عوام کا اعتماد برقرار رکھنے کی حکمت عملی

تاثیر 10 مارچ ۲۰۲۶:- ایس -ایم- حسن

بہار کے وزیراعلیٰ نتیش کمار کی حکمت عملی نے ریاست کی تیز رفتار سیاست پر فی الحال بریک لگا دیا ہے۔ان کی جانب سے راجیہ سبھا کے لئے پرچۂ نامزدگی داخل کرنے کے بعد سے ہی، اس سلسلے میں ان کی پر اسرارخاموشی سیاسی حلقوں میں بحث کا ایک نیا موضوع بنی ہوئی ہے۔ خاص طور پر’’ سمردھی یاترا ‘‘کے تیسرے مرحلے میں سپول ضلع کے نرملی میں کل دیے گئے تقریباً آدھے گھنٹے سے زیادہ کے طویل خطاب میں نتیش کمار نے اپنے ترقیاتی کاموں، قانون و انتظام اور گزشتہ 20 سال کی کامیابیوں کا تفصیلی ذکر کیا، مگر راجیہ سبھا جانے کے معاملے پر وہ بالکل خاموش رہے۔اس خاموشی سے اب یہ سوالات اٹھنے لگے ہیں کہ آخر نتیش کمار کیا سوچ رہے ہیں، ان کا اگلا قدم کیا ہوگا اور اپنی اس خاموشی کے ذریعہ وہ کون سا پیغام دینا چاہتے ہیں؟
ماہرین کا کہنا ہے کہ ’’سمردھی یاترا‘‘ کو محض این ڈی اے کی نئی حکومت کی حلف برداری میں تاخیر سے جوڑنا درست نہیں ہے۔ یہ یاترا نتیش کمار کی سیاسی حکمت عملی کا اہم حصہ ہے، جس کے ذریعے وہ عوام کے سامنے اپنی حکومت کی کارکردگی کو پیش کر رہے ہیں۔ نرملی کے جلسے میں انھوں نے 2005 سے پہلے کے بہار کی صورتحال کا ذکر کرتے ہوئے قانون و انتظام کی خرابی، خوف اور عدم تحفظ پر بات کی اور دعویٰ کیا کہ ان کی حکومت نے ریاست میں امن و امان قائم کیا، تعلیم، صحت اور بنیادی ڈھانچے میں بہتری لائی۔ یہ وہی بیانیہ ہے جو نتیش کمار برسوں سے استعمال کرتے آئے ہیں۔ مگر راجیہ سبھا کے معاملے پر ان کی خاموشی نے پارٹی کے اندر اور باہر چہ میگوئیوں کو ہوا دے دی ہے۔
اِدھرجے ڈی یو کے اندر ناراضگی عروج پر ہے۔ پارٹی کی کئی میٹنگز میں صرف محدود اراکین ہی شریک ہوئے، جبکہ 69 سے زائد ایم ایل اے غیر حاضر رہے۔دوسری جانب پارٹی کے اندر سے ہی وقتاََ فوقتاََ دبی زبان سے ’’نتیش کمار اور لالو یادو زندہ باد ‘‘  جیسے نعرے لگنے سے بی جے پی کی حکمت عملی پر بھی سوال اٹھ رہے ہیں۔ نتیش کمار کے بیٹے نشانت کمار کی جے ڈی یو میں شمولیت نے بھی نئی بحثیں جنم دی ہیں۔ کچھ لوگ انہیں مستقبل میں بڑی ذمہ داری، حتیٰ کہ نائب وزیراعلیٰ یا وزیراعلیٰ کے طور پر دیکھ رہے ہیں۔ پارٹی کے اندر یہ تاثر ہے کہ نتیش کمار راجیہ سبھا جائیں گے تو ریاست میں بی جے پی کا وزیراعلیٰ بن سکتا ہے، جو این ڈی اے کے اندر نئی کشمکش کا باعث بن سکتا ہے۔
