تاثیر 26 مارچ ۲۰۲۶:- ایس -ایم- حسن
نئی دہلی۔ شنکر لال مرلی دھر میموریل سوسائٹی ، 4 اپریل 2026 بروز ہفتہ کو شام 7:00 بجے دہلی کے سب سے طویل عرصے تک چلنے والے عوامی مشاعرہ اپنی روایتی شان و شوکت کیلئے ایک بار منظر عام پر آنے کیلئےتیار ہے۔ ماڈرن اسکول، بارہ کھمبا روڈ میں منعقد ہونے والا 57 واں شنکر شاد مشاعرہ ایک روایت کو جاری رکھے ہوئے ہے جس نے 1954 سے شہر کے ثقافتی روایت کو برقرار رکھاہے۔ شنکر لال مرلی دھر میموریل سوسائٹی کے ذریعے ڈی سی ایم شری رام انڈسٹریز لمیٹڈ کے اشتراک سے منعقد کئے جانے والے، مشاعرے کو مشہور شاعر وسیم بریلوی اور لیجنڈری جاوید اختر رونق بخشیں گے۔ ان کے علاوہ شین کاف نظام، اقبال اشہر، راجیش ریڈی، شکیل اعظمی اور شبینہ ادیب ، چرن سنگھ بشر، اظہر اقبال، سنیل کمار تنگ، حنا حیدر رضوی، سیف نظامی اور زبیر علی تابش اپنا کلام پیش کریں گے۔ مشاعرہ سے قبل شنکر لال مرلی دھر میموریل سوسائٹی نے نئے ٹیلنٹ کی تلاش کیلئے ایک مقابلہ کا اہتمام کیا تھا۔ مقابلہ کے فاتحین کا اعلان 4 اپریل کو ہی مشاعرہ میں کیا جائے گا۔

اس سفر پر غور فرماتے ہوئے، شنکر لال مرلی دھر سوسائٹی کے چیئرمین اور ڈی سی ایم شری رام انڈسٹریز لمیٹڈ کے منیجنگ ڈائریکٹر شری مادھو بنسی دھر شری رام نے اشتراک کیا کہ شنکر شاد مشاعرہ ایک ایسی پناہ گاہ ہے جہاں ’’بے چین روح آخرکار اپنا عکس پاتی ہے‘‘۔ انہوں نے ذکر کیا کہ ہم ایک ایسی دنیا میں کیسے رہتے ہیں جو ایک وقفے کی قدر کو بالکل بھول چکی ہے۔ یہاں، ہم ایک جگہ فراہم کرتے ہیں جہاں الفاظ وجود کا وزن رکھتے ہیں اور خاموشی مقدس ہے۔ انہوں نے نوٹ کیا ’’شاعروں کے ایک ہندوستانی بھائی چارے کو اکٹھا کرکے، ہم اپنے قومی ورثے کے مختلف دھاگوں کو جوڑتے ہیں۔ یہ لمحہ ہر ہندوستانی کا ہے جس نے کبھی کسی کہانی میں سکون پایا ہے۔ ہم اپنی ثقافت کی سانسوں کی حفاظت کر رہے ہیں۔ یہ ایک روح ہے جو ہر کسی کی ہے۔
انہوں نے کہا کہ شنکر شاد مشاعرہ ایک زبان کو زندہ رکھنے کے وعدے کے طور پر شروع ہوا تھا اور آج یہ اس وعدے کو نبھانے میں ہماری مشترکہ ایمانداری کے دربان کے طور پر کھڑا ہے۔ جیسے جیسے آخری چراغ ٹمٹماتا ہے اور صفحہ پر سیاہی خشک ہوتی ہے، ہمیں احساس ہوتا ہے کہ کچھ آوازیں کبھی خاموش ہونے کے لیے نہیں ہوتیں۔ انہوں نے کہا کہ اردو شاعری کی تاریخ ایک ایسا دریا ہے جس نے صدیوں کے درد، خوبصورتی اور انقلاب کے ذریعے اپنی راہیں تراشی ہیں۔ یہ ادارہ اس بات کو یقینی بناتا ہے کہ دل کی سچائی ہمارے درمیان بنیادی پل رہے۔ شمع کی موجودگی میں ہم دیکھتے ہیں کہ ایک شمع کی روشنی پوری قوم کے دل کو منور کرنے کے لیے کافی ہے۔ چراغ جل گئے، کہانیاں اب منتظر ہیں۔

