تاثیر 05 مارچ ۲۰۲۶:- ایس -ایم- حسن
بہار کی سیاست میں ایک بڑا یوٹرن آ گیا ہے۔ محض 105 دن پہلے دسویں بار وزیراعلیٰ کی حیثیت سے حلف اٹھانے والے نتیش کمار نے ، ایک عجیب سی سیاسی ہلچل کے درمیان کل بذات خود یہ اعلان کر دیاکہ وہ راجیہ سبھا کے لئے نامزدگی دائر کر رہے ہیں اور اس کے تھوڑی دیر بعد پرچہ داخل بھی ہو گیا ۔ظاہر ہے یہ فیصلہ نہ صرف ان کی طویل سیاسی زندگی کا ایک اہم موڑ ہے بلکہ بہار کی سماجوادی سیاست کے ایک بڑے باب کا اختتام بھی ہے۔ نتیش کمار، جو جے پی تحریک سے ابھرے اور لالو یادو، شرد یادو، رام ولاس پاسوان جیسے رہنماؤں کے ساتھ مل کر سماجوادی سیاست کے ہندی ہارٹ لینڈ میں ایک مضبوط ستون بنے، اب فعال حکمرانی سے الگ ہو کر پارلیمانی زندگی کی طرف جا رہے ہیں۔ یہ تبدیلی بہار کی سیاست میںسماجوادی سیاست کے آخری مرحلے کی عکاس ہے۔یعنی ایک خوشگوار دور اختتام کے دہانے پر ہے اور نئی قیادت بہار کی کمان سنبھالنے کے لئے پر جوش ہے۔ماہرین کا خیال ہے کہ ریاست کی موجودہ صورتحال قطعی حیرت انگیز نہیں ہے۔ گزشتہ اسمبلی انتخابات کے نتائج کے بعد سے ہی بہار کی سیاسی دیوار پر یہ عبارت لکھ دی گئی تھی۔
75 سالہ نتیش کمار کی صحت اور جے ڈی یو کی اندرونی کشمکش کے حوالے سے پچھلے کئی ماہ سے یہ اشارے مل رہے تھے کہ وہ جلد ہی فعال سیاست سے الگ ہو سکتے ہیں۔ تاہم، یہ دن اتنا جلدی آئے گا، کسی کو یقین نہیں تھا۔ 2025 کے اسمبلی انتخابات میں این ڈی اے کی شاندار جیت کے بعد نتیش کمار کو دسویں بار وزیراعلیٰ بنایا گیا تھا، اور سب کو لگ رہاتھا کہ وہ کم از کم مزید ایک مکمل معیاد پوری کریں گے۔ لیکن نتیش کمار نے خود اپنی مرضی سے راجیہ سبھا جانے کی خواہش ظاہر کر کے اس سلسلے کی ممکنہ تمام تر چہ میگوئیوں پر بریک لگانے کی کوشش کی ہے۔انہوں نے کل سوشل میڈیا پر پوسٹ کر کے کہا کہ پارلیمانی زندگی شروع کرنےکے وقت سے ہی ان کی یہ دلی خواہش تھی کہ وہ بہار اسمبلی کے دونوں ایوانوں اور پارلیمنٹ کے دونوں ایوانوں کا رکن بنیں۔ انہوں نے نئی حکومت کو مکمل تعاون اور رہنمائی کا یقین دلایا ہے۔
تاہم، ان کی یہ دلیل جے ڈی یو کے ایک بڑے طبقے کو قبول نہیں ہے ۔ کل صبح جیسے کی یہ خبر نکل کر باہر آئی ،پارٹی کے کارکنوں میں غم و غصہ کی لہر دوڑ گئی۔ پٹنہ میں جے ڈی یو آفس میں توڑ پھوڑ، وزیراعلیٰ رہائش گاہ کے باہر ہزاروں کارکنوں کا احتجاج، روتے بلکتے مظاہرے، اور حتیٰ کہ خودکشی کی دھمکیاں تک دی گئیں۔ کارکنان نعرے لگا رہے تھے کہ ’’ہم جان دے دیں گے لیکن نتیش کمار کو نہیں جانے دیں گے‘‘۔ ان کا الزام ہے کہ پارٹی کے کچھ سینئر لیڈروں نے سازشاََ نتیش کمار کو بہار کی سیاست سے ہٹانے کی کوشش کی ہے۔ا س وقت جے ڈی یو کے چند لیڈروں کے خلاف نعرے بھی لگائے گئے۔ کئی کارکنوں نے اسے’’سیاسی اغوا‘‘ قرار دیا۔
