تاثیر 05 مارچ ۲۰۲۶:- ایس -ایم- حسن
پٹنہ، 5 مارچ :)۔ بہار کی سیاست میں جمعرات کے روز اس وقت جذباتی اور شدید مناظر اس وقت سامنے آئے جب وزیر اعلیٰ کی رہائش گاہ کے باہر حامیوں اور کارکنوں کی بڑی تعداد جمع ہو گئی۔ کارکنوں نے دعویٰ کیا کہ انہوں نے نتیش کمار کو قیادت کے عروج پر پہنچانے کے لیے برسوں تک جدوجہد کی تھی، لیکن اب انہیں اپنے کارکنوں سے مشورہ کیے بغیر راجیہ سبھا بھیجنے کی بحث سے دکھ ہوا ہے۔
وزیر اعلیٰ کی رہائش گاہ کے باہر حامیوں نے بتایا کہ کارکنوں نے پارٹی کی تعمیر اور انتخابات میں کامیابی کو یقینی بنانے کے لیے طویل جدوجہد کی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ کارکنوں کو کئی بار لاٹھی چارج کا سامنا کرنا پڑا، گھر گھر جا کر صرف نتیش کمار کے نام پر ووٹ مانگے۔ لہٰذا اگر قیادت کی سطح پر کوئی بڑا فیصلہ کیا جائے تو کارکنوں سے مشورہ کی جانی چاہیے تھی۔
ملاقات کے دوران بہت سے کارکن جذباتی دکھائی دے رہے تھے، کچھ کی آنکھوں میں آنسو بھی تھے۔ انہوں نے کہا کہ انہوں نے لیڈروں کے لیے نہیں بلکہ صرف نتیش کمار کے لیے حمایت مانگی ہے۔ اس لیے اگر کوئی بڑا فیصلہ کیا جائے تو کارکنوں کو بلا کر ان کی رائے لینا ضروری ہے۔
سیاسی حلقوں میں ان دنوں یہ گونج بڑھ رہی ہے کہ نتیش کمار قومی سیاست کا رخ کر سکتے ہیں۔ اس سلسلے میں جمعرات کے روزوہ بہار اسمبلی پہنچے اور راجیہ سبھا انتخابات کے امیدوار کے طور پر اپنا پرچہ نامزدگی داخل کئے۔ اس پیش رفت نے ریاست کی سیاست میں ایک نئی ہلچل مچا دی ہے۔
نتیش کمار راجیہ سبھا میں گئے تو بہار کے نئے وزیر اعلیٰ کو لے کر سیاسی سرگرمیاں بھی تیز ہو گئی ہیں۔ اقتدار کی گلیاروں میں کئی نام زیر بحث ہیں۔ ریاست کے نائب وزیر اعلیٰ اور وزیر داخلہ سمراٹ چودھری اور مرکزی وزیر نتیا نند رائے کو ممکنہ دعویدار کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔

