  اس طرح سے نقصان پہنچانا درست ہے؟
اسی طرح وارانسی میں گزشتہ روز گنگا ندی کے بیچ ناؤ پر افطار کرنے والے 14 مسلم نوجوانوں کی گرفتاری نے بھی تنازع کھڑا کر دیا۔ الزام ہے کہ انہوں نے چکن بریانی کھائی اور باقیات ندی میں پھینک دیں، جس سے ہندوؤں کی مذہبی جذبات کو ٹھیس پہنچی۔ بی جے پی یوتھ مورچہ کی شکایت پر درج مقدمے میں مذہبی جذبات مجروح کرنے کی دفعات لگائی کئی ہیں۔ تاہم بہت سے لوگ یہ پوچھ رہے ہیں کہ جب گنگا میں روزانہ صنعتی کچرا، سیوریج، چمڑے کے کارخانوں کا گندا پانی اور دیگر آلودگی بغیر کسی سزا کے پھینکے جاتے ہیں تو ایک افطار کی باقیات کو اتنا بڑا جرم کیوں بنا دیا گیا؟ یہ معاملہ بھی سیاسی اور مذہبی رنگ اختیار کر گیا ہے۔ ساتھ ہی ا سوشل میڈیا پر نفرت انگیز تبصرے بڑھ گئے۔
ظاہر ہے،یہ دونوں واقعات اس خطرناک رجحان کی طرف اشارہ کرتے ہیں کہ چھوٹے تنازعات کو بھی ان دنوں جلد ہی فرقہ وارانہ رنگ دے دیا جا رہا ہے۔ اس سے نہ صرف مسلمان کمیونٹی میں خوف اور عدم تحفظ کا احساس شدید ہو رہا ہے بلکہ پورے ملک کی سیکولر تصویر کو نقصان پہنچ رہا ہے۔ عید جیسے مقدس موقع پر جب پورے ملک کو خوشیوں میں شریک ہونا چاہئے، تب ایسے ماحول میں مسلمان خوفزدہ ہیں کہ کہیں عید کی نماز یا خوشیاں منانے میں خلل نہ پڑ جائے۔
عید کے دن کی عظمت اور بھارت کی دیرینہ روایت کےمدنظر انتظامیہ کو انتہائی سوجھ بوجھ اور ذمہ داری سے کام لینا چاہئے۔ پولیس اور مقامی حکام کو سخت نگرانی رکھنی چاہئے کہ کوئی بھی نفرت انگیز بیان، پوسٹر، جھنڈا  یا کارروائی امن کو متاثر نہ کرے۔ دھمکیاں دینے والوں کے خلاف فوری اور سخت قانونی کارروائی ضروری ہے تاکہ قانون کی حکمرانی کا پیغام جائے۔ حکومت کی بنیادی ذمہ داری ہے کہ آئین کے تحت ہر شہری کو وقار کے ساتھ جینے، اپنے تہوار منانے اور اپنی مذہبی آزادی کے آئینی حق کو استعمال کرنے دیا جائے۔ بھارت کی خوبصورتی اسی میں ہے کہ ہندو، مسلم، سکھ، عیسائی سب مل جل کر رہتے ہیں، ایک دوسرے کے تہواروں میں شریک ہوتے ہیں اور باہمی احترام کے ساتھ زندگی گزارتے ہیں۔سوشل میڈیا پر بھی امن پسند صارفین یہی مطالبہ کر رہے ہیں کہ ملک میں نفرت کی بجائے محبت، بھائی چارہ اور رواداری کو فروغ دیا جائے۔ عید محبت اور اتحاد کا تہوار ہے۔اسے خوف اور تقسیم کے سائے سے بھی دور رکھنے کی ضرورت ہے۔  اگر انتظامیہ اور سیاسی قیادت ذمہ داری سے کام لے تو یہ موقع ملک کی ہم آہنگی اور امن کی ایک خوبصورت مثال بن سکتا ہے۔
***********