بعض لوگوں کا ماننا ہے کہ یہ صورتحال ابھی بھی غیر یقینی ہے۔سیاست کبھی بھی کوئی نئی کروٹ بدل سکتی ہے۔ اگرچہ نتیش کمار نے نامزدگی دائر کر دی ہے۔اس وقت امت شاہ جیسے مرکزی لیڈر موجود تھے۔اس کے باوجود جے ڈی یو کے اندرونی دباؤ اور کارکنوں کی ناراضگی سے یہ امکان موجود ہے کہ فیصلہ تبدیل ہو سکتا ہے۔ تاہم، موجودہ رجحانات سے لگتا ہے کہ نتیش کمار کا راجیہ سبھا جانا تقریباً طے ہے، جس سے بہار میں پہلی بار بی جے پی کا وزیراعلیٰ بننے کا راستہ کھل جائے گا۔ این ڈی اے میں بی جے پی 89 سیٹوں کے ساتھ سب سے بڑی پارٹی ہے۔جبکہ جے ڈی یو کی 85 سیٹیں ہیں۔ نتیش کمار کے جانے سے جے ڈی یو پہلی بار بیک سیٹ پر آ جائے گی، اور بی جے پی ہندی ہارٹ لینڈ کے آخری قلعے کو فتح کر لے گی۔
مانا جا رہا ہے کہ سماجوادی سیاست کے حاملین کے لئے یہ ایک افسوسناک لمحہ ہے۔ نتیش کمار نے لالو یادو کے ساتھ مل کر سماجوادی، پسماندہ اور اقلیتی ووٹ بینک کو مضبوط کیا تھا۔ ان کی سیاست نے بہار کو مبینہ’’ جنگل راج‘‘ سے نکال کر ترقی کی راہ پر ڈالا، لیکن اب یہ دور ختم ہو رہا ہے۔ لالو یادو صحت اور قانونی مسائل کی وجہ سے غیر فعال ہیں۔ شرد یادو، رام ولاس پاسوان اور سوشیل کمار مودی جیسے رہنما گزر چکے ہیں۔ایسے میں نتیش کمار کا جانا سماجوادی سیاست کے اس گروپ کے آخری بڑے چہرے کاختم ہونا ثابت ہوگا۔ مخالفین جیسے تیجسوی یادو اور کانگریس نے اسے’’لوگوں کے مینڈیٹ کے ساتھ دھوکہ‘‘ اور’’بی جے پی کی سازش‘‘ قرار دیا ہے، جو او بی سی اور پسماندہ قیادت کو کمزور کرنے کی کوشش ہے۔
یہ صحیح ہے کہ نتیش کمار نے اپنے سیاسی سفر میں کئی بار اتحاد بدلے، لیکن انھوں نے ہمیشہ بہار کی ترقی کو ترجیح دی۔ ان کا راجیہ سبھا جانا ایک دور کا باوقار اختتام ہے۔اب بی جے پی کی بالادستی، جے ڈی یو کے مستقبل اورجیسےنشانت کمار جیسی نئی نسل کی قیادت کے حوالے سے ریاست میں سیاست کے ایک نئے دور کا آغاز ہوگا۔بہار کی سیاست ہمیشہ غیر متوقع رہی ہے۔ آج بھی غیر متوقع ہے۔ دیکھنا یہی ہے کہ نتیش کمار کی جگہ اب کن کو دی جا رہی ہے۔ امروز و فردا میں تصویر صاف ہو جائے گی کہ بہار کی سیاست کا اگلا چہرہ کون ہوگا، کیسا ہوگا۔لیکن یہ طے ہے کہ بہار اپنے سیاسی رہنما نتیش کمار کو کبھی فراموش نہیں کر سکے گا۔
*********

