تاثیر 18 مارچ ۲۰۲۶:- ایس -ایم- حسن
حیدرآباد، 18 مارچ :تلنگانہ اسمبلی اجلاس کے دوران بی آر ایس کے ورکنگ صدر کے ٹی آر اور نائب وزیراعلی بھٹی وکرمارکا کے درمیان شدید لفظی جنگ دیکھنے کو ملی۔ معاملہ خواتین کے گروپس کو دئیے گئے بلا سودی قرض کے دعوؤں پر شروع ہوا جو بعد میں سیاسی الزام تراشی اور چیلنج تک پہنچ گیا۔ کے ٹی آر نے اسمبلی میں گورنر کے اظہار تشکر مباحث میں حصہ لیتے ہوئے نا ئب وزیراعلی کو چیلنج کیا اور کہا کہ اگر 57 ہزار کروڑ روپئے کے سود سے پاک قرضے دینے سے متعلق جی او یا آرڈر کاپی بطور ثبوت پیش کی جائے تو وہ فوری اسمبلی کی رکنیت سے مستعفی ہوجائیں گے۔
انہوں نے الزام عائد کیا کہ حکومت جھوٹ کا سہارا لیتے ہوئے اسمبلی اورعوام کو گمراہ کر رہی اور کہا کہ ریاست کی خواتین اس معاملے کو بغور دیکھ رہی ہیں۔ اس پر ردعمل ظاہر کرتے ہوئے نا ئب وزیراعلی بھٹی وکرامارک نے کے ٹی آر پرسخت تنقید کی۔ انہوں نے کہا کہ بی آر ایس نے اپنے 10 سالہ دور حکومت میں خواتین کو حقیقی معنوں میں با اختیار بنانے کچھ بھی نہیں کیا۔ نا ئب وزیراعلی نے بی آر ایس ورکنگ صدر کے انداز گفتگو پر اعتراض کرتے ہوئے اس کو ریاست کی خواتین کی توہین کے مترادف قرار دیا۔

