تاثیر 11 مارچ ۲۰۲۶:- ایس -ایم- حسن
مشرقِ وسطیٰ اس وقت ایک ایسے خطرناک موڑ پر کھڑا ہے،جہاں سے آگے بڑھنے والا ہر قدم پوری دنیا کو ایک بڑے بحران میں دھکیل سکتا ہے۔ امریکہ اور اسرائیل کی جانب سے ایران پر ہونے والے شدید حملوں کے بعد شروع ہونے والی جنگ اب بارہویں دن میں داخل ہو چکی ہے۔ میزائلوں اور ڈرونوں کی گھن گرج کے درمیان پورا خطہ عدم استحکام کی لپیٹ میں ہے۔ اس جنگ نے نہ صرف خطے کے ممالک بلکہ عالمی سیاست اور عالمی معیشت کو بھی شدید تشویش میں مبتلا کر دیا ہے۔
تازہ ترین رپورٹس سے اندازہ ہوتا ہے کہ ایران نے امریکی اور اسرائیلی حملوں کا سخت جواب دینا شروع کر دیا ہے۔ بعض مبصرین کے مطابق ایرانی میزائل حملوں نے خطے میں موجود امریکی فوجی ڈھانچے کو غیر معمولی نقصان پہنچایا ہے۔ بحرین، کویت، قطر اور سعودی عرب میں قائم امریکی فوجی اڈے جو کئی دہائیوں سے واشنگٹن کی عسکری حکمت عملی کا اہم ستون سمجھے جاتے تھے، اب براہ راست نشانے پر ہیں۔ اس صورتحال نے یہ سوال پیدا کر دیا ہے کہ کیا طاقت کے بل پر قائم کیا گیا فوجی توازن واقعی پائیدار ہو سکتا ہے؟
یہ بھی ایک قابلِ غور حقیقت ہے کہ امریکہ نے جنوبی کوریا سے اپنا جدید دفاعی نظام تھاڈ اور دیگر فوجی سازوسامان نکال کر مشرقِ وسطیٰ میں منتقل کرنا شروع کر دیا ہے۔ اس فیصلے نے نہ صرف جنوبی کوریا میں بے چینی پیدا کی ہے بلکہ عالمی سطح پر امریکہ کی عسکری ترجیحات پر بھی سوال اٹھا دیے ہیں۔ جنوبی کوریا کے سیاسی حلقوں میں یہ بحث شدت اختیار کر گئی ہے کہ اگر امریکہ اپنے اتحادیوں کے دفاعی نظام کو بھی اچانک تبدیل کر سکتا ہے تو اس کی عالمی سلامتی کی ضمانتیں کس حد تک قابلِ اعتماد ہیں۔
دوسری طرف خلیجی ممالک میں خوف اور بے یقینی کی فضا گہری ہوتی جا رہی ہے۔ قطر اور بحرین جیسے ممالک میں فضائی حملوں کے خطرے کے باعث ہائی الرٹ جاری کیا جا چکا ہے۔ دوحہ میں دھماکوں کی خبریں اور بحرین میں سائرن بجنے کے واقعات اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ جنگ اب صرف ایران اور اس کے مخالفین تک محدود نہیں رہی بلکہ پورا خطہ اس کی لپیٹ میں آ سکتا ہے۔ اس صورتحال نے عالمی توانائی کی ترسیل کو بھی خطرے میں ڈال دیا ہے کیونکہ آبنائے ہرمز دنیا کی تیل سپلائی کے لئے ایک نہایت اہم راستہ ہے۔
ایران کا مؤقف یہ ہے کہ اس پر ہونے والی فوجی کارروائیوں کے پیچھے اصل مقصد اس کے توانائی وسائل پر کنٹرول حاصل کرنا ہے۔ تہران کا کہنا ہے کہ اس کی مزاحمت صرف اپنی خودمختاری کے دفاع کے لئے نہیں بلکہ عالمی جنوب کے مفادات کے تحفظ کے لئے بھی ہے۔ اس دلیل سے اتفاق کیا جائے یا اختلاف، لیکن یہ حقیقت نظر انداز نہیں کی جا سکتی کہ مسلسل فوجی دباؤ اور پابندیوں نے خطے میں کشیدگی کو مزید بڑھایا ہے۔اسی دوران اس جنگ کے اثرات دنیا کے دوسرے حصوں تک بھی پہنچنے لگے ہیں۔ وطن عزیز بھارت سمیت کئی ممالک نے اپنے تجارتی جہازوں اور شہریوں کی حفاظت کے لئے ہنگامی اقدامات شروع کر دیے ہیں۔ فضائی حدود کی بندش کے باعث بین الاقوامی پروازیں متاثر ہو رہی ہیں اور عالمی تجارت میں خلل پیدا ہو رہا ہے۔ اگر یہ کشیدگی مزید بڑھتی ہے تو اس کے اقتصادی اثرات پوری دنیا کو اپنی لپیٹ میں لے سکتے ہیں۔
ایسے میں سب سے بڑا سوال یہ ہے کہ کیا دنیا اس تباہ کن راستے کو روکنے کے لئے کوئی مؤثر قدم اٹھائے گی؟ تاریخ گواہ ہے کہ جنگیں ہمیشہ تباہی اور انسانی المیے کو جنم دیتی ہیں۔ طاقت کے مظاہرے وقتی طور پر کسی فریق کو برتری تو دے سکتے ہیں لیکن وہ پائیدار امن کی ضمانت نہیں ہوتے۔چنانچہ آج ضرورت اس بات کی ہے کہ عالمی برادری فوری طور پر متحرک ہو اور جنگ بندی کے لئے سنجیدہ سفارتی کوششیں شروع کرے۔ اقوام متحدہ، علاقائی تنظیمیں اور بڑی عالمی طاقتیں اگر واقعی امن کی خواہاں ہیں تو انہیں طاقت کی سیاست سے اوپر اٹھ کر مذاکرات کا راستہ ہموار کرنا ہوگا۔
الغرض مشرقِ وسطیٰ کی یہ آگ صرف ایک خطے کا مسئلہ نہیں بلکہ پوری انسانیت کے مستقبل کا سوال ہے۔ اگر دنیا نے بروقت مداخلت نہ کی تو یہ بحران ایک ایسی جنگ میں تبدیل ہو سکتا ہے، جس کے اثرات آنے والی نسلیں بھی بھگتیں گی۔ اب وقت آ گیا ہے کہ عالمی ضمیر جاگے اور میزائلوں اور ڈرونوں کی گھن گرج کو خاموش کر کے امن کے راستے کو اختیار کیا جائے، کیوں کہ امن میں ہی بھلائی مضمر ہے۔
***********

