تاثیر 02 مارچ ۲۰۲۶:- ایس -ایم- حسن
غازی آباد، 2 مارچ :۔ اتر پردیش کے غازی آبادمیں یوٹیوبر سلیم واستوک پر جان لیوا حملہ کرنے والے دو حملہ آوروں میں سے ایک کو پولیس نے انکاونٹر میں ہلاک کر دیا ہے۔ ان کی گرفتاری پر ایک لاکھ روپے انعام کا اعلان کیا گیا تھا۔ اتر پردیش کے وزیر اعلیٰ نے ذاتی طور پر واقعے کا نوٹس لیتے ہوئے پولیس کو سخت کارروائی کا حکم دیا تھا۔ تصادم میں دو پولیس اہلکار بھی مارے گئے۔غازی آباد کے پولیس کمشنر جے رویندر گوڈ نے بتایا کہ گزشتہ جمعہ کو موٹر سائیکل پر سوار دو ہیلمٹ پہنے دو بدمعاشوں نے لونی تھانہ علاقہ کے علی گارڈن کالونی میں واقع دفتر میں سلیم واستوک کا گلا کاٹنے کے بعدچاقو سے ان کے پیٹ میں بار بارحملہ کرکے زخمی کر دیا تھا۔انہوں نے بتایا کہ کیس کی تفتیش کر رہی غازی آباد پولیس کو اتوار کی رات دیر گئے معلوم ہوا کہ سلیم واستوک پر قاتلانہ حملہ کرنے والے ملزم ایک اور بڑا جرم کرنے کے لیے لونی کے علاقے میں آئے ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ اطلاع کی بنیاد پر پولیس نے بدمعاشوں کی تلاش شروع کی، تب ہی دو بائک پر سوار کچھ بدمعاش آتے ہوئے نظر آئے۔ انہوں نے کہا کہ جب پولیس نے بدمعاشوں کو رکنے کا اشارہ کیا تو انہوں نے پولیس پارٹی پر قتل کرنے کی نیت سے فائرنگ کردی۔ جوابی کارروائی میں پولیس نے فائرنگ کی۔ گولی لگنے سے ایک بدمعاش زخمی ہوگیا۔ اسے علاج کے لیے اسپتال میں داخل کرایا گیا جہاں علاج کے دوران اس کی موت ہوگئی۔انہوں نے بتایا کہ اس کی شناخت ذیشان (27 سال) کے طور پر ہوئی ہے جو امروہہ ضلع کا رہنے والا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ ان کا ایک ساتھی موقع سے فرار ہو گیا۔

