تاثیر 08 مارچ ۲۰۲۶:- ایس -ایم- حسن
حیدرآباد، 08 مارچ : ۔تلنگانہ ہائی کورٹ نے سرکاری معاہدے کے تحت کام انجام دینے والے ٹھیکیداروں کوبلوں کی ادائیگی کی ہدایت دینے والے اپنے سابقہ احکامات کونافذ کرنے میں حکومت کی ناکامی پرسخت ناراضگی کا اظہارکیا ہے۔عدالت نے تاخیر پر محکمہ خزانہ سے سوال کیا اورکہا کہ اگر حکومت زیر التواء بلوں کی ادائیگی میں ناکام رہی توٹھیکیداراپنے ملازمین کو تنخواہیں کیسے دے سکتے ہیں۔حکومت نے دلیل دی کہ وہ ٹھیکیداروں کے بل ادا نہیں کرسکتی کیونکہ اسے سرکاری ملازمین کو تنخواہوں کی ادائیگی کو ترجیح دینا تھی۔ تاہم عدالت نے اس وضاحت کومسترد کردیا۔ عدالت نے ذاتی حاضری سے استثنیٰ کی درخواست خارج کردی۔عدالت نے محکمہ خزانہ کے پرنسپل سکریٹری سندیپ سلطانیہ کی طرف سے دائر درخواست کو بھی خارج کردیا جس میں توہین عدالت کیس میں ذاتی حاضری سے استثنیٰ کی درخواست کی گئی تھی۔یہ مسئلہ اس وقت پیدا ہوا جب این سی سی لمیٹڈ نے مشن بھگیرتا کے تحت پینے کے پانی کی اسکیموں کی تعمیر اوردیکھ بھال سے متعلق بلوں میں 180.17 کروڑ روپے کی عدم ادائیگی کو چیلنج کرتے ہوئے ہائی کورٹ میں ایک عرضی دائرکی۔ یہ کام سری سیلم پروجیکٹ سے چیوڑلہ، وقارآباد، پرگی، تانڈور اور مہیشورم کے حلقوں میں پینے کے پانی کی فراہمی کے لیے کیے گئے تھے۔

