تاثیر 31 مارچ ۲۰۲۶:- ایس -ایم- حسن
کلکتہ، 30/مارچ (تاثیر بیورو) تعلیم اور روزگار کے قابل مہارتوں کے درمیان بڑھتے ہوئے فرق کے پیش نظر کلکتہ کا اے جی ووکیشنل اسکول نوجوانوں کو ہنر مند بنا کر ایک مثبت سماجی تبدیلی لا رہا ہے۔ 1964 سے منسلک تعلیمی روایت کے ساتھ یہ ادارہ نوجوانوں کو عملی اور صنعت سے ہم آہنگ تربیت فراہم کر رہا ہے۔بھارت میں نوجوانوں کی بڑی تعداد کے باوجود ہنر کی باضابطہ تربیت تک رسائی محدود ہے۔ ایسے میں اے جی ووکیشنل اسکول خاص طور پر کلکتہ جیسے شہری علاقوں میں معاشی اور تعلیمی رکاوٹوں کا سامنا کرنے والے نوجوانوں کو مواقع فراہم کر رہا ہے۔1987 میں قائم اس ادارے کے ووکیشنل شعبے نے اب تک 10 ہزار سے زائد افراد کی زندگیوں پر مثبت اثر ڈالا ہے۔ ٹنگرا میں واقع یہ ادارہ پردھان منتری کوشل وکاس یوجنا اور پچھم بنگ سوسائٹی فار اسکل ڈیولپمنٹ کے اشتراک سے ہنر مندی کو فروغ دے رہا ہے۔ادارے میں 14 سے زائد سرٹیفائیڈ کورسز پیش کیے جاتے ہیں، جن میں بیوٹی اینڈ ویلنس، ٹیلرنگ، کمپیوٹر و آئی ٹی اور ہاسپیٹیلٹی شامل ہیں۔ طلبہ کو عملی تربیت کے ساتھ ملازمت کے مواقع بھی فراہم کیے جاتے ہیں۔ ادارہ نہ صرف ہنر کی تربیت دے رہا ہے بلکہ غربت کے خاتمے، معاشی خودمختاری اور بااعتماد نوجوانوں کی تیاری میں بھی اہم کردار ادا کر رہا ہے۔اپریل 2026 کے نئے بیچ کے لیے داخلے جاری ہیں، جن میں فوڈ اینڈ بیوریج پروڈکشن اینڈ سروسز کا ایک سالہ کورس خاص اہمیت رکھتا ہے۔ ادارہ سی ایس آر پروگراموں اور انڈسٹری شراکت داری کے لیے بھی دعوت دے رہا ہے تاکہ زیادہ سے زیادہ نوجوان اس سے مستفید ہو سکیں۔

