تاثیر 31 مارچ ۲۰۲۶:- ایس -ایم- حسن
جموں، 30 مارچ : جموں و کشمیر کے وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ نے پیر کے روز کہا کہ ان کی حکومت اخروٹ کے درختوں کی اندھا دھند کٹائی کی اجازت نہیں دے سکتی کیونکہ اس سے خطے کی معیشت اور شناخت کو شدید نقصان پہنچ سکتا ہے۔انہوں نے کہا کہ جموں و کشمیر ملک کی کل اخروٹ پیداوار کا 90 فیصد سے زائد حصہ فراہم کرتا ہے اور سالانہ تقریباً ساڑھے تین لاکھ ٹن اخروٹ کی پیداوار ہوتی ہے۔
وزیر اعلیٰ نے نیشنل کانفرنس کے رکن اسمبلی الطاف احمد وانی کی جانب سے پیش کیے گئے نجی بل کی مخالفت کی، جس میں جموں و کشمیر پریزرویشن آف اسپیسفائیڈ ٹریز ایکٹ میں ترمیم کر کے زمین مالکان کو اپنے کھیتوں میں اخروٹ کے درخت کاٹنے کی مکمل آزادی دینے کی تجویز دی گئی تھی۔
انہوں نے کہا کہ اگرچہ زمین اور درخت افراد کی ملکیت ہو سکتے ہیں، لیکن ان کی کٹائی پر پابندیاں معقول وجوہات، بشمول تحفظ اور طویل مدتی معاشی مفادات، کے پیش نظر عائد کی گئی ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ چنار کے درختوں کی طرح دیگر کئی اقسام کو بھی موجودہ قوانین کے تحت تحفظ حاصل ہے۔عمر عبداللہ نے خبردار کیا کہ اگر بغیر کسی پابندی کے درخت کاٹنے کی اجازت دی گئی تو لوگ اخروٹ کے درخت تو کاٹ دیں گے لیکن دوبارہ شجرکاری نہیں کریں گے، اور اس کے بجائے زمین کو تعمیرات کے لیے استعمال کیا جا سکتا ہے، جس سے اخروٹ کی پیداوار تقریباً ختم ہو سکتی ہے۔انہوں نے اجازت نامے کے عمل میں بدعنوانی سے متعلق خدشات کو تسلیم کرتے ہوئے کہا کہ جہاں بھی پابندیاں ہوتی ہیں وہاں ایسے مسائل پیدا ہوتے ہیں۔ انہوں نے تجویز دی کہ درختوں کی کٹائی کی اجازت کو پبلک سروسز گارنٹی ایکٹ کے تحت مقررہ وقت کے ساتھ لایا جائے تاکہ تاخیر اور بدعنوانی کو کم کیا جا سکے۔