یہاں یہ یاد رکھنا ضروری ہے کہ 2020 کے بہار اسمبلی انتخابات میں نتیش کمار اور جے ڈی یو نے عوام سے کئی اہم وعدے کیے تھے۔’’سات نشچے‘‘  کے دوسرے مرحلے کے تحت نوجوانوں کو روزگار، خواتین کی ترقی، تعلیم اور صحت کے شعبوں میں بہتری، خود انحصاری، بنیادی ڈھانچے کی ترقی اور غریبوں کی فلاح جیسے وعدے شامل تھے۔ جے ڈی یو کے منشور میں نوجوانوں کے لئے لاکھوں نوکریاں، مہارت کی تربیت، مفت وائی فائی، نل کا جل یوجنا اور دیگر ترقیاتی منصوبوں کا وعدہ تھا۔ این ڈی اے کی حکومت نے ان وعدوں پر کچھ حد تک عمل کیا، جیسے قانون و انتظام میں بہتری اور ترقیاتی کام، مگر بے روزگاری، غربت اور پسماندہ علاقوں کی ترقی جیسے مسائل اب بھی حل طلب ہیں۔ عوام کی اکثریت نے اِنھی وعدوں پر اعتماد کر کے ووٹ دیا تھا، اور اب جب نتیش کمار راجیہ سبھا جانے کے لئے تیار ہیں تو یہ سوال اٹھنے لگا ہے کہ جن لوگوں نے نتیش کمار کے چہرے پر این ڈی اے کو بھاری اکثریت سے بہار کے اقتدار کی باگ ڈور سونپی ہے، ان کو کون مطمٔن کرے گا ؟
سیاسی مبصرین کا خیال ہے کہ نرملی میں راجیہ سبھا کا ذکر نہ کرنا ایک سوچی سمجھی حکمت عملی ہے۔ نتیش کمار عوام کو یہ یقین دلانا چاہتے ہیں کہ وہ بہار سے مکمل طور پر الگ نہیں ہو رہے۔ وہ ترقیاتی کاموں، قانون و انتظام اور گزشتہ دو دہائیوں کی کامیابیوں پر توجہ دے کر یہ پیغام دے رہے ہیں کہ ان کی ترجیح اب بھی ریاست کی فلاح و بہبود ہے۔اس حکمت عملی کا ایک اہم پہلو پارٹی کے اندر ناراضگی کو کم کرنا ہے۔ نتیش کمار نے جے ڈی یو کے ایم ایل اے اور کارکنوں کو یقین دلایا ہے کہ وہ راجیہ سبھا کے انتخابات کے نتیجے تک وزیراعلیٰ کی کرسی پر برقرار رہیں گے۔
واضح رہے کہ آج سے چار دنوں کے بعد 16 مارچ کو بہار کی پانچ ریاست سبھا سیٹوں کے لئے ووٹنگ ہوگی اور اسی دن نتائج بھی سامنے آ جائیں گے۔ کامیاب ہونے کے باوجود نتیش کمار اور دیگر نو منتخب اراکین 10 اپریل 2026 سے پہلے راجیہ سبھا کی رکنیت قبول نہیں کر سکیں گے، کیونکہ موجودہ اراکین کی مدت ختم ہونے کے بعد ہی نئی رکنیت شروع ہوتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ناراض کارکنوں اور ایم ایل ایز کو یہ یقین دہانی کی گئی ہے کہ ابھی تقریباً ایک ماہ کا وقت باقی ہے۔ اس دوران وہ حکومت اور پارٹی دونوں کو مزید مستحکم کر سکیں گے۔ ساتھ ہی’’ سب کچھ ٹھیک ہو جائے گا ‘‘کی یقین دہانی کے ساتھ انھوں نے بالکل فکر نہیں کرنے کی تلقین کی ہے۔حالانکہ نتیش کمار کے بیٹے نشانت کمار کی انٹری نے پارٹی کے اندر ہلچل ضرور پیداکی ہے۔ کچھ لوگ انہیں ریاست کے نائب وزیراعلیٰ کے ساتھ ساتھ مستقبل میں پارٹی کے ایک بڑے ذمہ دار کے طور پر دیکھ رہے ہیں۔ظاہر ہے کچھ رہنماؤں کو نشانت کمار کی انٹری سے تھوڑی پریشانی محسوس ہو رہی ہے۔
بہر حال نتیش کمار کی خاموشی اور’’ سمردھی یاترا ‘‘کے ذریعے ان کا ترقیاتی بیانیہ عوامی اعتماد برقرار رکھنے کی کوشش ہے، جبکہ پارٹی کو منظم کرنے کی تیاری بھی جاری ہے۔ تاہم، 16 مارچ کے بعد ہی صحیح صورتحال سامنے آ سکے گی۔ ساتھ ہی یہ واضح ہو سکے گا کہ نتیش کمار واقعی راجیہ سبھا جاتے ہیں تو بہار میں قیادت کی تبدیلی کس طرح ہوگی اور بی جے پی کی کیا حکمت عملی ہوگی۔