تاثیر 09 مارچ ۲۰۲۶:- ایس -ایم- حسن
بھاگلپور،09مارچ: بہار کے بھاگلپور ضلع کے نوگچھیا سب ڈویژن کے تحت بیہ پور بلاک کے جھنڈا پورتھانہ علاقہ واقع ہریو ترموہن مشری کوسی گھاٹ پراتوارکے روز نہاتے ہوئے تین نوجوان ڈوب گئے۔ مرنے والوں کی شناخت نین کمار عرف نینا (13 سال، ولد شنکر شرما)، یوراج کمار عرف پریتم (14 سال، ولد پنٹو یادو) اور لکشمن کمار (14 سال، ولد کیپٹن یادو) کے طور پر ہوئی ہے، جو ہریو پنچایت کے ہریو مہیش پور وارڈ نمبر 13 کے رہائشی ہیں۔معلومات کے مطابق تینوں گورنمنٹ مڈل اسکول ہریو مہیش پورکے طالب علم تھے۔ اتوارکے روزگاؤں کے تقریباً نصف درجن نوجوان مشری کوسی گھاٹ پر نہانے آئے تھے۔ تمام بچے ندی میں نہارہے تھے۔ اسی دوران نین کمار عرف نینا اچانک گہرے پانی میں چلا گیا اور ڈوبنے لگے۔ یوراج عرف پریتم اور لکشمن کمار اسے بچانے کے لیے آگے بڑھے لیکن پانی کی گہرائی کا صحیح اندازہ نہ ہونے کی وجہ سے وہ اپنا توازن کھو بیٹھے۔دوسرے بچے جو حادثے کے وقت ان کے ساتھ تھے وہ گھبرا گئے اور چیختے چلاتے گاؤں کی طرف بھاگے۔ انہوں نے گاؤں والوں کو واقعہ کی اطلاع دی۔ اطلاع ملتے ہی قریبی کھیتوں میں کام کرنے والے لوگ گھاٹ کی طرف بھاگے لیکن تب تک تینوں نوجوان ڈوب چکے تھے۔ گاؤں والوں کی بھیڑ گھاٹ پر جمع ہو گئی۔ واقعہ کی اطلاع ملتے ہی جھنڈا پورتھانہ پولیس موقع پر پہنچ گئی۔ بیہ پور کے سرکل افسر لوکوش کمار، ریور تھانہ افسر کیشو چندرا اور جھنڈا پورتھانہ انچارج پرشانت کمار بھی اپنی ٹیم کے ساتھ پہنچے۔ مقامی غوطہ خوروں کی مدد سے تلاش شروع کر دی گئی۔ بعد میں ایس ڈی آر ایف کی ٹیم نے ندی میں تلاشی مہم بھی چلائی۔ تقریباً چار گھنٹے کی محنت کے بعد تینوں نوجوانوں کی لاشیں شام 4 سے 5 بجے کے درمیان مسہری کوسی گھاٹ سے کچھ ہی فاصلے پر برآمد کی گئیں۔ حادثے کی اطلاع ملتے ہی جاں بحق افراد کے گھروں میں کہرام مچ گیا۔ گھر والے کوسی گھاٹ پہنچ گئے۔ اپنے بیٹوں کی لاشیں دیکھ کر ہر کوئی بے قرار ہوگیا۔ نین کمار تین بھائیوں میں سب سے چھوٹا اور چھٹی جماعت کا طالب علم تھا۔ یوراج کمار نویں جماعت کا طالب علم تھا ۔ لکشمن کمار بھی چھٹی جماعت کا طالب علم تھا اور پانچ بہن بھائیوں میں چوتھا تھا۔ یوراج اور لکشمن چچازاد بھائی تھے۔ ان کے والد روزگار کے سلسلے میں بیرون ملک کام کرتے ہیں۔ تھانہ انچارج کیشو چندرا نے بتایا کہ تین نوجوان کوسی ندی میں نہاتے ہوئے ڈوب گئے۔ لاشوں کو برآمد کرکے پوسٹ مارٹم کے لیے نوگچھیا کے سب ڈویژنل اسپتال بھیج دیا گیا۔ پولیس نے تفتیش شروع کر دی ہے۔ بیہ پور کے بلاک ڈیولپمنٹ افسر لوکش کمار نے اس واقعہ کو انتہائی افسوسناک قرار دیتے ہوئے کہا کہ مرنے والوں کے اہل خانہ کو سرکاری انتظامات کے تحت ڈیزاسٹر ریلیف فنڈ فراہم کیا جائے گا۔ انتظامیہ لواحقین کی ہر ممکن مدد کرے گی۔ ایسے حادثات سے بچنے کے لیے لوگوں سے ندی میں احتیاط برتنے کی اپیل کی گئی ہے۔ہندوستھان سماچار

